یمن میں جاری خانہ جنگی کے دوران، سعودی عرب کی حمایت یافتہ حکومت نے ایک نئے فوجی آپریشن کا اعلان کیا ہے جس کا مقصد حوثی باغیوں کے زیر قبضہ تمام علاقوں کو واپس لینا ہے۔ یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حوثی باغیوں نے ایک اہم سپلائی روٹ کو کاٹ کر ایک محصور شہر کو مزید تنہا کر دیا ہے۔
حکومتی آپریشن کا آغاز
یمن کے صدارتی کونسل کے سربراہ راشد العلیمی نے اتوار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ ریاست کی رٹ کو پورے ملک میں بحال کرنے کے لیے فوجی کارروائی کا آغاز کر رہے ہیں۔ یہ اعلان یمنی حکومت کے لیے ایک بڑا دعویٰ ہے جو حال ہی میں بحیرہ احمر کے ساحل اور باب المندب کے اہم بحری راستے کے بڑے حصے حوثیوں کے ہاتھوں گنوا چکی ہے۔
- راشد العلیمی نے ریاست کی رٹ کو پورے ملک میں بحال کرنے کے لیے فوجی کارروائی کا اعلان کیا۔
- حکومت کا مقصد حوثی باغیوں کے زیر قبضہ تمام علاقوں کو واپس لینا ہے۔
- یہ آپریشن یمنی حکومت کے لیے ایک اہم اور مشکل چیلنج ہے۔
- حوثیوں نے حال ہی میں بحیرہ احمر کے ساحل اور باب المندب کے راستے پر قبضہ کیا ہے۔
حوثیوں کی نئی پیش قدمی
حوثی باغیوں نے حکومت کے اعلان سے چند گھنٹے قبل، محصور شہر تعز کو حکومت کے عبوری دارالحکومت عدن سے ملانے والے ایک اہم سپلائی روٹ کو کاٹ دیا ہے۔ چار سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، حوثیوں نے علاقے میں شدید لڑائی کے بعد الصفیہ کے علاقے پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور وہاں سے مرکزی سڑک کاٹ دی ہے۔
یمنی فوج کے تین ذرائع نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ حوثیوں نے الصفیہ کے علاقے اور سپلائی روٹ پر قبضہ کر لیا ہے، جس کے باعث ٹریفک معطل ہو گئی ہے اور اب وہ تعز شہر کا محاصرہ کر چکے ہیں۔
تعز میں شدید لڑائی
ذرائع نے بتایا ہے کہ تعز کے مغربی صوبے میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ہونے والی لڑائی میں 70 سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے ذرائع کے مطابق، 34 حکومتی فوجی ہلاک ہوئے، جن میں سے 20 ہمسایہ صوبے لحج کے کنارے پر مارے گئے۔
دوسری جانب، حوثی فوجی ذرائع نے بتایا ہے کہ تعز اور لحج کے سرحدی علاقوں میں لڑائی کے دوران ان کے 39 جنگجو ہلاک ہوئے۔ تعز شہر خود حکومتی فورسز کے کنٹرول میں ہے لیکن شمالی، مشرقی اور مغربی سمت سے حوثی جنگجوؤں نے اس کا طویل عرصے سے محاصرہ کر رکھا ہے، جو اسے یمن کی طویل خانہ جنگی کا ایک اہم محاذ بناتا ہے۔
حوثیوں کے حملے
حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے اتوار کو بتایا کہ گروپ نے بیلسٹک میزائل داغے ہیں۔ اس سے قبل، حوثیوں نے حالیہ ہفتوں میں سعودی عرب کو نشانہ بنانے کا سلسلہ تیز کر دیا تھا، اور اتوار کو یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ انہوں نے دارالحکومت میں تیل کی تنصیبات پر دوبارہ حملہ کیا ہے۔
سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات پر زور
حوثی باغیوں کے بڑھتے ہوئے حملوں کے پیش نظر، سعودی عرب پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ متحدہ عرب امارات کے ساتھ مفاہمت کرے تاکہ یمن میں حوثی علیحدگی پسندوں کو پیچھے دھکیلا جا سکے۔
بین الاقوامی ردعمل اور خدشات
یمن میں جاری تنازع اور حوثیوں کی پیش قدمی نے بین الاقوامی برادری کے لیے تشویش پیدا کر دی ہے۔ باب المندب جیسے اہم بحری راستے پر حوثیوں کے کنٹرول سے عالمی تجارت اور سلامتی کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ سعودی عرب کی حمایت یافتہ حکومت کی جانب سے نئے فوجی آپریشن کا اعلان صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔
نتیجہ
یمن میں جاری خانہ جنگی ایک نازک موڑ پر پہنچ گئی ہے جہاں سعودی حمایت یافتہ حکومت نے حوثیوں کے خلاف ایک بڑے فوجی آپریشن کا اعلان کیا ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حوثی باغی اہم سپلائی روٹس پر قابض ہو کر تعز شہر کو مزید تنہائی کا شکار کر رہے ہیں۔ تعز میں شدید لڑائی اور دونوں طرف سے ہونے والی ہلاکتیں صورتحال کی سنگینی کو ظاہر کرتی ہیں۔ حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں میں اضافہ اور ان کے بیلسٹک میزائلوں کا استعمال خطے میں عدم استحکام کو بڑھا رہا ہے۔ بین الاقوامی برادری اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے کیونکہ باب المندب جیسے اہم بحری راستوں کی سلامتی اور عالمی تجارت پر اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
یمن میں امن کی بحالی کے لیے سیاسی حل کی اشد ضرورت ہے، تاہم فوجی کارروائیوں میں اضافہ اور فریقین کے درمیان بڑھتی ہوئی دشمنی امن کے امکانات کو مزید دھندلا کر رہی ہے۔ اس تنازع کا خاتمہ خطے کے امن و استحکام کے لیے انتہائی اہم ہے۔
اکثر پوچھے گئے سوالات
یمن میں کس کی حکومت ہے؟
یمن میں بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت ہے جسے سعودی عرب کی حمایت حاصل ہے، لیکن حوثی باغی ملک کے بڑے حصوں پر قابض ہیں اور دارالحکومت صنعا پر بھی ان کا کنٹرول ہے۔
باب المندب کا راستہ کیوں اہم ہے؟
باب المندب بحیرہ احمر اور بحرِ عرب کو ملانے والا ایک تنگ بحری راستہ ہے جو عالمی تجارت، خاص طور پر تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم ہے۔
حوثی کون ہیں؟
حوثی، جنہیں انصار اللہ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، یمن میں ایک شیعہ زیدی تحریک ہے جو ایران کی حمایت یافتہ سمجھی جاتی ہے۔
یمن میں جنگ کب شروع ہوئی؟
یمن میں خانہ جنگی کا آغاز 2014 میں ہوا جب حوثیوں نے دارالحکومت صنعا پر قبضہ کر لیا اور صدر عبد ربه منصور هادی کو ملک چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔