یوکرین نے روس کے سمارا ریجن میں واقع ایک اہم تیل کی تنصیب پر ڈرون حملہ کیا ہے — یہ کارروائی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے توانائی کے اہداف پر حملے روکنے کے دباؤ کے باوجود کی گئی۔ صدر ولادیمیر زیلنسکی نے اس سمارا ریفائنری حملہ کو روس کی جنگی معیشت کے خلاف “ٹھوس ردعمل” قرار دیا ہے، جبکہ روس نے کییف سمیت یوکرین کے متعدد شہروں پر فضائی حملوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔
اہم نکات
- صدر زیلنسکی نے تصدیق کی کہ یوکرینی فورسز نے سمارا ریجن میں سائزران آئل ریفائنری کو ڈرون حملوں سے نشانہ بنایا۔
- صدر ٹرمپ نے یوکرین سے روسی توانائی تنصیبات پر حملے روکنے کی اپیل کی تھی؛ زیلنسکی نے کہا کہ یوکرین اس شرط پر تیار ہے کہ روس بھی اپنے حملے روکے۔
- سمارا کے گورنر کے مطابق ڈرون حملوں میں ایک شخص ہلاک اور چار زخمی ہوئے۔
- روس نے کییف میں پٹرول اسٹیشنوں سمیت توانائی کے اہداف پر تقریباً 200 ڈرون داغے؛ سولومیانسکی ضلع میں ایک اسکول پر حملے کے وقت 100 سے زائد طلبہ اور 60 عملہ پناہ گاہ میں موجود تھے اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
- ایسٹونیا نے روسی اور بیلاروسی اناج کی ترسیل پر پابندی کا اعلان کیا؛ اٹلی نے اسپین کے ساتھ شینگن سے متعلق سرحدی کنٹرول میں 15 دن کی توسیع کر دی۔
سمارا ریفائنری پر یوکرینی ڈرون حملہ
یوکرینی اسپیشل فورسز کے مطابق کئی ڈرونز نے سائزران ریفائنری کو نشانہ بنایا، جس سے تنصیب میں بڑی آگ بھڑک اٹھی۔ سمارا ریجن دریائے وولگا کے کنارے واقع ہے اور یہاں کی ریفائنریاں روس کی معیشت اور اس کی جنگی مشین کے لیے ایندھن فراہم کرتی ہیں۔ اس سے قبل بھی یہی تنصیب جون میں یوکرینی ڈرون حملوں کا نشانہ بن چکی ہے۔
صدر زیلنسکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ “روس ہمارے توانائی کے شعبے، رسد اور اہم بنیادی ڈھانچے پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے، اور ہمارے جوابات ٹھوس ہیں۔” ان کے مطابق سائزران کے علاوہ ٹاگانروگ میں ڈرون پیداواری تنصیب اور اوریول ریجن میں ڈرون لانچ سائٹ کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
ٹرمپ کی جنگ بندی کی تجویز اور یوکرین کا جواب
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ یوکرین اور روس توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے روکنے پر متفق ہو گئے ہیں — ان کے بقول یہ حملے عالمی ایندھن کی قلت اور امریکہ میں ڈیزل کی ریکارڈ قیمتوں کی بڑی وجہ ہیں۔ مالیاتی ذرائع کے مطابق ٹرمپ نے صدر زیلنسکی سے فون پر روسی ریفائنریوں پر ڈرون حملے روکنے کی اپیل کی تھی۔

زیلنسکی نے جواب میں کہا کہ یوکرین توانائی تنصیبات پر حملے روکنے کے لیے تیار ہے، لیکن اس کے لیے شراکت داروں کی جانب سے قابلِ اعتبار ضمانتیں درکار ہیں کہ روس بھی رکے گا۔ سمارا پر تازہ حملہ اس بات کا اشارہ ہے کہ یوکرین ٹرمپ کے دباؤ کے باوجود اپنی “طویل فاصلے کی پابندیوں” کی حکمت عملی جاری رکھے گا۔ رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق دونوں فریق ایک دوسرے کے توانائی اہداف پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔
روس کے جوابی حملے: کییف میں اسکول اور توانائی کے اہداف

دوسری جانب روس نے یوکرین کے دارالحکومت کییف اور دیگر شہروں پر تقریباً 200 ڈرونز سے حملہ کیا، جس میں کییف کے پٹرول اسٹیشنز اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا۔ سولومیانسکی ضلع میں ایک روسی ڈرون ایک اسکول کی عمارت سے ٹکرایا، جس سے آگ بھڑک اٹھی — تاہم حملے کے وقت 100 سے زائد طلبہ اور تقریباً 60 عملہ پناہ گاہ میں موجود تھے اور ان میں سے کوئی زخمی نہیں ہوا۔
یوکرینی فضائیہ کے مطابق روس اب جیٹ انجن والے ڈرونز استعمال کر رہا ہے، جنہیں مار گرانا مشکل ہے، اور ان حملوں سے نمٹنے کے لیے یوکرین کو مزید فضائی دفاعی نظام درکار ہیں۔ کییف کے میئر ویتالی کلچکو کے مطابق اسکول کی عمارت کے اگلے حصے کو نقصان پہنچا اور ہنگامی عملے نے آگ پر قابو پا لیا۔
یورپ میں کشیدگی: اناج کی ترسیل اور سرحدی کنٹرول
خطے میں کشیدگی کے دیگر اشارے بھی سامنے آئے ہیں۔ ایسٹونیا کے وزیر خارجہ مارگس ساہکنا نے اعلان کیا کہ ایسٹونیا اپنی سرزمین سے روسی اور بیلاروسی اناج کی ترسیل پر پابندی عائد کر رہا ہے، کیونکہ روس بحیرہ اسود کی بندش کے بعد اناج کی برآمد کے لیے متبادل راستے تلاش کر رہا ہے۔
ادھر اٹلی نے اسپین سے آنے والے مسافروں کے لیے شینگن سے متعلق سرحدی کنٹرول میں مزید 15 دن کی توسیع کا اعلان کیا ہے، جبکہ پولینڈ نے جرمنی اور لتھووینیا کے ساتھ اپنی سرحدوں پر کنٹرول مارچ 2027 تک بڑھا دیے ہیں — یہ اقدامات غیر قانونی نقل مکانی اور علاقائی سلامتی کے خدشات کا عکاس ہیں۔ اس موضوع پر مزید واٹن نیوز کی عالمی خبریں دیکھیں۔
نتیجہ
سمارا ریفائنری پر حملہ ظاہر کرتا ہے کہ یوکرین روس کی جنگی معیشت کو نشانہ بنانے کی حکمت عملی سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں، چاہے واشنگٹن کا دباؤ کتنا ہی بڑھ جائے۔ توانائی کے اہداف پر حملوں کا یہ تبادلہ نہ صرف جنگ کی شدت بڑھا رہا ہے بلکہ عالمی ایندھن کی قیمتوں پر بھی دباؤ ڈال رہا ہے۔ آنے والے ہفتوں میں یہ واضح ہوگا کہ آیا ٹرمپ کی جنگ بندی کی تجویز کوئی ٹھوس شکل اختیار کرتی ہے یا توانائی کی جنگ مزید تیز ہوتی ہے۔ اسی کہانی کا واٹن نیوز اردو صفحہ بھی ملاحظہ کریں۔
اکثر پوچھے گئے سوالات
سمارا میں کس تنصیب کو نشانہ بنایا گیا؟
یوکرینی فورسز نے سمارا ریجن میں سائزران آئل ریفائنری کو ڈرون حملوں سے نشانہ بنایا، جس سے وہاں بڑی آگ بھڑک اٹھی۔ اس سے قبل کوئبیشیو ریفائنری کو بھی نشانہ بنایا جا چکا ہے۔
صدر ٹرمپ نے یوکرین سے کیا اپیل کی تھی؟
صدر ٹرمپ نے صدر زیلنسکی سے روسی توانائی تنصیبات اور ریفائنریوں پر ڈرون حملے روکنے کی اپیل کی تھی، کیونکہ ان کے بقول یہ حملے عالمی ایندھن کی قلت اور امریکہ میں ڈیزل کی ریکارڈ قیمتوں کی وجہ بن رہے ہیں۔
زیلنسکی نے ٹرمپ کی تجویز کا کیا جواب دیا؟
زیلنسکی نے کہا کہ یوکرین توانائی تنصیبات پر حملے روکنے کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ شراکت دار یہ قابلِ اعتبار ضمانت دیں کہ روس بھی اپنے حملے روکے گا۔
کییف کے اسکول پر حملے میں کیا ہوا؟
ایک روسی ڈرون کییف کے سولومیانسکی ضلع میں ایک اسکول سے ٹکرایا اور آگ لگ گئی، لیکن حملے کے وقت 100 سے زائد طلبہ اور 60 عملہ پناہ گاہ میں تھے اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
ایسٹونیا نے اناج کی ترسیل پر پابندی کیوں لگائی؟
ایسٹونیا نے روسی اور بیلاروسی اناج کی اپنی سرزمین سے ترسیل پر پابندی کا اعلان کیا ہے تاکہ روس بحیرہ اسود کی بندش کے بعد متبادل برآمدی راستے استعمال نہ کر سکے۔