اوریگون سکول فائرنگ نے ایک بار پھر امریکہ کو ہلا کر رکھ دیا ہے: ریاست اوریگون کے شہر بینڈ کے ایک ابتدائی سکول میں جمعرات کو 16 سالہ حملہ آور نے فائرنگ کر کے تین بچوں اور ایک استاد کو ہلاک کر دیا، جبکہ سات سال کا ایک بچہ اور ایک استاد تشویش ناک حالت میں زخمی ہیں۔
پولیس کے مطابق حملہ آور لمبی بندوق سے مسلح تھا اور اس نے بند دروازوں پر فائرنگ کر کے سکول میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ سکول کے اندر داخل ہونے کے بعد اس کا پیچھا کرنے والے ایک مقامی مسلح شخص نے اسے گولی مار کر ہلاک کر دیا، جس سے مزید جانی نقصان رک گیا۔
اہم نکات
- اوریگون سکول فائرنگ جمعرات 15 اکتوبر کو دوپہر تقریباً ایک بجے سلور ریل ایلیمنٹری سکول میں ہوئی۔
- حملہ آور کی عمر 16 سال بتائی گئی ہے؛ وہ بینڈ کا مقامی رہائشی تھا اور اس کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔
- فائرنگ میں 5، 8 اور 11 سال کے تین بچے اور ایک استاد ہلاک ہوئے۔
- سات سال کا ایک طالب علم اور ایک استاد تشویش ناک حالت میں ہسپتال منتقل کیے گئے ہیں۔
- ایک مقامی شخص نے سکول کے اندر حملہ آور کا پیچھا کیا اور اسے گولی مار کر ہلاک کر دیا؛ پولیس اس کی شناخت کی تصدیق نہیں کر سکی۔
- پولیس کو حملے کے محرک کے بارے میں ابھی تک کوئی معلومات نہیں ملیں۔
اوریگون سکول فائرنگ: واقعہ کیسے پیش آیا
بینڈ پولیس کے چیف مائیک کرانٹز نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ پہلی ہنگامی کال دوپہر 12 بج کر 59 منٹ پر موصول ہوئی، جس میں بتایا گیا کہ سکول کے باہر ایک گاڑی پر فائرنگ کی گئی ہے۔ اس کے بعد سکول کے اندر سے متعدد ہنگامی کالیں موصول ہوئیں، جن میں بتایا گیا کہ ایک شخص سکول میں داخل ہو کر فائرنگ کر رہا ہے۔
پولیس کے مطابق حملہ آور نے بند دروازوں پر فائرنگ کر کے سکول میں گھسنے کی کوشش کی۔ موقع پر پہنچنے والی پولیس کو چند منٹوں کے اندر ہی سکول کے اندر حملہ آور کی لاش ملی، جسے ایک مقامی شخص نے اس وقت گولی ماری جب اس نے اسکول میں داخل ہوتے ہوئے دیکھا اور اس کا پیچھا کیا۔ پولیس کی ترجمان شیلا ملر نے بتایا کہ جب اہلکار موقعے پر پہنچے تو حملہ آور پہلے ہی ہلاک ہو چکا تھا۔

اس واقعے میں ہلاک ہونے والے بچوں کی عمریں پانچ، آٹھ اور 11 سال بتائی گئی ہیں۔ زخمی ہونے والے سات سالہ طالب علم اور استاد کی حالت تشویش ناک ہے اور انھیں مقامی ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
حملہ آور اور تحقیقات
پولیس کے مطابق حملہ آور بینڈ کا مقامی رہائشی تھا، تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں کہ اس کا اس سکول سے کوئی تعلق تھا یا وہ وہاں پڑھتا تھا۔ اس کی شناخت عوامی طور پر ظاہر نہیں کی گئی اور پولیس نے کہا ہے کہ تحقیقات جاری ہیں۔
ایک قانون نافذ کرنے والے اہلکار کے حوالے سے بتایا گیا کہ حملہ آور کے پاس پمپ ایکشن شاٹ گن تھی، جو مبینہ طور پر اس کی والدہ نے خریدی تھی۔ پولیس چیف کرانٹز نے کہا کہ ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ حملہ آور نے کتنے راؤنڈ فائر کیے اور اس کا محرک کیا تھا۔
اوریگون کی گورنر ٹینا کوٹیک نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ان کا دل ٹوٹ گیا ہے اور انھوں نے اس مقامی شخص کا شکریہ ادا کیا جس نے بہادری سے مداخلت کر کے مزید جانی نقصان کو روکا۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی والدین کو ایسے دن کا سامنا نہیں کرنا چاہیے اور کسی کمیونٹی کو اس طرح کے دن سے نہیں گزرنا چاہیے۔
ایف بی آئی بھی تحقیقات میں مقامی پولیس کی معاونت کر رہا ہے۔ سلور ریل ایلیمنٹری سکول میں تقریباً 459 طلبہ زیر تعلیم ہیں اور یہاں کنڈرگارٹن سے پانچویں جماعت تک کے بچے پڑھتے ہیں۔
امریکی سکولوں میں فائرنگ کا بڑھتا سلسلہ
امریکہ میں اسلحے سے ہونے والا تشدد روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکا ہے۔ یہ ایسا ملک ہے جہاں آبادی سے زیادہ اسلحہ موجود ہے اور ترقی یافتہ ممالک میں یہاں اسلحے سے ہونے والی اموات کی شرح سب سے زیادہ ہے۔
سی این این کے تجزیے کے مطابق اوریگون سکول فائرنگ کا یہ واقعہ اس سال سکولوں میں فائرنگ کا 36واں واقعہ ہے۔ امریکہ میں سکولوں میں فائرنگ اب ایک معمول بن چکی ہے، جن میں 1999 میں کولمبائن ہائی سکول، 2012 میں سینڈی ہک ایلیمنٹری سکول، 2018 میں مارجوری سٹون مین ڈگلس ہائی سکول اور 2022 میں ٹیکساس کے شہر یوالڈے میں روب ایلیمنٹری سکول میں فائرنگ کے واقعات شامل ہیں۔
آئین میں درج اسلحہ رکھنے کے حق سے امریکیوں کے گہرے لگاؤ کی وجہ سے یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتیں ان واقعات کو روکنے میں ناکام رہی ہیں۔ غیر سرکاری تنظیم گن وائلنس آرکائیو کے مطابق 2025 میں خودکشیوں کے علاوہ اسلحے سے تقریباً پندرہ ہزار افراد کی جانیں گئیں۔
مزید بین الاقوامی خبریں وطن نیوز اردو پر پڑھیں۔