اقوام متحدہ کی خوراک و زراعت کی تنظیم کے مطابق دنیا بھر میں گلوبل فوڈ پرائسز ستمبر 2026 میں چار سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔ تنظیم کے فوڈ پرائس انڈیکس میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کی بڑی وجوہات موسم کی تبدیلی، رسد کے نظام میں خلل، توانائی کی بلند قیمتیں اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس دباؤ کے اثرات سال کے آخر اور 2027 کے دوران بھی محسوس ہو سکتے ہیں۔
اہم نکات
- ستمبر 2026 میں اقوام متحدہ کا فوڈ پرائس انڈیکس 136 پوائنٹس پر پہنچ گیا، جو اگست کے مقابلے میں 1.5 فیصد زیادہ ہے۔
- یہ انڈیکس نومبر 2022 کے بعد اپنی بلند ترین سطح پر ہے، تاہم مارچ 2022 کے تقریباً 160 پوائنٹس کے ریکارڈ سے اب بھی کم ہے۔
- چینی کی قیمتوں کا انڈیکس ماہانہ بنیاد پر 6.1 فیصد اور سالانہ بنیاد پر 14.7 فیصد بڑھا ہے۔
- اناج کی قیمتوں کا انڈیکس ماہانہ بنیاد پر 5.1 فیصد اور سالانہ بنیاد پر 17.2 فیصد بڑھا ہے۔
- 2026 کے دوران گندم کی قیمتیں 30 فیصد سے زیادہ بڑھ چکی ہیں، جبکہ ایشیا کے بڑے برآمدی ممالک میں چاول کی قیمتیں 10 سے 13 فیصد بڑھی ہیں۔
گلوبل فوڈ پرائسز انڈیکس میں اضافے کی تفصیل
اقوام متحدہ کی خوراک و زراعت کی تنظیم ہر ماہ بین الاقوامی سطح پر تجارت ہونے والی خوراک کی قیمتوں کا ایک مشترکہ انڈیکس جاری کرتی ہے۔ ستمبر 2026 کے اعداد کے مطابق یہ انڈیکس 136 پوائنٹس پر پہنچ گیا، جو اگست کے مقابلے میں دو پوائنٹس زیادہ ہے۔ یہ مسلسل کئی مہینوں سے جاری اضافے کی تازہ ترین کڑی ہے۔
تنظیم کی سینئر ماہر معاشیات مونیکا ٹوتھووا نے کہا ہے کہ حالیہ اضافہ ظاہر کرتا ہے کہ خام مال کی سطح پر لاگت کا دباؤ ایک بار پھر بڑھ رہا ہے۔ ان کے مطابق آنے والے مہینوں میں سب سے بڑا مسئلہ کسی ایک شے کی قیمت نہیں بلکہ یہ ہے کہ غیر یقینی صورتحال کے کئی ذرائع ایک ہی وقت میں موجود ہیں۔
چینی اور اناج کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ
چینی کی عالمی قیمتیں بڑھنے کی وجوہات میں پیداوار کی صورتحال اہم ہے۔ تھائی لینڈ میں چینی کی پیداوار میں کمی، برازیل میں شدید بارشیں اور بھارت میں معمول سے کم بارشیں اس اضافے کے پیچھے بتائی گئی ہیں۔
اناج کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ بحیرہ اسود کے راستے برآمدات میں رکاوٹیں اور اہم پیداواری علاقوں میں موسم کی تشویش ہے۔ مکئی کی رسد میں کمی اور حیاتیاتی ایندھن کی مانگ بھی اس پر اثر انداز ہو رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق خوردنی تیل بھی توجہ کے قابل شعبہ ہے، کیونکہ اس کا تعلق خوراک، توانائی اور حیاتیاتی ایندھن تینوں شعبوں سے ہے۔

قیمتوں کے موازنے کی جھلک
مندرجہ ذیل جدول میں ستمبر 2026 کے اہم اعداد و شمار کا خلاصہ پیش کیا گیا ہے۔
| شے | ماہانہ تبدیلی | سالانہ یا مجموعی تبدیلی | |
|---|---|---|---|
| مجموعی فوڈ پرائس انڈیکس | 1.5 فیصد اضافہ | 136 پوائنٹس، نومبر 2022 کے بعد بلند ترین | |
| چینی | 6.1 فیصد اضافہ | 12 ماہ میں 14.7 فیصد اضافہ | |
| اناج | 5.1 فیصد اضافہ | 12 ماہ میں 17.2 فیصد اضافہ | |
| گندم | — | 2026 کے دوران 30 فیصد سے زیادہ اضافہ | |
| چاول (ایشیا کے بڑے برآمدی ممالک) | — | 10 سے 13 فیصد اضافہ |
عام صارفین پر اثرات
خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتیں کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک کے صارفین کو سب سے زیادہ متاثر کر رہی ہیں، جہاں گھریلو اخراجات میں خوراک کا حصہ زیادہ ہوتا ہے۔ ورلڈ بینک کے مطابق ستمبر کی سہ ماہی میں جن 150 ممالک کا جائزہ لیا گیا، ان میں سے 22 فیصد میں خوراک کی قیمتوں میں اضافہ مجموعی مہنگائی سے زیادہ رہا، جو پچھلی سہ ماہی میں 14 فیصد تھا۔
مصر میں غیر سبسڈی والی روٹی کی قیمت جولائی کے 4 پاؤنڈ سے بڑھ کر تقریباً 5 پاؤنڈ ہو گئی ہے، جبکہ متحدہ عرب امارات میں کھانا پکانے کے تیل کی قیمت میں تقریباً 40 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ انڈونیشیا میں سبزیوں کے تیل کی قیمت اس سال 7 فیصد بڑھی ہے۔
تنظیم کے چیف ماہر معاشیات میکسیمو ٹوریرو نے خبردار کیا ہے کہ نظام پر کافی دباؤ ہے اور اس کے اثرات سال کے آخر، اگلے سال کے آغاز اور ممکنہ طور پر پورے اگلے سال کے دوران زیادہ نمایاں ہو سکتے ہیں۔
مینوفیکچررز اور تاجروں کے لیے چیلنج
بڑی خوراکی کمپنیاں عام طور پر طویل مدتی معاہدوں اور پیشگی خریداری کے ذریعے قیمتوں کے اتار چڑھاؤ سے کچھ حد تک محفوظ رہتی ہیں، اس لیے بین الاقوامی قیمتوں میں اضافہ فوری طور پر ان کی لاگت میں ظاہر نہیں ہوتا۔ تاہم اگر بلند قیمتیں طویل عرصے تک برقرار رہیں تو ان کے منصوبے زیادہ مہنگے اور پیچیدہ ہو جاتے ہیں، اور رسد کے نظام کی انتظامیہ متاثر ہوتی ہے۔
نتیجہ
ستمبر 2026 کے اعداد بتاتے ہیں کہ عالمی خوراک کی قیمتوں میں اضافہ کسی ایک وجہ کا نتیجہ نہیں بلکہ موسم، رسد، توانائی اور عالمی کشیدگی کے بیک وقت اثر انداز ہونے کا نتیجہ ہے۔ ماہرین کا مشورہ ہے کہ کسی ایک شے پر توجہ کے بجائے کھاد، ایندھن اور مال برداری کی قیمتوں جیسے اشاروں پر بھی نظر رکھی جائے، کیونکہ یہ خوراک کی قیمتوں کی سمت کا پیشگی اشارہ دے سکتے ہیں۔ وطن نیوز کی اردو خبروں کا صفحہ پر عالمی معیشت اور خوراک سے متعلق مزید خبریں ملاحظہ کی جا سکتی ہیں۔
عمومی سوالات
گلوبل فوڈ پرائسز انڈیکس کیا ہے؟
یہ اقوام متحدہ کی خوراک و زراعت کی تنظیم کا ماہانہ انڈیکس ہے جو بین الاقوامی سطح پر تجارت ہونے والی خوراک کی قیمتوں میں تبدیلی کی پیمائش کرتا ہے۔
ستمبر 2026 میں یہ انڈیکس کس سطح پر تھا؟
ستمبر 2026 میں یہ انڈیکس 136 پوائنٹس پر تھا، جو اگست کے مقابلے میں 1.5 فیصد زیادہ اور نومبر 2022 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔
کون سی اشیا کی قیمتیں سب سے زیادہ بڑھی ہیں؟
چینی اور اناج کی قیمتوں میں سب سے نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جبکہ گندم کی قیمتیں 2026 کے دوران 30 فیصد سے زیادہ بڑھ چکی ہیں۔
کیا یہ اضافہ 2027 میں بھی جاری رہ سکتا ہے؟
اقوام متحدہ کے ماہرین کے مطابق رسد کی رکاوٹوں اور موسمی اثرات کی وجہ سے خوراک کی مہنگائی کے اثرات سال کے آخر اور 2027 کے دوران بھی محسوس ہو سکتے ہیں۔