لندن — برطانیہ کے قومی ادارہ شماریات نے 20 اکتوبر 2026 کو جاری کردہ تازہ اعداد و شمار میں بتایا ہے کہ ملک میں بے روزگاری کی شرح جون سے اگست 2026 کے دوران کم ہو کر 4.7 فیصد رہ گئی ہے، جبکہ ملازمین کی اوسط اجرت میں سالانہ بنیاد پر 3.7 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ برطانیہ ملازمتیں اجرت کے یہ اعداد اس بات کی علامت ہیں کہ مجموعی طور پر لیبر مارکیٹ 2026 کے دوران بڑی حد تک مستحکم رہی ہے، اگرچہ خالی آسامیوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔
اہم نکات
- بے روزگاری کی شرح 4.7 فیصد رہی، جو سہ ماہی اور سالانہ دونوں بنیادوں پر 0.1 فیصد پوائنٹس کم ہے۔
- روزگار کی شرح 75.3 فیصد رہی، جو سہ ماہی اور سالانہ دونوں بنیادوں پر 0.2 فیصد پوائنٹس زیادہ ہے۔
- جولائی تا ستمبر 2026 کے دوران خالی آسامیوں کی تعداد 691000 رہی، جو سہ ماہی بنیاد پر 21000 کم ہے۔
- باقاعدہ اجرت میں سالانہ 3.7 فیصد اور بونس سمیت مجموعی اجرت میں بھی 3.7 فیصد اضافہ ہوا۔
- مہنگائی کو مدنظر رکھتے ہوئے حقیقی باقاعدہ اجرت میں 0.8 فیصد اضافہ ہوا۔
- ستمبر 2026 میں پے رول پر ملازمین کی ابتدائی تعداد 30.3 ملین رہی، جو ماہانہ بنیاد پر 13000 زیادہ ہے۔
برطانیہ ملازمتیں اجرت: اہم اعداد و شمار
قومی ادارہ شماریات کے مطابق 16 سے 64 سال کی عمر کے افراد میں روزگار کی شرح 75.3 فیصد رہی، جبکہ معاشی طور پر غیر فعال افراد کی شرح 20.9 فیصد رہی، جو سہ ماہی بنیاد پر 0.1 فیصد پوائنٹس اور سالانہ بنیاد پر 0.2 فیصد پوائنٹس کم ہے۔ ادارے نے لیبر مارکیٹ کو 2026 کے دوران مجموعی طور پر مستحکم قرار دیا ہے۔
باقاعدہ اجرت میں اضافہ لگاتار چھ سہ ماہی ادوار سے نسبتاً مستحکم رہا ہے، جبکہ بونس سمیت مجموعی اجرت میں اضافہ گزشتہ سہ ماہی کے 3.9 فیصد سے کم ہو کر 3.7 فیصد رہ گیا، جو اگست تا اکتوبر 2020 کے بعد سب سے کم شرح ہے۔ سرکاری شعبے میں باقاعدہ اجرت میں 6.3 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ نجی شعبے میں یہ اضافہ 3.0 فیصد رہا۔
| اشاریہ | تازہ ترین شرح | تبدیلی |
|---|---|---|
| بے روزگاری کی شرح | 4.7 فیصد | 0.1 فیصد پوائنٹس کمی |
| روزگار کی شرح | 75.3 فیصد | 0.2 فیصد پوائنٹس اضافہ |
| خالی آسامیاں | 691000 | 21000 کمی |
| باقاعدہ اجرت میں اضافہ | 3.7 فیصد | مستحکم |
| مجموعی اجرت میں اضافہ | 3.7 فیصد | 3.9 فیصد سے کمی |
خالی آسامیوں میں بارہ سال کی کم ترین سطح
خالی آسامیوں کی تعداد وبا کے اثرات کو الگ رکھتے ہوئے بارہ سال کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے۔ جولائی تا ستمبر 2026 کے دوران خالی آسامیاں 691000 رہیں، جو گزشتہ سہ ماہی کے مقابلے میں 2.9 فیصد اور گزشتہ سال کے مقابلے میں 5.1 فیصد کم ہیں۔ جون تا اگست 2026 میں فی خالی آسامی بے روزگار افراد کی تعداد 2.4 رہی، جو مارچ تا مئی 2026 کے 2.5 سے کم ہے۔

قومی ادارہ شماریات کے لیبر مارکیٹ شماریات کے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈیوڈ فری مین نے کہا کہ خالی آسامیوں میں سال کے آغاز کے بعد سب سے بڑی کمی دیکھی گئی ہے، جو زیادہ تر چھوٹے کاروباروں میں ہوئی ہے، اور یہ کاروبار بڑھتی ہوئی مزدوری کی لاگت کو بھرتی نہ کرنے کی ایک اہم وجہ قرار دیتے ہیں۔
نوجوانوں کی صورت حال اور آئندہ بجٹ
16 سے 24 سال کی عمر کے نوجوانوں میں بے روزگار افراد کی تعداد 715000 رہی، جو سہ ماہی بنیاد پر 28000 کم ہے، تاہم یہ تعداد گزشتہ سال کے مقابلے میں 54000 زیادہ ہے۔ ورک فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر بین ہیریسن نے کہا کہ اعداد بے روزگاری میں کمی ظاہر کرتے ہیں، لیکن حکومت کو آئندہ ہفتے کے بجٹ سے قبل مطمئن نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ ملک اب بھی ملازمتوں کی قلت کا شکار ہے۔
ستمبر 2026 کے لیے دعویداروں کی تعداد کا ابتدائی تخمینہ 1.701 ملین لگایا گیا ہے۔ قومی ادارہ شماریات نے واضح کیا ہے کہ ستمبر کے پے رول اور دعویداروں کے اعداد ابتدائی ہیں اور ان میں ترمیم ہو سکتی ہے۔ لیبر مارکیٹ کے اگلے اعداد 17 نومبر 2026 کو جاری کیے جائیں گے۔
مزید برطانوی خبروں کے لیے یہ بھی پڑھیں: برطانوی وزیراعظم کے بیان سے متعلق خبر۔
نتیجہ
مجموعی تصویر یہ ہے کہ برطانیہ کی لیبر مارکیٹ میں بے روزگاری میں معمولی کمی اور اجرتوں میں مستحکم اضافہ دیکھا گیا ہے، لیکن خالی آسامیوں میں کمی اور نوجوانوں کی بے روزگاری اب بھی تشویش کے نکات ہیں۔ آئندہ بجٹ اور بینک آف انگلینڈ کے شرح سود سے متعلق فیصلے اس صورت حال پر مزید اثر ڈال سکتے ہیں۔
عمومی سوالات
برطانیہ میں بے روزگاری کی تازہ شرح کیا ہے؟
جون تا اگست 2026 کے دوران بے روزگاری کی شرح 4.7 فیصد رہی، جو سہ ماہی اور سالانہ دونوں بنیادوں پر 0.1 فیصد پوائنٹس کم ہے۔
اجرتوں میں کتنا اضافہ ہوا ہے؟
باقاعدہ اجرت میں سالانہ 3.7 فیصد اور بونس سمیت مجموعی اجرت میں بھی 3.7 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ حقیقی باقاعدہ اجرت میں 0.8 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
خالی آسامیاں کیوں کم ہوئی ہیں؟
قومی ادارہ شماریات کے مطابق خالی آسامیوں میں کمی زیادہ تر چھوٹے کاروباروں میں ہوئی ہے، جو بڑھتی ہوئی مزدوری کی لاگت کو بھرتی روکنے کی وجہ قرار دیتے ہیں۔