صدر مملکت آصف علی زرداری سرکاری دورے پر جرمنی روانہ ہو گئے ہیں۔ صدر زرداری جرمنی دورہ کے لیے برلن جا رہے ہیں، جہاں وہ جرمنی کی قیادت سے اعلیٰ سطح ملاقاتیں کریں گے۔ روانگی کے موقع پر گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان نے ہوائی اڈے پر صدر مملکت کو الوداع کہا۔
ایوان صدر کے مطابق صدر مملکت یہ دورہ جرمنی کے صدر کی دعوت پر کر رہے ہیں۔ ان کے ہمراہ سینئر حکام اور کاروباری شخصیات پر مشتمل ایک اعلیٰ سطح وفد بھی جا رہا ہے۔ دورے کے دوران صدر زرداری جرمن صدر فرینک والٹر اسٹائن مائر اور چانسلر فریڈرک مرز سے ملاقات کریں گے، جبکہ جرمن کاروباری رہنماؤں سے بھی ان کی گفتگو ہو گی۔
اہم نکات
- صدر آصف علی زرداری 22 اکتوبر کو سرکاری دورے پر جرمنی روانہ ہوئے، منزل برلن ہے۔
- یہ دورہ جرمن صدر فرینک والٹر اسٹائن مائر کی دعوت پر کیا جا رہا ہے۔
- دورہ چار روزہ ہے، اور صدر کے ہمراہ سینئر حکام اور کاروباری شخصیات کا وفد بھی شامل ہے۔
- برلن میں جرمن صدر، چانسلر فریڈرک مرز اور کاروباری رہنماؤں سے ملاقاتیں ہوں گی۔
- ملاقاتوں میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی اور عالمی صورت حال، اور معاشی و تجارتی تعاون پر بات ہو گی۔
- رواں برس پاکستان اور جرمنی کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 75 ویں سالگرہ بھی منائی جا رہی ہے۔
صدر زرداری جرمنی دورہ کا پس منظر
پاکستان اور جرمنی کے درمیان سفارتی تعلقات کی تاریخ کئی دہائیوں پر محیط ہے، اور رواں برس ان تعلقات کی 75 ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے۔ اس موقع پر صدر مملکت کا یہ دورہ دونوں ملکوں کے درمیان سیاسی رابطوں کو مزید مضبوط بنانے کی ایک اہم کوشش سمجھا جا رہا ہے۔ طویل وقفے کے بعد کسی پاکستانی صدر کا جرمنی کا یہ دورہ دونوں دارالحکومتوں کے درمیان اعلیٰ سطح رابطے کی بحالی کی علامت بھی ہے۔
دورے سے چند روز پہلے پاکستان کے نئے سفیر سلمان شریف نے برلن میں جرمن صدر کو اپنی اسناد پیش کی تھیں۔ اس موقع پر انہوں نے صدر مملکت، وزیر اعظم اور پاکستانی عوام کی جانب سے جرمن صدر کے لیے نیک خواہشات کا پیغام پہنچایا تھا، اور دونوں ملکوں کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور توانائی سمیت کئی شعبوں میں تعاون بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔

ملاقاتوں میں کیا زیر بحث آئے گا
برلن میں ہونے والی ملاقاتوں میں سب سے پہلے دونوں ملکوں کے دوطرفہ تعلقات کا جائزہ لیا جائے گا۔ سیاسی رابطوں کے ساتھ ساتھ معاشی اور تجارتی تعاون کو آگے بڑھانے کے طریقوں پر بھی بات ہو گی، تاکہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے نئے راستے کھل سکیں۔ جرمن کاروباری رہنماؤں سے ملاقات میں پاکستانی وفد اپنے ملک میں سرمایہ کاری کے مواقع بھی پیش کرے گا۔
علاقائی اور عالمی صورت حال بھی ملاقاتوں کے ایجنڈے میں شامل ہے۔ دونوں جانب کے رہنما خطے میں امن و استحکام اور دنیا کو درپیش مشترکہ چیلنجوں پر اپنے خیالات کا تبادلہ کریں گے۔ پاکستان کی جانب سے جرمن قیادت کو خطے کی تازہ صورت حال سے بھی آگاہ کیا جائے گا۔
دورے کی اہمیت
سفارتی تعلقات کی 75 ویں سالگرہ کے موقع پر ہونے والا یہ دورہ پاکستان اور جرمنی کے درمیان دوستی کو نئی مضبوطی دینے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ جرمنی یورپی یونین کا ایک اہم رکن ہے، اور اس کے ساتھ قریبی تعلقات پاکستان کے یورپ کے ساتھ مجموعی روابط کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ دورے کے نتائج سے دونوں ملکوں کے درمیان آنے والے برسوں میں تعاون کی سمت طے ہونے کی توقع ہے۔
ملک کی مزید قومی خبریں پڑھنے کے لیے وطن نیوز اردو ملاحظہ کریں۔