×
جسمانی سرگرمی اور درمیانی عمر کی علامات

ایک نئی عالمی تحقیق نے خواتین کی صحت کے حوالے سے ایک حوصلہ افزا نتیجہ پیش کیا ہے۔ تحقیق کے مطابق جو خواتین زیادہ دن جسمانی سرگرمی کرتی ہیں، ان میں درمیانی عمر کی تبدیلی کے دور کی علامات کم یا ہلکی محسوس ہوتی ہیں۔ یہ تحقیق ستاسی ممالک کی ایک ہزار آٹھ سو آٹھ خواتین پر کی گئی اور اس کے نتائج دی مینوپاز سوسائٹی کے سالانہ اجلاس میں پیش کیے گئے، جو بیس سے چوبیس اکتوبر تک سین ڈیاگو میں منعقد ہوا۔

اہم نکات

  • تحقیق میں ستاسی ممالک اور چھ براعظموں کی ایک ہزار آٹھ سو آٹھ خواتین شامل تھیں۔
  • جو خواتین بالکل سرگرم نہیں تھیں، ان کا اوسط علامتی اسکور سترہ اعشاریہ چھیالیس تھا۔
  • جو خواتین ہفتے میں کم از کم پانچ دن سرگرم تھیں، ان کا اوسط اسکور تیرہ اعشاریہ ستتر رہا۔
  • فائدہ نفسیاتی، جسمانی اور پیشاب کے نظام سے متعلق تینوں شعبوں میں دیکھا گیا۔
  • یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے یہ ثابت نہیں کرتی کہ ورزش ہی علامات میں کمی کی وجہ بنی۔

تحقیق کیسے کی گئی

تحقیق میں شامل خواتین ایک مقبول ماہواری کی نگرانی کی ایپ استعمال کرتی تھیں۔ انہوں نے ایک آن لائن سوالنامہ پُر کیا جس میں انہوں نے بتایا کہ وہ کتنے دن جسمانی سرگرمی کرتی ہیں — بالکل سرگرم نہ ہونے سے لے کر ہفتے میں پانچ دن سے زیادہ تک۔ اس کے بعد ان کی علامات کی شدت کو ایک معیاری پیمانے سے جانچا گیا جس میں نفسیاتی علامات جیسے بے چینی، اداسی اور چڑچڑاپن، جسمانی علامات جیسے گرم لہریں، نیند کی خرابی اور جوڑوں کا درد، اور پیشاب کے نظام سے متعلق علامات شامل تھیں۔

محققین نے عمر، جسمانی وزن، تمباکو نوشی، دیگر بیماریوں، صحت کی سہولتوں تک رسائی اور ملک کی سماجی و معاشی صورت حال جیسے عوامل کو بھی مد نظر رکھا۔ ان عوامل کو مد نظر رکھنے کے بعد بھی زیادہ سرگرمی اور کم علامات کے درمیان تعلق برقرار رہا، اور یہ تعلق اعداد و شمار کے لحاظ سے نمایاں تھا۔

پہاڑی راستے پر پیدل چلنے والی خواتین
پہاڑی راستے پر پیدل چلنا — باقاعدہ حرکت صحت کے لیے ایک قابل رسائی ذریعہ ہو سکتی ہے۔

نفسیاتی علامات میں سب سے زیادہ فرق

تحقیق پیش کرنے والی مصنفہ لیوڈمیلا ژاؤنووا نے کہا کہ جو بات سب سے زیادہ نمایاں رہی وہ یہ تھی کہ جسمانی سرگرمی کا فائدہ نفسیاتی علامات میں سب سے زیادہ نظر آیا، جیسے اداسی، چڑچڑاپن اور بے چینی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ علامات روزمرہ کی زندگی پر گہرا اثر ڈال سکتی ہیں، اور باقاعدہ حرکت ان سے نمٹنے کا ایک قابل رسائی طریقہ ہو سکتی ہے۔

محققین نے واضح کیا کہ باقاعدہ جسمانی سرگرمی کے پہلے سے معلوم فوائد میں نیند کی بہتری، بلڈ پریشر میں کمی، بے چینی میں کمی، پٹھوں کی مضبوطی، ہڈیوں کی صحت اور وزن پر قابو شامل ہیں۔ نئی تحقیق سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ درمیانی عمر کی تبدیلی کے دور میں بھی یہ فوائد مددگار ہو سکتے ہیں۔

احتیاط ضروری ہے

ماہرین نے اس تحقیق کی حدود بھی واضح کی ہیں۔ چونکہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے یہ ثابت نہیں ہو سکتا کہ ورزش نے ہی علامات کم کیں — یہ بھی ممکن ہے کہ جو خواتین بہتر محسوس کرتی ہیں، ان کے لیے سرگرم رہنا آسان ہو۔ اس لیے اس نتیجے کو حتمی علاج کے طور پر نہیں لینا چاہیے۔

صحت کے ماہرین کا مشورہ ہے کہ خواتین اپنی پسند اور روزمرہ کی زندگی کے مطابق حرکت کا کوئی طریقہ چنیں — چاہے وہ دوست کے ساتھ سیر ہو، رقص ہو، تیراکی ہو یا ہلکی ورزش۔ اگر علامات شدید ہوں تو صرف ورزش پر انحصار کرنے کے بجائے کسی معالج سے مشورہ کرنا ضروری ہے، تاکہ مناسب معلومات اور علاج کے اختیارات پر بات ہو سکے۔

نتیجہ

یہ تحقیق درمیانی عمر کی خواتین کے لیے ایک سادہ اور امید افزا پیغام دیتی ہے: حرکت کو سزا کے طور پر نہیں، بلکہ اپنی دیکھ بھال کے ایک حصے کے طور پر دیکھا جائے۔ ہفتے میں چند دن کی باقاعدہ سرگرمی، چاہے وہ چھوٹی ہی کیوں نہ ہو، بہتر محسوس کرنے کی سمت میں ایک اچھا قدم ہو سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Author

usman2344913@gmail.com

Related Posts

آرٹ بازل پیرس کا جلد اختتام

آرٹ بازل پیرس وقت سے پہلے بند — ہفتے اور اتوار کے دن منسوخ

پیرس کا سب سے بڑا بین الاقوامی آرٹ میلہ اس سال وقت سے پہلے بند ہو رہا ہے۔ آرٹ بازل پیرس نے...

Read out all
سبز اور فطری سیاحتی منزلیں

دنیا کی بہترین سبز اور فطری منزلیں — ایک مکمل سیاحتی گائیڈ

اگر آپ کی اگلی چھٹی کا خواب سرسبز جنگلات، صاف جھیلوں، بلند پہاڑوں اور پرسکون ساحلوں سے جڑا ہے، تو دنیا میں...

Read out all
ڈنمارک اور سائبر حملوں کا خطرہ

ڈنمارک کی ڈیجیٹل ترقی سائبر حملوں کے سامنے کمزوری بھی بن گئی — وزیر کا انتباہ

ڈنمارک دنیا کے سب سے زیادہ ڈیجیٹل ممالک میں شمار ہوتا ہے، لیکن اسی ڈیجیٹل ترقی نے اسے سائبر حملوں کے سامنے...

Read out all
غیر محفوظ خوراک اور خوراک کی حفاظت

غیر محفوظ خوراک آٹھ سو چھیاسٹھ ملین افراد کو بیمار کر رہی ہے — اقوام متحدہ کا انتباہ

غیر محفوظ خوراک دنیا میں بھوک کے خاتمے کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ اقوام متحدہ کے خوراک اور...

Read out all
یورپ میں مصنوعی ذہانت مشاورتی ادارہ

اینتھروپک اور ایچ جی کا یورپ میں نیا مصنوعی ذہانت مشاورتی ادارہ

یورپ کی کاروباری دنیا میں مصنوعی ذہانت کے عملی استعمال کا ایک نیا باب کھلنے جا رہا ہے۔ رپورٹوں کے مطابق ایک...

Read out all
یریوان میں کاپ17 صحافتی فیلوشپ کے صحافی

ای جے این کاپ17 صحافتی فیلوشپ: 16 صحافی یریوان میں فطرت مذاکرات کی کوریج کریں گے

ای جے این کاپ17 صحافتی فیلوشپ کے تحت کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک کے 16 صحافی یریوان میں کنمنگ مونٹریال فطرت...

Read out all