×
غیر محفوظ خوراک اور خوراک کی حفاظت

غیر محفوظ خوراک دنیا میں بھوک کے خاتمے کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ اقوام متحدہ کے خوراک اور زراعت کے ادارے کے سربراہ نے کہا ہے کہ جو خوراک لوگوں کو بیمار کر دے، وہ انہیں غذا فراہم نہیں کرتی۔ ان کے مطابق غیر محفوظ خوراک سے پیدا ہونے والی بیماریاں آٹھ سو چھیاسٹھ ملین افراد کو متاثر کرتی ہیں اور کم و درمیانی آمدنی والے ممالک میں ہر سال ایک سو دس ارب ڈالر کی پیداواری صلاحیت کے نقصان اور طبی اخراجات کا سبب بنتی ہیں۔ یہ بات انہوں نے ورلڈ فوڈ پرائز دو ہزار چھبیس کی افتتاحی تقریب میں کہی، جو ڈی موئن میں منعقد ہوئی۔

اہم نکات

  • غیر محفوظ خوراک سے ہونے والی بیماریاں آٹھ سو چھیاسٹھ ملین افراد کو متاثر کرتی ہیں۔
  • کم و درمیانی آمدنی والے ممالک میں سالانہ نقصان ایک سو دس ارب ڈالر تک پہنچتا ہے۔
  • ورلڈ فوڈ پرائز دو ہزار چھبیس ڈچ سائنسدان ہیوب لیلی ویلڈ کو دیا گیا۔
  • تقریب میں ساٹھ سے زیادہ ممالک کے ایک ہزار سے زیادہ شرکاء اور چار وزرائے زراعت شریک ہوئے۔
  • ادارے کے سربراہ نے کہا کہ محفوظ خوراک تک رسائی ایک عالمی حق ہے۔

محفوظ خوراک کیوں ضروری ہے

اقوام متحدہ کے ادارے کے ڈائریکٹر جنرل کیو ڈونگیو نے اپنی تقریر میں کہا کہ بھوک ختم کرنے کے لیے صرف خوراک پیدا کرنا اور تقسیم کرنا کافی نہیں ہے، بلکہ یہ اعتماد بھی ضروری ہے کہ وہ خوراک بیمار نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ خوراک کی حفاظت زرعی نظاموں پر اعتماد کی بنیاد ہے اور اس کے بغیر خوراک کے نظام کی تبدیلی ممکن نہیں ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خاص طور پر وہ ممالک جو خوراک کی درآمد پر انحصار کرتے ہیں، ان کے لیے خوراک کی حفاظت کے عالمی معیارات پر عمل درآمد زندگیاں بچاتا ہے اور تجارت کی لاگت بھی کم کرتا ہے۔ ادارہ ترقی پذیر ممالک میں ان معیارات پر عمل کرنے کی صلاحیت بڑھانے کے لیے تکنیکی مدد فراہم کرتا ہے۔

بازار میں تازہ پھل اور سبزیاں
بازار میں تازہ پھل اور سبزیاں — محفوظ خوراک صحت مند زندگی کی بنیاد ہے۔

انعام کسے ملا

اس سال کا ورلڈ فوڈ پرائز ڈچ سائنسدان ہیوب لیلی ویلڈ کو دیا گیا، جنہوں نے چھ دہائیوں تک خوراک کی حفاظت کے شعبے میں تحقیق، وکالت اور ادارے سازی میں کام کیا اور عالمی سطح پر ہم آہنگ معیارات قائم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ یہ انعام نارمن بورلاگ کے نام پر دیا جاتا ہے، جنہیں سبز انقلاب کے بانیوں میں شمار کیا جاتا ہے اور جن کی زیادہ پیداوار دینے والی گندم کی اقسام نے کروڑوں افراد کو بھوک سے نکالنے میں مدد کی تھی۔

ادارے کے سربراہ نے ہیوب لیلی ویلڈ کے اس یقین کی تعریف کی کہ محفوظ خوراک تک رسائی ایک عالمی حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ یقین آج بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا چھ دہائیاں پہلے تھا، کیونکہ خوراک کی حفاظت کے بغیر غذائیت اور صحت کا کوئی منصوبہ مکمل نہیں ہو سکتا۔

ادارے کا وسیع تر منصوبہ

خوراک اور زراعت کے ادارے کا اسٹریٹجک فریم ورک دو ہزار بائیس سے دو ہزار اکتیس تک چار بنیادی مقاصد پر کھڑا ہے: بہتر پیداوار، بہتر غذائیت، بہتر ماحول اور بہتر زندگی۔ اس فریم ورک میں پیداوار، حفاظت، غذائیت اور رسائی کو ایک ساتھ دیکھا جاتا ہے، تاکہ خوراک کا نظام صرف زیادہ خوراک پیدا نہ کرے بلکہ محفوظ، غذائیت بخش اور سب تک پہنچنے والا بھی ہو۔

ماہرین کے مطابق خوراک کی حفاظت کا مسئلہ صرف غریب ممالک تک محدود نہیں ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں بھی خوراک سے پیدا ہونے والی بیماریوں کی خبریں آتی رہتی ہیں، لیکن کم آمدنی والے ممالک میں اس کا بوجھ سب سے زیادہ ہے، جہاں طبی سہولتیں محدود ہوتی ہیں اور پیداواری نقصان خاندانوں کی آمدنی پر براہ راست اثر ڈالتا ہے۔

گھر میں کیا کیا جا سکتا ہے

عالمی سطح پر معیارات اور حکومتی اقدامات کے ساتھ ساتھ گھروں میں بھی خوراک کی حفاظت پر توجہ ضروری ہے۔ کھانا پکانے سے پہلے ہاتھ دھونا، گوشت اور سبزیوں کو الگ رکھنا، خوراک کو مناسب درجہ حرارت پر پکانا اور بچا ہوا کھانا جلد ٹھنڈا کر کے محفوظ کرنا وہ سادہ عادات ہیں جو بیماریوں سے بچنے میں مدد دیتی ہیں۔ تازہ پھلوں اور سبزیوں کو اچھی طرح دھونا بھی اسی احتیاط کا حصہ ہے۔

نتیجہ

ورلڈ فوڈ پرائز کی تقریب کا پیغام واضح تھا: بھوک کا خاتمہ صرف خوراک کی مقدار سے نہیں ہوگا، بلکہ اس کے محفوظ ہونے سے ہوگا۔ جب تک ہر شخص کو یہ اعتماد نہ ہو کہ اس کی خوراک اسے بیمار نہیں کرے گی، خوراک کا نظام اپنا وعدہ پورا نہیں کر سکے گا۔

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Author

usman2344913@gmail.com

Related Posts

آرٹ بازل پیرس کا جلد اختتام

آرٹ بازل پیرس وقت سے پہلے بند — ہفتے اور اتوار کے دن منسوخ

پیرس کا سب سے بڑا بین الاقوامی آرٹ میلہ اس سال وقت سے پہلے بند ہو رہا ہے۔ آرٹ بازل پیرس نے...

Read out all
سبز اور فطری سیاحتی منزلیں

دنیا کی بہترین سبز اور فطری منزلیں — ایک مکمل سیاحتی گائیڈ

اگر آپ کی اگلی چھٹی کا خواب سرسبز جنگلات، صاف جھیلوں، بلند پہاڑوں اور پرسکون ساحلوں سے جڑا ہے، تو دنیا میں...

Read out all
ڈنمارک اور سائبر حملوں کا خطرہ

ڈنمارک کی ڈیجیٹل ترقی سائبر حملوں کے سامنے کمزوری بھی بن گئی — وزیر کا انتباہ

ڈنمارک دنیا کے سب سے زیادہ ڈیجیٹل ممالک میں شمار ہوتا ہے، لیکن اسی ڈیجیٹل ترقی نے اسے سائبر حملوں کے سامنے...

Read out all
جسمانی سرگرمی اور درمیانی عمر کی علامات

زیادہ جسمانی سرگرمی اور درمیانی عمر کی علامات میں کمی — عالمی تحقیق

ایک نئی عالمی تحقیق نے خواتین کی صحت کے حوالے سے ایک حوصلہ افزا نتیجہ پیش کیا ہے۔ تحقیق کے مطابق جو...

Read out all
یورپ میں مصنوعی ذہانت مشاورتی ادارہ

اینتھروپک اور ایچ جی کا یورپ میں نیا مصنوعی ذہانت مشاورتی ادارہ

یورپ کی کاروباری دنیا میں مصنوعی ذہانت کے عملی استعمال کا ایک نیا باب کھلنے جا رہا ہے۔ رپورٹوں کے مطابق ایک...

Read out all
یریوان میں کاپ17 صحافتی فیلوشپ کے صحافی

ای جے این کاپ17 صحافتی فیلوشپ: 16 صحافی یریوان میں فطرت مذاکرات کی کوریج کریں گے

ای جے این کاپ17 صحافتی فیلوشپ کے تحت کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک کے 16 صحافی یریوان میں کنمنگ مونٹریال فطرت...

Read out all