×
ڈنمارک اور سائبر حملوں کا خطرہ

ڈنمارک دنیا کے سب سے زیادہ ڈیجیٹل ممالک میں شمار ہوتا ہے، لیکن اسی ڈیجیٹل ترقی نے اسے سائبر حملوں کے سامنے بھی زیادہ حساس بنا دیا ہے۔ ملک کی لچک اور تیاری کی وزیر نے خبردار کیا ہے کہ ڈیجیٹل نظاموں پر انحصار اس حد تک بڑھ گیا ہے کہ اب حملے روزمرہ کی حقیقت بن چکے ہیں، اور ان کا سب سے بڑا خطرہ عوام کا حکام پر اعتماد کمزور ہونا ہے۔ یہ بات انہوں نے جمعے کو ایک انٹرویو میں کہی، جو ایک ایسے ہفتے کے بعد سامنے آئی ہے جس میں ایک عام پروگرامنگ زبان کی خامی نے دنیا بھر میں لاکھوں ہیکنگ کی کوششوں کو جنم دیا۔

اہم نکات

  • ڈنمارک کی لچک اور تیاری کی وزیر لزبیتھ بیک نیلسن نے سائبر حملوں کے خطرے پر خبردار کیا ہے۔
  • ڈنمارک دنیا کے سب سے زیادہ ڈیجیٹل ممالک میں سے ایک ہے اور اس کی ڈیجیٹل عوامی خدمات پر عوام کا اعتماد بلند ہے۔
  • اس ہفتے ایک پروگرامنگ زبان کی خامی کے بعد لاکھوں ہیکنگ کی کوششیں ہوئیں۔
  • ڈینش بلدیاتی ٹیکنالوجی کمپنی کومبٹ نے کئی خدمات بند کیں، جن میں اسکولوں کا قومی رابطہ پلیٹ فارم بھی شامل تھا۔
  • وزیر کا کہنا ہے کہ حملوں کا نیا معمول روزانہ کی بنیاد پر جاری رہے گا۔

ڈیجیٹل ترقی کے دو رخ

وزیر نے کہا کہ ڈنمارک نے ڈیجیٹل نظاموں کو جلد اپنایا تھا، جس سے اسے بڑے فوائد حاصل ہوئے، لیکن اسی کے ساتھ اس کی کمزوری بھی بڑھ گئی ہے۔ بجلی، صحت اور مالیاتی خدمات جیسے اہم شعبے اب ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے پر انحصار کرتے ہیں، اس لیے کسی بھی خلل کا اثر تیزی سے پھیل سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کی اصل تشویش عوام کا اعتماد ہے۔ وہ سمجھتی ہیں کہ محدود خلل پیدا کرنے والے حملے بھی حکام پر اعتماد کو کمزور کر سکتے ہیں، اور سائبر واقعات کی مسلسل خبریں معاشرے پر تباہ کن اثر ڈالتی ہیں۔ انہوں نے وبا کے دور کی مثال دی، جب اداروں پر بلند اعتماد کی وجہ سے ویکسین کی شرح زیادہ رہی اور معاشرہ جلد کھل سکا تھا۔

غروب آفتاب کے وقت کوپن ہیگن کی نہر
غروب آفتاب کے وقت کوپن ہیگن کی نہر — ڈنمارک کی ڈیجیٹل خدمات دنیا بھر میں مثال سمجھی جاتی ہیں۔

اس ہفتے کیا ہوا

اس ہفتے دنیا بھر میں حکومتوں اور کمپنیوں نے ویب سائٹس بند کیں، جب ایک وسیع پیمانے پر استعمال ہونے والی پروگرامنگ زبان میں سنگین خامی سامنے آئی۔ ڈنمارک میں بلدیاتی ٹیکنالوجی کمپنی کومبٹ نے کئی خدمات عارضی طور پر بند کر دیں، جن میں اسکولوں کے لیے قومی رابطہ پلیٹ فارم بھی شامل تھا۔ یہ واقعہ اس بات کی مثال بن گیا کہ کس طرح ایک تکنیکی خامی روزمرہ کی خدمات کو متاثر کر سکتی ہے۔

وزیر نے فرانس کے ایک واقعے کا بھی حوالہ دیا، جس میں فریزرز کو دور سے کنٹرول کیا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا اہم آلات کو انٹرنیٹ سے جوڑنا ضروری ہے، یا زیادہ مقامی اور بند نظام زیادہ محفوظ ہو سکتے ہیں۔

آگے کا راستہ

وزیر کے مطابق ڈنمارک کو اپنے ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے میں مزید سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت ہے اور یہ بنیادی طور پر سوچنا ہوگا کہ ڈیجیٹل نظام کیسے ترتیب دیے جائیں۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ اس سے بہت سے لوگوں کی زندگی، کاروبار اور روزمرہ کے طریقے متاثر ہوں گے، لیکن ان کے خیال میں یہ تبدیلی ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ نیا معمول یہ ہے کہ حملے روزانہ کی بنیاد پر ہوں گے، چاہے وہ کسی ریاست کی طرف سے ہوں یا مالی فائدے کے لیے کام کرنے والے مجرم ہیکرز کی طرف سے۔ اس لیے تیاری کا مطلب صرف حملوں کو روکنا نہیں، بلکہ ان کے باوجود خدمات جاری رکھنا اور عوام کا اعتماد برقرار رکھنا بھی ہے۔

نتیجہ

ڈنمارک کی مثال دوسرے ڈیجیٹل ممالک کے لیے بھی ایک سبق ہے: ڈیجیٹل ترقی جتنی آگے بڑھے گی، اس کی حفاظت پر اتنی ہی زیادہ توجہ درکار ہوگی۔ اعتماد ایک بار کمزور ہو جائے تو اسے دوبارہ بنانا تکنیکی مرمت سے کہیں زیادہ مشکل ہوتا ہے۔

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Author

usman2344913@gmail.com

Related Posts

آرٹ بازل پیرس کا جلد اختتام

آرٹ بازل پیرس وقت سے پہلے بند — ہفتے اور اتوار کے دن منسوخ

پیرس کا سب سے بڑا بین الاقوامی آرٹ میلہ اس سال وقت سے پہلے بند ہو رہا ہے۔ آرٹ بازل پیرس نے...

Read out all
سبز اور فطری سیاحتی منزلیں

دنیا کی بہترین سبز اور فطری منزلیں — ایک مکمل سیاحتی گائیڈ

اگر آپ کی اگلی چھٹی کا خواب سرسبز جنگلات، صاف جھیلوں، بلند پہاڑوں اور پرسکون ساحلوں سے جڑا ہے، تو دنیا میں...

Read out all
جسمانی سرگرمی اور درمیانی عمر کی علامات

زیادہ جسمانی سرگرمی اور درمیانی عمر کی علامات میں کمی — عالمی تحقیق

ایک نئی عالمی تحقیق نے خواتین کی صحت کے حوالے سے ایک حوصلہ افزا نتیجہ پیش کیا ہے۔ تحقیق کے مطابق جو...

Read out all
غیر محفوظ خوراک اور خوراک کی حفاظت

غیر محفوظ خوراک آٹھ سو چھیاسٹھ ملین افراد کو بیمار کر رہی ہے — اقوام متحدہ کا انتباہ

غیر محفوظ خوراک دنیا میں بھوک کے خاتمے کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ اقوام متحدہ کے خوراک اور...

Read out all
یورپ میں مصنوعی ذہانت مشاورتی ادارہ

اینتھروپک اور ایچ جی کا یورپ میں نیا مصنوعی ذہانت مشاورتی ادارہ

یورپ کی کاروباری دنیا میں مصنوعی ذہانت کے عملی استعمال کا ایک نیا باب کھلنے جا رہا ہے۔ رپورٹوں کے مطابق ایک...

Read out all
یریوان میں کاپ17 صحافتی فیلوشپ کے صحافی

ای جے این کاپ17 صحافتی فیلوشپ: 16 صحافی یریوان میں فطرت مذاکرات کی کوریج کریں گے

ای جے این کاپ17 صحافتی فیلوشپ کے تحت کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک کے 16 صحافی یریوان میں کنمنگ مونٹریال فطرت...

Read out all