اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف اور جماعت اسلامی کے وفد کے درمیان ملاقات ہوئی ہے جس میں پیٹرولیم مصنوعات پر عوام کو ریلیف دینے کے لیے دونوں جانب سے تین تین ارکان پر مشتمل ایک مشترکہ کمیٹی بنانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ کمیٹی حتمی سفارشات مرتب کرے گی جن کی روشنی میں ریلیف اسکیم کا دائرہ بڑھانے اور پیٹرولیم لیوی میں مرحلہ وار کمی کے لیے عملی تجاویز بجٹ میں شامل کی جائیں گی۔
اہم نکات
- وزیراعظم شہباز شریف سے جماعت اسلامی کے وفد نے وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں ملاقات کی
- وفد کی قیادت امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان کر رہے تھے
- حکومت اور جماعت اسلامی کے تین تین ارکان پر مشتمل مشترکہ کمیٹی بنانے پر اتفاق ہوا
- کمیٹی پیٹرول ریلیف اسکیم کا دائرہ بڑھانے اور پیٹرولیم لیوی میں مرحلہ وار کمی کی سفارشات دے گی
- اب تک ایک کروڑ 27 لاکھ افراد ریلیف اسکیم میں رجسٹر ہو چکے ہیں
- جماعت اسلامی نے وسط نومبر میں اسلام آباد کی جانب مارچ جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے
ملاقات میں کیا طے پایا
وزیراعظم آفس کے اعلامیے کے مطابق حکومت اور جماعت اسلامی کی مشترکہ کمیٹی حتمی سفارشات پیش کرے گی۔ کمیٹی عوام کے لیے پیٹرول پر جاری ریلیف اسکیم کا دائرہ کار بڑھانے پر سفارشات دے گی تاکہ زیادہ سے زیادہ مستحق افراد اس اسکیم سے فائدہ اٹھا سکیں۔ کمیٹی پیٹرولیم لیوی میں مرحلہ وار کمی کے لیے بجٹ کے لحاظ سے قابل عمل تجاویز بھی مرتب کرے گی۔
حکومتی جانب سے کمیٹی میں وفاقی وزیر احسن اقبال، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ شامل ہوں گے جب کہ جماعت اسلامی کے بھی تین ارکان کمیٹی کا حصہ ہوں گے۔ ملاقات میں دونوں جانب نے اس بات پر اتفاق کیا کہ عوام کو ریلیف دینے کے لیے مل کر قابل عمل راستہ نکالا جائے گا۔

پیٹرولیم لیوی میں مرحلہ وار کمی کی تجاویز
وزیراعظم نے اس موقع پر کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے عوام پر پڑنے والے بوجھ کا پوری طرح احساس ہے۔ انھوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال کا تعلق علاقائی اور بین الاقوامی حالات کے پیش نظر تیل کی قیمتوں میں اضافے سے ہے، اور مالی استطاعت کے مطابق حکومت عوام کو ریلیف فراہم کر رہی ہے اور کرتی رہے گی۔
اعلامیے کے مطابق وزیراعظم نے وفد کو کم آمدن طبقے کے لیے حکومت کے فراہم کردہ ریلیف کی تفصیل سے آگاہ کیا اور بتایا کہ اب تک ایک کروڑ 27 لاکھ افراد اس اسکیم میں رجسٹر ہو چکے ہیں۔ یہ ریلیف اسکیم موٹر سائیکلوں، رکشوں اور چھوٹی گاڑیوں کے مالکان کے لیے شروع کی گئی تھی تاکہ ایندھن کی بڑھتی قیمتوں کا بوجھ کم کیا جا سکے۔
جماعت اسلامی کا مؤقف اور آئندہ لائحہ عمل
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے ملاقات کے بعد کہا کہ مارچ کی تیاری جاری رہے گی اور پورے ملک میں موبلائزیشن شروع ہو جائے گی۔ انھوں نے کہا کہ حکومت سے مزید بات چیت جاری رہے گی لیکن وسط نومبر میں مارچ ہو گا۔ ان کے مطابق حکومت نے اس معاملے پر فیصلے کے لیے مزید سات سے دس دن کا وقت مانگا ہے۔
دونوں جانب کے درمیان طریقہ کار پر اختلاف برقرار ہے۔ جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم لیوی کو ختم کیا جائے جب کہ حکومت کا مؤقف ہے کہ لیوی میں مرحلہ وار کمی کی جائے گی۔ جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا ہے کہ مارچ سے پہلے عوام کے لیے ریلیف پیکج کا اعلان کیا جائے۔
مزید قومی خبریں وطن نیوز کے اردو صفحے پر ملاحظہ کی جا سکتی ہیں۔