×
وطن نیوز تصویر

یورپی کمیشن نے 27 اکتوبر 2026 کو موسمیاتی لچک کا نیا قانون پیش کر دیا ہے۔ اس قانون کا مقصد یورپ کو بڑھتی ہوئی گرمی، سیلاب، خشک سالی اور جنگلاتی آگ کے خطرات کے لیے تیار کرنا ہے۔ کمیشن کے مطابق اب صرف اخراج کم کرنا کافی نہیں بلکہ معاشرے اور معیشت کو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کے لیے مضبوط بنانا بھی ضروری ہے۔

اہم نکات

  • یورپی کمیشن نے 27 اکتوبر 2026 کو نیا قانون پیش کیا ہے۔
  • قانون میں 2030 تک 1.5 ڈگری، 2050 تک 2 ڈگری اور 2100 تک 3 ڈگری کا منظر نامہ رکھا گیا ہے۔
  • رکن ممالک کو جون 2029 تک موسمیاتی خطرات کا جائزہ لینا ہو گا۔
  • قومی لچک منصوبے 2030 کے آخر تک بنانے ہوں گے۔
  • 2022 سے 2025 کے دوران موسمیاتی نقصانات 200 ارب یورو تک پہنچے۔

قانون میں کیا شامل ہے

نئے قانون کے تحت رکن ممالک کو اپنے موسمیاتی خطرات کا باقاعدہ جائزہ لینا ہو گا اور قومی حکمت عملی بنانی ہو گی۔ ہر ملک کو یہ بھی واضح کرنا ہو گا کہ کس خطرے کی ذمہ داری کس ادارے پر ہے تاکہ کوئی مسئلہ لاپرواہی کا شکار نہ ہو۔ کمیشن گرمی کی لہر سے بچاؤ کا منصوبہ اور پانی سے متعلق نیا اقدام بھی پیش کرے گا جس میں خشک سالی، سیلاب اور پانی کے بہتر استعمال پر توجہ دی جائے گی۔

سال متوقع درجہ حرارت میں اضافہ
2030 1.5 ڈگری
2050 2 ڈگری
2100 3 ڈگری
یورپی پارلیمنٹ کی عمارت
یورپی پارلیمنٹ کی عمارت کا منظر۔

نقصانات کیوں بڑھ رہے ہیں

کمیشن کے اندازوں کے مطابق 2022 سے 2025 کے دوران موسمیاتی آفات سے تقریباً 200 ارب یورو کا نقصان ہوا جو سالانہ اوسطاً 50 ارب یورو بنتا ہے۔ گزشتہ موسم گرما میں شدید موسم سے 35 ہزار سے زیادہ جانیں گئیں اور تقریباً 7 لاکھ ہیکٹر زمین جل گئی۔ بڑے یورپی دریاؤں پر جہاز رانی بھی متاثر ہوئی۔ کمیشن کے مطابق اگر تیاری نہ کی گئی تو یہ نقصانات مزید بڑھیں گے۔

کمیشن کے رہنماؤں کا موقف

کمیشن کی نائب صدر نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کا سب سے مؤثر طریقہ اس کی بنیادی وجوہات سے لڑنا ہے، لیکن ساتھ ہی اس کے اثرات کے لیے تیاری بھی ضروری ہے۔ موسمیاتی کمشنر نے کہا ہے کہ معاشرے اور معیشت کو لچکدار بنانا ہو گا ورنہ نقصان معمول بن جائے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ اخراج میں کمی کا کام بھی جاری رہنا چاہیے۔

یورپی پارلیمنٹ کا اجلاس
یورپی پارلیمنٹ میں اجلاس کا منظر۔

تنقید اور آگے کا راستہ

ماحولیاتی تنظیموں نے اس قانون کا خیر مقدم کیا ہے لیکن کہا ہے کہ فطرت پر مبنی حل کو مضبوط قانونی حیثیت اور مالی مدد ملنی چاہیے۔ ان کے مطابق صحت مند ماحولیاتی نظام سیلاب، خشک سالی اور آگ کے خلاف بہترین دفاع ہیں۔ اب یہ تجویز یورپی پارلیمنٹ اور رکن ممالک کے سامنے جائے گی جہاں اس پر مزید بحث اور حتمی منظوری ہو گی۔

مزید تفصیل کے لیے یہ خبر بھی پڑھیں: یہی خبر وطن نیوز کے مرکزی صفحے پر۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

یورپی موسمیاتی لچک قانون کیا ہے؟

یہ قانون یورپ کو گرمی، سیلاب، خشک سالی اور آگ جیسے موسمیاتی خطرات کے لیے تیار کرنے کے لیے پیش کیا گیا ہے۔

رکن ممالک کو کب تک جائزہ لینا ہو گا؟

رکن ممالک کو جون 2029 تک موسمیاتی خطرات کا جائزہ لینا ہو گا۔

قومی منصوبے کب تک بنانے ہوں گے؟

قومی لچک منصوبے 2030 کے آخر تک بنانے ہوں گے۔

موسمیاتی نقصانات کتنے ہوئے؟

2022 سے 2025 کے دوران موسمیاتی نقصانات تقریباً 200 ارب یورو تک پہنچے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Author

usmanch0013@gmail.com

Related Posts

وطن نیوز تصویر

ڈنمارک کی وزیر سگنے منک ذہنی دباؤ کے باعث مستعفی

ڈنمارک کی وزیر برائے شہر، دیہی علاقے اور ٹرانسپورٹ سگنے منک نے ذہنی دباؤ کے باعث 27 اکتوبر 2026 کو اپنے عہدے...

Read out all
فیشن رن وے

ڈانس کی خوشی سے متاثر نیا فیشن مجموعہ پیش

کوپن ہیگن کے فیشن انداز اور کھیلوں کے تکنیکی ملبوسات کے اشتراک سے ڈانس سے متاثر نیا مجموعہ اکتوبر 2026 میں پیش...

Read out all
کھیل ٹرافی

ہیری کین نے پہلی بار فٹ بال کا سب سے بڑا اعزاز جیت لیا

ہیری کین نے 26 اکتوبر 2026 کو لندن میں ہونے والی تقریب میں پہلی بار فٹ بال کا سب سے بڑا انفرادی...

Read out all
وطن نیوز تصویر

ایونٹے نے ذہین مراعات پلیٹ فارم کے لیے 30 ملین ڈالر حاصل کر لیے

سیئٹل کی کمپنی ایونٹے نے 30 ملین ڈالر کی نئی سرمایہ کاری حاصل کر لی ہے جس سے اس کی مجموعی سرمایہ...

Read out all
وطن نیوز تصویر

ایپل نے ایم 6 چپ والے نئے میک بک پرو اور آئی میک پیش کر دیے

ایپل نے 27 اکتوبر 2026 کو ایم 6 چپ والے 14 انچ میک بک پرو اور نئے آئی میک پیش کر دیے...

Read out all
انطالیہ میں کاپ31 سے قبل میڈیا سینٹر میں کام کرتے ہوئے صحافی

انطالیہ میں کاپ31 سے قبل ترکیہ کا صحافیوں سے حل پر مبنی رپورٹنگ کا مطالبہ

ترکیہ کے ڈائریکٹر برائے مواصلات برہانیتین دوران نے کاپ31 سے قبل حل پر مبنی موسمیاتی رپورٹنگ کا مطالبہ کیا اور گرین تھکاوٹ...

Read out all