امریکہ کے صحت کے ادارے نے دواؤں کے خلاف مزاحمت کرنے والے جراثیم کے بارے میں ایک تشویشناک رپورٹ جاری کی ہے۔ 27 اکتوبر 2026 کو جاری ہونے والی 2026 کی رپورٹ کے مطابق یہ جراثیم امریکہ میں ہر سال تقریبا 97 لاکھ انفیکشن اور 50 ہزار 800 اموات کا سبب بنتے ہیں۔ رپورٹ 2023 کے اعداد پر مبنی ہے اور اس میں 19 جراثیم کو خطرے کی مختلف سطحوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔
اہم نکات
- ہر سال تقریبا 97 لاکھ انفیکشن اور 50 ہزار 800 اموات کا تخمینہ ہے۔
- 19 جراثیم کو فوری، سنگین اور تشویشناک زمروں میں رکھا گیا ہے۔
- چار جراثیم کو فوری خطرہ قرار دیا گیا ہے۔
- اسپتالوں میں پھیلنے والے جراثیم سے 42 ہزار سے زیادہ اموات ہوتی ہیں۔
- ایک جراثیم کے خطرے کی سطح کم ہوئی ہے، جو اچھی خبر ہے۔
چار فوری خطرات کون سے ہیں
ادارے نے چار جراثیم کو فوری اور جارحانہ اقدام کی ضرورت والے زمرے میں رکھا ہے۔ ان میں کینڈیڈا اوریس نامی پھپھوندی شامل ہے، جو اسپتالوں اور نرسنگ ہومز میں پھیلتی ہے اور زیادہ تر دواؤں کے خلاف مزاحمت رکھتی ہے۔ اس کے کیس 2016 میں صرف 48 تھے، جو 2024 میں 6 ہزار 304 تک پہنچ گئے، اور 2023 میں 4 ہزار 523 کیس ریکارڈ ہوئے تھے۔
دوسرے فوری خطرات میں کارباپینم کے خلاف مزاحمت رکھنے والا ایسینیٹوبیکٹر، کارباپینم کے خلاف مزاحمت رکھنے والا اینٹروبیکٹیریلز اور دواؤں کے خلاف مزاحمت رکھنے والا سوزاک کا جراثیم شامل ہیں۔ یہ جراثیم نمونیا، زخم، خون اور پیشاب کے انفیکشن کا سبب بن سکتے ہیں، اور بعض صورتوں میں اپنی مزاحمت دوسرے جراثیم تک بھی منتقل کر دیتے ہیں۔

اعداد کیوں بڑھے ہوئے نظر آتے ہیں
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نئے اعداد کو 2019 کی رپورٹ سے براہ راست موازنہ نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ اعداد جمع کرنے کے طریقے اور ذرائع بدل گئے ہیں اور اب زیادہ مکمل معلومات شامل کی گئی ہیں۔ 2019 کی رپورٹ میں تقریبا 28 لاکھ انفیکشن اور 35 ہزار اموات کا تخمینہ لگایا گیا تھا۔ نئی رپورٹ زیادہ جامع ہے، اس لیے تعداد زیادہ نظر آتی ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ کئی جراثیم میں حقیقی اضافہ بھی ہوا ہے۔
مثال کے طور پر ایک خاص قسم کے مزاحمت رکھنے والے جراثیم میں 2019 سے 2023 کے درمیان 460 فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ ہوا ہے۔ اسپتالوں اور دیگر طبی مراکز میں پھیلنے والے جراثیم سے ہر سال 42 ہزار سے زیادہ اموات ہوتی ہیں اور صحت کی دیکھ بھال پر تقریبا 12 ارب ڈالر کا اضافی بوجھ پڑتا ہے۔
اچھی خبر بھی ہے
رپورٹ میں ایک مثبت تبدیلی بھی درج ہے۔ کلاسٹریڈیم ڈفیسائل نامی جراثیم کو فوری خطرے سے سنگین خطرے کے زمرے میں منتقل کر دیا گیا ہے، کیونکہ اس کے انفیکشن کی شرح 2018 سے کم ہونا شروع ہوئی اور 2020 سے مستحکم رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلی انفیکشن سے بچاؤ کے اقدامات کی کامیابی کی مثال ہے اور یہی کامیابی دوسرے جراثیم کے خلاف بھی دہرائی جا سکتی ہے۔
ادارے کی سربراہ نے کہا ہے کہ دواؤں کے خلاف مزاحمت جدید طب کے لیے خطرہ ہے اور ہر سال لاکھوں امریکیوں کو خطرے میں ڈالتی ہے۔ طبی ماہرین نے بہتر انفیکشن کنٹرول، وسیع جینیاتی نگرانی اور نئی اینٹی بایوٹک و اینٹی فنگل دواؤں کی تیاری کے لیے مالی مراعات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
عام لوگ کیا کر سکتے ہیں
ماہرین کا مشورہ ہے کہ اینٹی بایوٹک صرف ڈاکٹر کی ہدایت پر اور مکمل کورس کے ساتھ استعمال کی جائے۔ ہاتھوں کی صفائی، اسپتالوں میں انفیکشن سے بچاؤ کے اصولوں پر عمل اور ویکسینیشن بھی اس خطرے کو کم کرنے میں مددگار ہیں۔ اگر کسی کو انفیکشن کی علامات ہوں تو خود سے دوا لینے کے بجائے ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔
مزید تفصیل کے لیے یہ خبر بھی پڑھیں: یہی خبر وطن نیوز کے مرکزی صفحے پر۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
ہر سال کتنی اموات کا تخمینہ ہے؟
رپورٹ کے مطابق ہر سال تقریبا 50 ہزار 800 اموات اور 97 لاکھ انفیکشن کا تخمینہ ہے۔
فوری خطرے والے جراثیم کون سے ہیں؟
کینڈیڈا اوریس، کارباپینم کے خلاف مزاحمت رکھنے والا ایسینیٹوبیکٹر، کارباپینم کے خلاف مزاحمت رکھنے والا اینٹروبیکٹیریلز اور دواؤں کے خلاف مزاحمت رکھنے والا سوزاک کا جراثیم۔
کیا یہ مسئلہ 2019 سے واقعی اتنا بڑھ گیا ہے؟
جزوی طور پر ہاں، لیکن نئے اعداد میں زیادہ مکمل معلومات بھی شامل ہیں، اس لیے براہ راست موازنہ درست نہیں ہے۔
اچھی خبر کیا ہے؟
ایک جراثیم کو فوری خطرے سے سنگین خطرے میں منتقل کر دیا گیا ہے، کیونکہ اس کے انفیکشن کم ہوئے ہیں۔