خیبر پختونخوا کی مشیر اطلاعات ثمر ہارون بلور نے سابق وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی پر اربوں روپے کی کرپشن کا الزام عائد کیا ہے۔ انہوں نے یہ الزام جیو نیوز سے گفتگو میں لگایا اور کہا کہ سہیل آفریدی کے دور میں ان کے قریبی ساتھیوں کے ذریعے اربوں روپے کی کرپشن ہوئی۔
اہم نکات
- ثمر ہارون بلور نے جیو نیوز سے گفتگو میں سہیل آفریدی پر اربوں روپے کی کرپشن کا الزام لگایا۔
- ان کا کہنا تھا کہ سہیل آفریدی کے قریبی ساتھیوں کے ذریعے یہ کرپشن کی گئی۔
- الزام کے مطابق سرکاری افسران کی تقرری اور تبادلے اور سرکاری کاموں کے لیے مبینہ ریٹ لسٹ مقرر کی گئی تھی۔
- بلور کے مطابق قریبی ساتھی ہادی ملک سے باہر فرار ہو چکے ہیں اور ان کی واپسی کے لیے متعلقہ حکومت اور انٹرپول سے رابطہ کیا گیا ہے۔
- رپورٹ میں ان الزامات کے حق میں کوئی دستاویزی ثبوت، مخصوص رقم یا سہیل آفریدی کا موقف پیش نہیں کیا گیا۔
سہیل آفریدی پر کرپشن کے الزامات
ثمر ہارون بلور کے مطابق سہیل آفریدی کے وزیر اعلیٰ بننے سے پہلے ہی ان کے ایک قریبی ساتھی ہادی سرگرم ہو گئے تھے۔ ان کا الزام ہے کہ اس دوران سرکاری افسران کی تقرری اور تبادلے کے لیے اور سرکاری کام کروانے کے لیے ایک مبینہ ریٹ لسٹ طے کی گئی، جس کے ذریعے اربوں روپے وصول کیے گئے۔
بلور نے کہا کہ یہ رقم قریبی ساتھیوں کے ذریعے جمع کی گئی اور اس عمل میں سرکاری نظام کو ذاتی فائدے کے لیے استعمال کیا گیا۔ تاہم رپورٹ میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ لین دین کن محکموں میں ہوا اور اس کی تاریخیں کیا تھیں۔

بیرون ملک فرار ساتھی کی واپسی کا دعویٰ
ثمر ہارون بلور کے مطابق ہادی ملک سے باہر فرار ہو چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی واپسی کے لیے متعلقہ حکومت سے رابطہ کیا گیا ہے اور انٹرپول سے بھی رابطہ کیا گیا ہے تاکہ انہیں واپس لایا جا سکے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس معاملے میں قانونی راستہ اختیار کیا جائے گا اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔
الزامات کی نوعیت اور اگلا مرحلہ
یہ بات اہم ہے کہ یہ تمام باتیں ثمر ہارون بلور کے الزامات ہیں۔ رپورٹ میں ان الزامات کی تائید میں کوئی دستاویز، مخصوص رقم یا محکموں کے نام پیش نہیں کیے گئے، اور نہ ہی اس رپورٹ میں سہیل آفریدی کا موقف شامل تھا۔
الزامات کی سچائی کا فیصلہ تحقیقات اور قانونی کارروائی کے بعد ہی ہو سکے گا۔ اس معاملے پر مزید پیش رفت سامنے آنے پر صورتحال مزید واضح ہوگی۔ مزید قومی خبریں وطن نیوز اردو پر ملاحظہ کی جا سکتی ہیں۔