اقوام متحدہ کی موسمیاتی کانفرنس کاپ31 کے آغاز میں صرف ایک ہفتہ رہ گیا ہے، اور میزبان شہر انطالیہ میں تیاریاں عروج پر ہیں۔ ترکیہ کے وزیر ماحولیات مراد کورم کے مطابق ۹۱ ممالک کے سربراہان مملکت اور حکومت نے شرکت کی تصدیق کر دی ہے۔ یہ کانفرنس ۹ سے ۲۰ نومبر ۲۰۲۶ تک انطالیہ میں منعقد ہو گی، جس میں ۱۹۶ ممالک کے نمائندے، تقریباً ۳۰۰ وزرا اور تقریباً ۱۵ لاکھ مہمانوں کی آمد متوقع ہے۔
کاپ31 کی صدارت ترکیہ کرے گا جبکہ مذاکرات کی قیادت آسٹریلیا کے پاس ہو گی۔ کانفرنس کا سب سے اہم حصہ ۱۱ اور ۱۲ نومبر کو عالمی رہنماؤں کا اجلاس ہو گا۔
اہم نکات
- کاپ31 انطالیہ میں ۹ سے ۲۰ نومبر ۲۰۲۶ تک منعقد ہو گی۔
- ۹۱ عالمی رہنماؤں نے شرکت کی تصدیق کر دی ہے۔
- ۱۹۶ ممالک، تقریباً ۳۰۰ وزرا اور تقریباً ۱۵ لاکھ مہمانوں کی آمد متوقع ہے۔
- عالمی رہنماؤں کا اجلاس ۱۱ اور ۱۲ نومبر کو ہو گا۔
- بنگلہ دیش قرضوں کے بجائے گرانٹ کی صورت میں موسمیاتی مالیات کا مطالبہ کرے گا۔
- قازقستان کاپ31 میں ۲۸ تعاون کی دستاویزات پر دستخط کی تیاری کر رہا ہے۔
کاپ31 میں کیا زیر بحث آئے گا؟
کانفرنس میں پیرس معاہدے پر عملدرآمد تیز کرنے، موسمیاتی تبدیلی سے مطابقت مضبوط کرنے، کمزور ممالک کے لیے مالیات متحرک کرنے اور صاف توانائی کی جانب عالمی منتقلی کو آگے بڑھانے پر توجہ دی جائے گی۔ ترکیہ کے وزیر مراد کورم کے مطابق ترکیہ اس موقع پر شہری ترقی کے اپنے تجربے، ۶ فروری ۲۰۲۳ کے زلزلوں کے بعد تعمیر نو اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ تعاون کو پیش کرے گا۔
کانفرنس سے پہلے انطالیہ کی صدارت نے انطالیہ مصنوعی ذہانت عہد بھی جاری کیا ہے، جس کا مقصد مصنوعی ذہانت کو موسمیاتی حل کا حصہ بنانا ہے۔ تاہم ماحولیاتی گروپوں نے خبردار کیا ہے کہ یہ عہد رضاکارانہ ہے اور اس میں اہداف خالی چھوڑے گئے ہیں۔ بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے اعداد کے مطابق مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا مراکز کی بجلی کی کھپت ۲۰۲۵ میں ۵۰ فیصد بڑھی ہے۔ اس عہد پر پیش رفت کا پہلا جائزہ کاپ32 میں ادیس ابابا میں لیا جائے گا۔

کاپ31 کے اہم اعداد
| شعبہ | تعداد |
|---|---|
| تصدیق شدہ عالمی رہنما | ۹۱ |
| شریک ممالک | ۱۹۶ |
| وزرا | تقریباً ۳۰۰ |
| متوقع مہمان | تقریباً ۱۵ لاکھ |
| قازقستان کی دستاویزات | ۲۸، جن میں ۱۹ مفاہمتی یادداشتیں |
| قازقستان پویلین کی تقریبات | ۳۶ |
بنگلہ دیش اور قازقستان کی تیاریاں
بنگلہ دیش کی وزیر مملکت برائے خارجہ امور شاما عبید اسلام نے ۲ نومبر کو بتایا کہ بنگلہ دیش ترقی یافتہ ممالک سے مطالبہ کرے گا کہ موسمیاتی مالیات قرضوں کے بجائے گرانٹ کی صورت میں دی جائے اور بڑے کاربن اخراج کرنے والے ممالک اپنی ذمہ داری قبول کریں۔ وزیر اعظم طارق رحمان ۱۱ اور ۱۲ نومبر کے عالمی رہنماؤں کے اجلاس میں شرکت کے لیے مختصر دورہ کریں گے۔ بنگلہ دیش اپنی موسمیاتی لچک، نہروں کی کھدائی، شجرکاری اور شمسی توانائی پر زور کو بھی اجاگر کرے گا۔
قازقستان کی وزارت ماحولیات کے مطابق ملک کاپ31 میں موسمیات، توانائی کی منتقلی، موسمیاتی سرمایہ کاری، صاف ٹیکنالوجی، ماحولیاتی تحفظ اور صحت کے شعبوں میں ۲۸ تعاون کی دستاویزات پر دستخط کی تیاری کر رہا ہے، جن میں ۱۹ مفاہمتی یادداشتیں شامل ہیں۔ قازقستان کے قومی پویلین میں ۳۶ تقریبات ہوں گی، جن میں پانچ وسطی ایشیائی ممالک کے وزرائے ماحولیات کی ملاقات بھی شامل ہے۔
ڈنمارک کی ملکہ میری بھی شریک ہوں گی
ڈنمارک کے شاہی گھر کے اعلان کے مطابق ملکہ میری ۸ سے ۱۰ نومبر تک انطالیہ میں رہیں گی، جہاں وہ بجلی کی فراہمی، بحرالکاہل کے چھوٹے جزیرہ ممالک کی صورتحال اور نوجوان مندوبین کی آواز پر توجہ دیں گی۔
نتیجہ
کاپ31 سے ایک ہفتہ پہلے دنیا بھر کے ممالک اپنے مطالبات اور تیاریوں کو حتمی شکل دے رہے ہیں۔ اصل امتحان یہ ہو گا کہ انطالیہ میں وعدے ٹھوس اقدامات میں کتنا بدلتے ہیں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
کاپ31 کب اور کہاں ہو رہی ہے؟
۹ سے ۲۰ نومبر ۲۰۲۶ تک ترکیہ کے شہر انطالیہ میں۔
کتنے عالمی رہنما شرکت کر رہے ہیں؟
ترکیہ کے وزیر ماحولیات کے مطابق ۹۱ سربراہان مملکت اور حکومت نے شرکت کی تصدیق کی ہے۔
عالمی رہنماؤں کا اجلاس کب ہو گا؟
۱۱ اور ۱۲ نومبر ۲۰۲۶ کو۔
کاپ31 کی صدارت کون کر رہا ہے؟
ترکیہ صدارت کرے گا جبکہ مذاکرات کی قیادت آسٹریلیا کے پاس ہو گی۔
بنگلہ دیش کا اہم مطالبہ کیا ہے؟
موسمیاتی مالیات قرضوں کے بجائے گرانٹ کی صورت میں دی جائے۔