تیونس نے دس سالہ عملی منصوبہ اپنا لیا ہے جس کے تحت تیس ہزار ہیکٹر جنگلات کی بحالی کی جائے گی۔ یہ فیصلہ اس نقصان کا جواب ہے جو 2011 سے 2025 کے درمیان جنگلات میں لگنے والی آگ سے ہوا، جس نے ملک کے چوہتر ہزار چھ سو دو ہیکٹر سے زیادہ جنگلات تباہ کر دیے تھے۔ یہ منصوبہ 2026 سے 2035 تک جاری رہے گا اور اس میں مقامی کارک اوک اور حلبی صنوبر کو مرکزی اہمیت دی جائے گی، جبکہ بڑے پیمانے پر شجرکاری کے ساتھ آگ کی جلد نشاندہی کے لیے ڈیجیٹل نظام، بہتر نرسریاں اور مقامی شراکت داری بھی شامل ہوگی۔
اس اعلان کی خبر تونس افریق پریس نے دی اور شنہوا نے 3 نومبر کو شائع کی۔ یہ اعلان تیونس کے قومی یوم شجر سے چند روز قبل سامنے آیا ہے، جو 8 نومبر کو “آج کا درخت، کل کا جنگل” کے نعرے کے تحت منایا جائے گا۔
نقصان کا پیمانہ
2011 سے 2025 کے درمیان آگ نے تیونس کے چوہتر ہزار چھ سو دو ہیکٹر جنگلات تباہ کیے، جس سے تقریباً دو سو اکتالیس ملین تیونسی دینار یعنی تقریباً اسی ملین امریکی ڈالر کا مالی نقصان ہوا۔ یہ نقصان زیادہ تر ملک کے شمالی جنگلات میں ہوا، جہاں گرم اور خشک گرمیوں نے آگ کے موسم کو لمبا کر دیا ہے اور بحالی کو مشکل بنا دیا ہے۔
تیونس کے جنگلات تقریباً بارہ لاکھ ہیکٹر پر پھیلے ہیں، جو ملک کے رقبے کا تقریباً ساڑھے آٹھ فیصد ہے، اور سات لاکھ سے دس لاکھ تیونسی جنگلاتی علاقوں میں رہتے ہیں یا ان پر انحصار کرتے ہیں۔ جنگلات کا شعبہ قومی مجموعی پیداوار میں تقریباً ایک اعشاریہ چار فیصد اور زرعی مجموعی پیداوار میں چودہ فیصد حصہ ڈالتا ہے۔
منصوبے میں کیا ہوگا
اس حکمت عملی کا مقصد صرف درختوں کی تعداد بڑھانا نہیں، بلکہ بحال شدہ جنگلات کو بدلتی آب و ہوا کے مقابلے میں زیادہ مضبوط بنانا ہے۔ شجرکاری کے ساتھ جنگلات کے بنیادی ڈھانچے کو جدید بنایا جائے گا، دس موجودہ نرسریوں کی بحالی کی جائے گی، اور بلند علاقوں میں خودکار نگرانی کے مینار اور پانی کے ذخائر بنائے جائیں گے۔
آگ کی جلد نشاندہی اور فوری ردعمل کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارم متعارف کرائے جائیں گے، جن کا ڈیٹا مرکزی نگرانی کے نظام میں جائے گا تاکہ منتظمین بحال شدہ علاقوں میں پودوں کی نشوونما، صحت اور آگ کے خطرے پر نظر رکھ سکیں۔ حکومت پانی کے وسائل کو متحرک کرے گی، موسمیاتی مالیات سے روابط مضبوط کرے گی، اور نجی شعبے اور سول سوسائٹی کے ساتھ شراکت داری بڑھائے گی۔
مقامی درخت پہلے
اس پروگرام میں دو مقامی اقسام کو ترجیح دی جائے گی: کارک اوک اور حلبی صنوبر۔ دونوں شمال کی بحیرہ روم کی آب و ہوا اور جنوب کے خشک میدانوں کے لیے موزوں ہیں، اور درآمد شدہ تیزی سے بڑھنے والی اقسام کے مقابلے میں خشک سالی کو بہتر برداشت کرتی ہیں۔
مقامی اقسام کا انتخاب اہم ہے۔ 3 نومبر 2026 کو شائع ہونے والی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ معتدل علاقوں میں شجرکاری سے جنگلاتی آگ کی سرگرمی میں اضافہ ہوا، اوسطاً فی ہیکٹر فی سال آگ کے واقعات میں چھبیس فیصد اضافہ دیکھا گیا، اور سب سے زیادہ اضافہ وہاں ہوا جہاں غیر مقامی مخروطی درخت لگائے گئے۔ محققین کا نتیجہ یہ ہے کہ نئے جنگلات کہاں اور کن اقسام سے لگائے جائیں، یہی طے کرتا ہے کہ وہ آگ کا خطرہ کم کریں گے یا بڑھائیں گے۔ تیونس کا مقامی اور آگ برداشت کرنے والے درختوں پر زور اور نگرانی کا نظام اسی خطرے کو سامنے رکھ کر بنایا گیا ہے۔

پہلے دو سال
2026 اور 2027 کے موسم میں چوبیس ہزار ہیکٹر پر بحالی کا کام ہوگا: پندرہ ہزار دو سو ساٹھ ہیکٹر قدرتی طور پر دوبارہ اگیں گے، اور آٹھ ہزار سات سو سولہ ہیکٹر پر جنگلات اور چراگاہی شجرکاری کی جائے گی۔ اسی عرصے میں نرسریاں ایک کروڑ پودے تیار کر کے لگائیں گی، اور ماحولیاتی نظام کی بحالی کے اقوام متحدہ کے عشرے کے تحت مزید اٹھارہ لاکھ پودے لگائے جائیں گے، جو 2021 سے 2030 تک جاری ہے۔
یہ منصوبہ عالمی حیاتیاتی تنوع کے فریم ورک کے اس ہدف سے بھی ہم آہنگ ہے جس کے تحت 2030 تک تباہ شدہ ماحولیاتی نظام کی بحالی کی جائے گی۔ اس طرح تیونس خطے میں جنگلات کی بحالی کی ایک مثال بن رہا ہے، جس میں ٹیکنالوجی، عوامی شراکت اور ماحولیاتی منصوبہ بندی کو جوڑا گیا ہے۔
افریقہ میں وسیع تر کوشش
تیونس کا یہ اعلان افریقہ میں شجرکاری کے ایک بڑے لمحے کے ساتھ سامنے آیا ہے۔ جیسا کہ وطن نیوز نے خبر دی، جمہوریہ کانگو 6 نومبر کو شجرکاری اور دوبارہ جنگلات کی بحالی کے اقوام متحدہ کے عشرے کا قبل از وقت آغاز کرے گا، جس میں اگنیے میں بڑے پیمانے پر شجرکاری ہوگی اور دو لاکھ سے زیادہ درخت لگانے کا ہدف ہے۔ اقوام متحدہ کا یہ عشرہ 2027 سے 2036 تک جاری رہے گا، اور دونوں ملکوں کے منصوبے بتاتے ہیں کہ افریقی ممالک جنگلات کی بحالی کو اپنی موسمیاتی حکمت عملی کا مرکزی حصہ بنا رہے ہیں۔
اہم نکات
- منصوبہ: تیونس کا 2026 سے 2035 تک کا عملی منصوبہ، جس کے تحت تیس ہزار ہیکٹر جنگلات کی بحالی اور ماحولیاتی نظام کی مضبوطی کی جائے گی۔
- نقصان: 2011 سے 2025 کے درمیان آگ نے چوہتر ہزار چھ سو دو ہیکٹر جنگلات تباہ کیے، جس کا نقصان تقریباً دو سو اکتالیس ملین تیونسی دینار یعنی اسی ملین امریکی ڈالر رہا۔
- اقسام: کارک اوک اور حلبی صنوبر، دونوں مقامی اور خشک سالی برداشت کرنے والی اقسام۔
- پہلے دو سال: چوبیس ہزار ہیکٹر بحالی؛ دس بہتر نرسریوں سے ایک کروڑ پودے؛ اقوام متحدہ کے عشرے کے تحت مزید اٹھارہ لاکھ پودے۔
- ٹیکنالوجی: خودکار نگرانی کے مینار، پانی کے ذخائر اور آگ کی جلد نشاندہی کے ڈیجیٹل پلیٹ فارم۔
- قومی یوم شجر: 8 نومبر، نعرہ “آج کا درخت، کل کا جنگل”۔
اکثر پوچھے گئے سوالات
تیونس تیس ہزار ہیکٹر جنگلات کی بحالی کیوں کر رہا ہے؟
2011 سے 2025 کے درمیان جنگلات کی آگ نے چوہتر ہزار چھ سو دو ہیکٹر جنگلات تباہ کیے، جس سے تقریباً دو سو اکتالیس ملین تیونسی دینار کا نقصان ہوا۔ دس سالہ منصوبے کا مقصد اس کھوئے ہوئے احاطے کو بحال کرنا اور جنگلات کو گرم اور خشک حالات کے مقابلے میں مضبوط بنانا ہے۔
کون سے درخت لگائے جائیں گے؟
منصوبے میں کارک اوک اور حلبی صنوبر کو ترجیح دی جائے گی، جو تیونس کی بحیرہ روم کی آب و ہوا کے لیے موزوں مقامی اقسام ہیں اور خشک سالی کو بہتر برداشت کرتی ہیں۔
مستقبل کی آگ کو کیسے روکا جائے گا؟
خودکار نگرانی کے مینار، بلند علاقوں میں پانی کے ذخائر اور آگ کی جلد نشاندہی کے ڈیجیٹل پلیٹ فارم استعمال ہوں گے، جن کا ڈیٹا مرکزی نگرانی کے نظام میں جائے گا۔
پہلے دو سال میں کیا ہوگا؟
2026 اور 2027 میں چوبیس ہزار ہیکٹر پر بحالی ہوگی، جن میں پندرہ ہزار دو سو ساٹھ ہیکٹر قدرتی بحالی اور آٹھ ہزار سات سو سولہ ہیکٹر نئی شجرکاری شامل ہے، اور دس بہتر نرسریاں ایک کروڑ پودے تیار کریں گی۔
یہ عالمی موسمیاتی کوششوں سے کیسے جڑا ہے؟
یہ منصوبہ ماحولیاتی نظام کی بحالی کے اقوام متحدہ کے عشرے اور عالمی حیاتیاتی تنوع کے فریم ورک کے 2030 تک بحالی کے ہدف سے ہم آہنگ ہے۔ یہ اسی ہفتے سامنے آیا ہے جب جمہوریہ کانگو شجرکاری کے اقوام متحدہ کے عشرے کا قبل از وقت آغاز کر رہا ہے۔