- 0
- 6 words
بیجنگ: چین نے اعلان کیا ہے کہ ایک پاکستانی خلا باز رواں سال شینژو-24 مشن کے تحت چین کے خلائی اسٹیشن کا حصہ بنے گا۔ یہ پہلا موقع ہوگا جب کوئی غیر ملکی خلا باز چینی خلائی اسٹیشن کا دورہ کرے گا، اور یہ مشن چین کے انسان بردار خلائی پروگرام کی تاریخ میں پہلی مشترکہ پرواز ہوگی جس میں چینی اور غیر ملکی خلا باز ایک ساتھ حصہ لیں گے۔
اہم نکات
- پاکستانی خلا باز شینژو-24 خلائی جہاز کے ذریعے چینی خلائی اسٹیشن جائے گا
- وہ پے لوڈ ماہر کے طور پر خلائی تجربات اور آلات کی نگرانی کرے گا
- مدار میں مختصر قیام کے بعد وہ شینژو-23 خلائی جہاز کے ذریعے زمین پر واپس آئے گا
- خلا باز کا نام اور روانگی کی تاریخ کا اعلان ابھی نہیں کیا گیا
- دو پاکستانی پائلٹ محمد ذیشان علی اور خرم داؤد بیجنگ میں تربیت حاصل کر رہے ہیں
پہلی بار غیر ملکی خلا باز
چین کے انسان بردار خلائی ادارے نے ہفتے کے روز اعلان کیا کہ پاکستانی خلا باز پے لوڈ ماہر کے طور پر شینژو-24 مشن میں شامل ہوگا۔ چینی سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق یہ خلا باز خلائی اسٹیشن پر سائنسی تجربات اور آلات کی نگرانی کی ذمہ داریاں انجام دے گا۔
ادارے کے مطابق پاکستانی خلا باز مدار میں مختصر مدت کی پرواز مکمل کرنے کے بعد شینژو-23 خلائی جہاز کے ذریعے زمین پر واپس آئے گا۔ تاہم، چین نے ابھی تک اس مشن کی روانگی کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا، اور نہ ہی یہ بتایا گیا ہے کہ دونوں امیدواروں میں سے کون سا خلا باز پرواز کرے گا۔
اس اعلان کو بیجنگ کی خلائی سفارت کاری کے سلسلے میں بھی ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
تربیت اور انتخاب
پاکستان کے خلائی ادارے کے ایک عہدیدار نے ستمبر میں خبر رساں ادارے کو بتایا تھا کہ پاکستانی پائلٹ محمد ذیشان علی اور خرم داؤد کئی ماہ سے بیجنگ میں قائم چینی خلا باز تحقیق و تربیت مرکز میں اس مشن کے لیے تربیت حاصل کر رہے ہیں۔
فروری 2025 میں اسلام آباد میں چین اور پاکستان کے درمیان خلا بازوں کے انتخاب، تربیت اور چینی خلائی اسٹیشن کے مشنوں میں شرکت سے متعلق تعاون کے معاہدے پر دستخط ہوئے تھے، جس کے بعد پاکستان سے خلا بازوں کے انتخاب کا عمل شروع ہوا۔ سخت تین مرحلوں والے انتخابی عمل کے بعد دو پاکستانی خلا باز منتخب ہوئے، اور اپریل 2026 میں دونوں چینی خلا بازوں کے ساتھ تربیت کے لیے تربیتی مرکز میں داخل ہوئے۔
تربیت اور جائزے مکمل ہونے کے بعد ایک خلا باز پرواز کرے گا جبکہ دوسرا متبادل کے طور پر رہے گا۔

پاک چین خلائی تعاون
یہ مشن بیجنگ کے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے تحت پاکستان اور چین کے درمیان دوطرفہ تعاون کا حصہ ہے۔ پاکستانی خلا باز اس مشن کے دوران پاکستان کے سائنسی تجربات اور خلائی اطلاقات سے متعلق کام انجام دے گا۔
چین کا خلائی اسٹیشن تیانگونگ 2021 سے کام کر رہا ہے اور 2022 میں اس کی تعمیر مکمل ہوئی تھی۔ شینژو-24 مشن خلائی اسٹیشن کے معمول کے کام اور بین الاقوامی تعاون کو بھی آگے بڑھائے گا۔
پاکستان کے لیے یہ پیش رفت خلائی تحقیق کے میدان میں ایک تاریخی سنگ میل ہے، کیونکہ پہلی بار کوئی پاکستانی خلا باز مدار میں جا کر خلائی اسٹیشن پر کام کرے گا۔
مزید قومی خبریں پڑھنے کے لیے وطن نیوز کا اردو صفحہ ملاحظہ کریں۔