ایران کے جزیرہ قشم پر ہفتے کی صبح دو میزائل گرے، جب کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ امریکی افواج نے جزیرے پر ایرانی فضائی دفاع کی ایک تنصیب پر محدود حملہ کیا تھا۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق حملوں سے ہونے والے نقصان کے بارے میں تاحال کوئی سرکاری معلومات سامنے نہیں آئیں، جب کہ کسی جانی نقصان کی بھی اطلاع نہیں ملی۔
اہم نکات
- ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ابتدائی اطلاعات میں جزیرہ قشم پر دو میزائل گرنے کی خبر دی گئی۔
- سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا نے عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا کہ جزیرے کے اوپر طیارے کی آواز سنائی دینے کے بعد سوزا کے علاقے میں دو گولے گرے۔
- ایرانی فوج کا دعویٰ ہے کہ اس کی فضائی دفاعی فورسز نے جزیرے کی فضا میں ایک امریکی ڈرون مار گرایا، تاہم امریکہ نے اس دعوے کی تصدیق نہیں کی۔
- امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکی افواج نے قشم میں ایرانی فضائی دفاعی تنصیب پر محدود حملہ کر کے اسے چند منٹ میں ناکارہ بنا دیا۔
- امریکی سینٹرل کمانڈ نے جزیرے کی صورتحال کو نسبتاً پرسکون قرار دیتے ہوئے مزید تبصرے سے گریز کیا۔
قشم میں کیا ہوا؟
ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نے ہفتے کے روز بتایا کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق جزیرہ قشم پر دو میزائل گرے ہیں۔ خبر میں کہا گیا کہ متعلقہ حکام کی جانب سے واقعے کی تصدیق کے بعد مزید تفصیلات جاری کی جائیں گی، جب کہ ممکنہ نقصان کے بارے میں تاحال کوئی سرکاری معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
اس سے قبل سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا نے خبر دی تھی کہ مقامی عینی شاہدین کے مطابق جزیرہ قشم کے اوپر ایک طیارے کی آواز سنے جانے کے بعد سوزا کے علاقے میں دو گولے گرے۔ ایرانی سرکاری ٹیلی وژن نے بتایا کہ سوزا کے علاقے میں جمعے کی رات دو دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

آبنائے ہرمز سے گزرتا ہوا تیل بردار جہاز (علامتی تصویر)
ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس نے جزیرہ قشم کے ساتھ ساتھ بندر خمیر کے قریب بھی دھماکوں کی خبر دی اور کہا کہ ان کا تعلق آبنائے ہرمز کی طرف کیے گئے انتباہی حملوں سے ہو سکتا ہے۔ جزیرہ قشم ایران کا سب سے بڑا جزیرہ ہے اور آبنائے ہرمز کے شمالی راستے کے قریب واقع ہے، جو دنیا بھر میں تیل کی ترسیل کا ایک نہایت اہم راستہ ہے۔
ایرانی فوج کا کہنا ہے کہ اس کی فضائی دفاعی فورسز نے ہفتے کے روز جزیرے کی فضا میں ایک امریکی ایم کیو نائن ڈرون کو روک کر تباہ کر دیا۔ اس سے ایک روز قبل پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا تھا کہ ایرانی فضائی دفاع نے قشم کے قریب ایک امریکی ایم کیو ون ڈرون مار گرایا، جسے ارنا نے اس نوعیت کا سولہواں ڈرون قرار دیا۔ امریکہ نے ان دونوں دعووں کی تصدیق نہیں کی ہے اور نہ ہی اس بارے میں کوئی شواہد سامنے آئے ہیں۔
ٹرمپ کی تصدیق اور مذاکرات کا سلسلہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کی رات فلوریڈا کے شہر ویسٹ پام بیچ میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکی افواج نے ایران کے فضائی دفاع پر محدود حملے کیے ہیں۔ ان کے الفاظ میں، ایرانی فوج نے فضائی دفاع کا ایک چھوٹا سا آلہ نصب کیا تھا اور امریکی افواج نے اسے تقریباً پندرہ منٹ میں، شاید پانچ منٹ میں، ناکارہ بنا دیا۔
ٹرمپ نے اس موقع پر یہ بھی کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں اچھی پیش رفت ہو رہی ہے اور تہران معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آٹھ ماہ کی جنگ میں ایران کی معیشت اور فوج کو شدید نقصان پہنچا ہے اور ایرانی قیادت تنازع ختم کرنے کے لیے بے تاب ہے۔
دونوں ملکوں کے درمیان ثالثوں کی مدد سے مذاکرات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ جمعرات کو ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے بتایا تھا کہ ایران نے قطر کے ذریعے امریکہ کو جوہری معاملے پر ایک تجویز بھیجی ہے، جس پر واشنگٹن کی جانب سے تہران کے سات مطالبات پورے کیے جانے کے بعد ہی بات چیت آگے بڑھے گی۔ قطر کے بین الاقوامی میڈیا دفتر نے ہفتے کو ان خبروں کی تردید کی کہ امریکہ اور ایران جنگ ختم کرنے کے کسی معاہدے پر پہنچنے میں ناکام ہو گئے ہیں اور ان الزامات کو جھوٹا اور گمراہ کن قرار دیا۔
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے منگل کو کہا تھا کہ ان کی حکومت اب بھی بات چیت کے ذریعے بحران حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اسی ہفتے ٹرمپ نے کہا تھا کہ انہیں اب بھی ایک یا دو اہداف سے نمٹنا ہے، جن میں وسطی ایران میں واقع پک ایکس پہاڑ بھی شامل ہے، جسے امریکہ ایک مشتبہ جوہری مقام قرار دیتا ہے، جب کہ تہران اس بات سے انکار کرتا ہے کہ وہاں کوئی ایسی تنصیب موجود ہے۔
آبنائے ہرمز اور خطے کی کشیدگی
قشم پر حملوں سے چند روز قبل، تین نومبر کو بھی امریکہ نے آبنائے ہرمز کے قریب ایران کے بعض اہداف پر دفاعی حملے کیے تھے، جن میں جزیرہ قشم کے اہداف بھی شامل تھے۔ یہ حملے امریکی وسط مدتی انتخابات سے ایک روز قبل کیے گئے تھے۔
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے رواں برس 28 فروری کو ایران پر حملوں کے بعد سے تہران نے جوابی کارروائی میں اسرائیل اور خلیجی ممالک میں امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات کو نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ آبنائے ہرمز کو بھی عملاً بند کر دیا تھا۔ اس جنگ نے پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اور عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
پاسداران انقلاب کے دعوے کے مطابق آبنائے ہرمز میں دو تیل بردار جہاز بھی سمندری سرنگوں سے ٹکرا کر تباہ ہوئے۔ پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ ان جہازوں نے غیر مجاز راستے اپنانے کی کوشش کی تھی۔ اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
اسی دوران امریکی سینٹرل کمانڈ نے جمعے کو کہا کہ واشنگٹن ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں معلومات پر دو کروڑ ڈالر تک انعام اور ممکنہ منتقلی کی پیشکش کر رہا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق ایران کی جانب سے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے ساتھ حفاظتی ذمہ داریوں پر عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے ایجنسی ایران میں سینٹری فیوجز جیسے اہم اجزا کی پیداوار اور ذخیرے سے متعلق معلومات سے محروم ہو گئی ہے۔
قشم پر تازہ حملوں اور ڈرون مار گرانے کے دعووں کے بعد خطے کی صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔ ایک طرف محدود حملے اور جوابی دعوے جاری ہیں اور دوسری طرف ثالثوں کے ذریعے مذاکرات کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ آنے والے دن اس بات کا تعین کریں گے کہ آیا فریقین کسی معاہدے کی طرف بڑھتے ہیں یا کشیدگی میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔ عالمی خبروں کی مزید تازہ ترین صورتحال وطن نیوز پر پڑھیں۔