- 0
- 3 words
سنگاپور — اقوامِ متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام (یو این ای پی) کے مطابق 17 ستمبر 2026 کو سنگاپور میں گلوبل کولنگ پلیج اسمبلی پر حکومتوں، شہروں اور صنعتی شراکت داروں نے پائیدار ٹھنڈک کے اقدامات کا ایک پیکج اعلان کیا۔ پیکج کا مرکز عالمی ہیٹ ریزیلینس روڈ میپ اور نیچر فار کولنگ چیلنج ہے، جبکہ مالیاتی اور صنعتی پلیٹ فارم گلوبل کولنگ پلیج کے وعدوں کو عملی ترسیل میں بدلنے کے لیے بنائے گئے ہیں۔
یو این ای پی کہتا ہے کہ ٹھنڈک کی عالمی مانگ تیزی سے بڑھ رہی ہے اور 2050 تک ایئر کنڈیشنرز تقریباً 5.6 بلین تک پہنچ سکتے ہیں — آج سے تقریباً تین گنا — جس سے گرمی سے حفاظت بڑھاتے ہوئے توانائی اور اخراج کا تالا نہ لگانا ضروری ہے۔
نیچر فار کولنگ چیلنج: برازیل، کمبوڈیا اور آئیوری کوسٹ
یو این ای پی کے مطابق برازیل، کمبوڈیا اور آئیوری کوسٹ نیچر فار کولنگ چیلنج میں شامل ہو چکے ہیں۔ مقابلے کی قیادت یو این ای پی اور سسٹین ایبل انرجی فار آل (ایس ای فار آل) کے پاس ہے؛ اس کی پشت پر گلوبل انوائرنمنٹ فسیلیٹی (جی ای ایف) کی تین ملین امریکی ڈالر گرانٹ اور تینتیس ملین ڈالر کا کو فائنانسنگ ہے۔ منتظمین کہتے ہیں کہ یہ شہری جنگلات، پارکس، سبز چھتوں اور دیگر فطرت پر مبنی طریقوں والے منصوبوں کی نشاندہی اور معاونت کرے گا؛ یو این ای پی کا بیان ہے کہ ایسے اقدامات چوٹی کی موسمِ گرما کی حرارت پانچ ڈگری سیلسیس تک کم کر سکتے ہیں۔
فریم ورک دوہرا مقصد رکھتا ہے: لوگوں کو ٹھنڈک اور روایتی ریفریجریشن کے موسمیاتی نقش میں کمی۔ یہ موافقت کو ٹھنڈک اخراج کی تخفیف سے جوڑتا ہے — موضوع جسے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اِنگر اینڈرسن نے 16 ستمبر نیروبی میں کلائمیٹ ویک اور سی او پی 31 سے پہلے اجاگر کیا۔
ہیٹ ریزیلینس روڈ میپ اور مینوفیکچرنگ پلیٹ فارم
اسمبلی میں حکومتوں نے عالمی ہیٹ ریزیلینس روڈ میپ کی شکل دینا شروع کی۔ یو این ای پی اسے لچکدار فریم ورک قرار دیتا ہے جو ممالک کو لوگوں اور ضروری خدمات — اسکول، اسپتال، کام کی جگہیں اور توانائی کے ڈھانچے — کی حفاظت میں مدد دے، جبکہ موافقت، لچک اور تخفیف کے اہداف کو یکجا کرے۔
اجلاس نے کول کولیشن کے تحت یو این ای پی یونائیٹڈ فار ایفیشنسی (یو 4 ای) مینوفیکچرنگ پلیٹ فارم بھی متعارف کرایا۔ رضاکارانہ اقدام موثر ٹھنڈک آلات اور کم جی ڈبلیو پی ریفریجرنٹس کی طرف منتقلی تیز کرے گا؛ شرکاء سے قابلِ پیمائش وعدے متوقع ہیں۔
اسمبلیاں خود اخراج کم نہیں کرتیں۔ یو این ای پی نوٹ کرتا ہے کہ ڈنمارک، اٹلی، سوئٹزرلینڈ اور برطانیہ سمیت حکومتوں اور چلڈرنز انویسٹمنٹ فنڈ فاؤنڈیشن، کلائمیٹ ورکس، ہیولٹ اور سیکوئیا کلائمیٹ فاؤنڈیشن جیسی فلانتھراپی سے مالی مدد جمع ہو رہی ہے۔ اسمبلی میں کولنگ پر بین الحکومتی کمیٹی کا پہلا اجلاس بھی ہوا۔
گلوبل کولنگ پلیج کیا فراہم کرنا چاہتا ہے
سی او پی 28 (2023) پر شروع ہونے والا گلوبل کولنگ پلیج 2050 تک ٹھنڈک سے وابستہ اخراج کو 2022 کی سطح سے کم از کم 68 فیصد کم کرنے، 2030 تک پائیدار ٹھنڈک تک رسائی نمایاں طور پر بڑھانے، اور 2030 تک نئے ایئر کنڈیشنگ آلات کی عالمی اوسط کارکردگی کو 2022 کی نصب بنیاد سے 50 فیصد بڑھانے کا ہدف رکھتا ہے، یو این ای پی کے مطابق۔
سنگاپور کے اعلانات ترسیلی اوزار ہیں — روڈ میپ، نیچر چیلنج، مینوفیکچرنگ پلیٹ فارم اور فنانس — نہ نیا معاہدہ۔ اسی اسمبلی پر کول لیڈرز ایوارڈز بھی ہوئے؛ یہ رپورٹ ہیٹ ریزیلینس و نیچر کولنگ پر مرکوز ہے۔ ممالک انہیں فنڈڈ منصوبوں اور معیارات میں کتنی تیزی سے بدلیں گے، اسی پر 2030 و 2050 اہداف کی ساکھ منحصر ہے۔
ذرائع: یو این ای پی پریس ریلیز 17 ستمبر 2026؛ اِنگر اینڈرسن تقریر 16 ستمبر 2026۔ تصویر: Chensiyuan / ویکیمیڈیا کامنز (CC BY-SA 4.0) — توضیحی سنگاپور منظر۔