15 ستمبر 2026 کو استنبول میں ہونے والے بین الاقوامی ہرانت دنک ایوارڈ نے ترکی کے شہری کیلنڈر میں ماحول کے دفاع کو نمایاں جگہ دی۔ اسی ہفتے یورپی پریس فریڈم کی دستاویزات نے ایک بار پھر واضح کیا کہ ترکی میں ماحولیات اور شہری معاملات پر رپورٹنگ صحافیوں کے لیے کتنی مہنگی اور قانونی طور پر پیچیدہ ہو سکتی ہے۔
زمین اور ماحولیات کو مرکز میں رکھنے والا ایوارڈ
استنبول کے حربیہ محسن ارتغرل اسٹیج پر ہونے والی 18ویں بین الاقوامی ہرانت دنک ایوارڈ تقریب میں ترکی کی سوہیلا دوغان کو فلسطینی انسانی حقوق کے وکیل راجی سورانی کے ساتھ اعزاز دیا گیا۔ ہرانت دنک فاؤنڈیشن کے مطابق دوغان نے کاز داغلاری، یعنی ماؤنٹ ایدا، کے خطے اور اس کے قدرتی و ثقافتی وسائل کے دفاع سے دست بردار ہونے سے انکار کیا، خواتین کے انسانی حقوق کے لیے کام کیا، ریاستی پشت پناہی والے ماحولیاتی تباہی کے منصوبوں کے خلاف آواز اٹھائی اور فطرت کے ساتھ زندگی گزارنے کے حق کی حمایت کی۔
ماحولیاتی صحافی کن مشکلات کا ذکر کرتے ہیں
یہ وضاحت ضروری ہے کہ دوغان ماحولیاتی اور انسانی زندگی کی مدافع ہیں، نیوز روم کی صحافی نہیں۔ صحافت سے تعلق یہاں سیاق و سباق کا ہے: ایک بڑے حقوقی ایوارڈ نے ماحولیاتی تنازع کو ترکی اور بین الاقوامی میڈیا کی مرکزی گفتگو میں جگہ دی، ایسے وقت میں جب کانوں، جنگلات اور شہری زمین کے سودوں کی تحقیق کرنے والے رپورٹر نظامی رکاوٹوں کی بات کر رہے ہیں۔
گرین جرنلزم کے لیے اس کی اہمیت
یورپی سینٹر فار پریس اینڈ میڈیا فریڈم، ای سی پی ایم ایف، نے صحافیوں کے جرنلسٹس اِن ریزیڈنس پروگرام کے دوران تحقیقاتی رپورٹر حزال اوجاک کا انٹرویو شائع کیا۔ اوجاک کے مطابق ترکی میں ماحولیاتی اور شہری صحافت کو سیاست کے مقابلے میں مسلسل کم ترجیح دی جاتی ہے، حالانکہ موسمیاتی اثرات بڑھ رہے ہیں۔
محتاط اندازِ بیان
اوجاک نے بتایا کہ آئینی رسائی کے حقوق موجود ہونے کے باوجود، جن میں سی آئی ایم ای آر نظام بھی شامل ہے، ساتھیوں کو سرکاری معلومات حاصل کرنے میں دشواری ہوتی ہے۔ شائع شدہ رپورٹس ہٹوانے کی کوششیں اور ایسے مقدمات بھی سامنے آتے ہیں جو ان کے بقول ایس ایل اے پی پی، یعنی صحافت کو تھکانے یا خاموش کرنے والے مقدمات، کی طرح کام کرتے ہیں۔ انہوں نے کئی برس چلنے والی قانونی کارروائیوں کا ذکر کیا، جن میں صدارتی مواصلات کے ڈائریکٹر فخرالدین آلتون کی شکایت سے جڑا ایک مقدمہ بھی شامل تھا؛ اس میں طویل قید کی درخواست کے بعد بریت ہوئی، مگر اپیل کر دی گئی۔ بلال اردوغان سے متعلق رپورٹنگ پر توہین یا بدنامی کے ایک الگ جرمانے کو بھی وہ آئینی عدالت لے گئی ہیں۔ ان کے مطابق ایسے مقدمات رپورٹر کو تھکا دینے کے لیے بنائے جاتے ہیں۔
اسٹاک ہوم سینٹر فار فریڈم نے رپورٹرز وِدآؤٹ بارڈرز، آر ایس ایف، کے حوالے سے بتایا ہے کہ ترکی ان ملکوں میں شامل ہے جہاں جنگلات کی کٹائی اور کان کنی جیسے ماحولیاتی نقصانات پر رپورٹ کرنے والے صحافی قانونی ہراسانی کا سامنا کرتے ہیں۔ رپورٹ میں سوؤزجو سے منسلک درجنوں صحافیوں کے خلاف شکایات کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔
ماحولیاتی محافظوں کو دیے جانے والے ایوارڈ زمین اور آب و ہوا کے بارے میں عوامی زبان کو وسیع کرتے ہیں، لیکن وہ خود بخود پریس آزادی کی ضمانت نہیں بنتے۔ اوجاک کی گواہی سے اشارہ ملتا ہے کہ ترکی میں گرین جرنلزم اب بھی متبادل میڈیا اداروں، سماعتوں کے دوران باہمی یکجہتی اور ایسی رہنمائی پر انحصار کرتا ہے جو نوجوان رپورٹرز کو مقامی تباہی کو وسیع تر موسمیاتی بحران سے جوڑنا سکھائے۔
قارئین کو دوغان کے ماحولیاتی دفاع کے ایوارڈ کو صحافتی انعام نہیں سمجھنا چاہیے۔ گرین جرنلزم ڈیسک کے لیے اصل خبر معلوماتی ماحول ہے: ایک نمایاں ماحولیاتی اعزاز اس وقت سامنے آیا ہے جب ان رپورٹرز کو قانونی دباؤ اور معلومات تک رسائی کی رکاوٹوں کا سامنا ہے جو عوامی ریکارڈ کے لیے ماحول سے متعلق دعووں کی تصدیق کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ذرائع: ہرانت دنک فاؤنڈیشن کی 15 ستمبر 2026 کی تقریب؛ آگوس، 16 ستمبر 2026؛ ای سی پی ایم ایف کا حزال اوجاک انٹرویو؛ اسٹاک ہوم سی ایف/آر ایس ایف کا ماحولیاتی رپورٹنگ ہراسانی خلاصہ۔