وسطی ایشیا: جنوبی کوریا کے ساتھ پہلی سربراہی میں معدنیات اور توانائی مرکزِ توجہ
جنوبی کوریا نے وسطی ایشیا کے پانچ ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ پہلی کثیر فریقی سربراہی میٹنگ منعقد کی ہے، جس میں اہم معدنیات، توانائی اور سپلائی چین تعاون کو مرکزی مقام دیا گیا۔ یہ پیش رفت خطے کی جیو اکنامک اہمیت اور سیول کی سٹریٹیجک معدنیات کے متبادل ذرائع تلاش کرنے کی کوشش کو اجاگر کرتی ہے۔
رائٹرز کی 16 ستمبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق صدر لی جاے میونگ نے سیول میں قازقستان، ازبکستان، ترکمانستان، کرغزستان اور تاجکستان کے رہنماؤں کی میزبانی کی۔ سربراہی تین دن کی دو طرفہ ملاقاتوں کا اختتام تھی، جن سے توانائی، کان کنی، انفراسٹرکچر، ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری پر 70 سے زائد معاہدے اور مفاہمت نامے سامنے آئے۔
سربراہی کے بعد کاروباری فورم میں صدر لی نے کہا کہ جنوبی کوریا خام مال کی درآمد سے آگے بڑھ کر صنعتی شراکت داری کو گہرا کرنا چاہتا ہے۔ ان کے بقول صرف خام معدنیات کی تجارت نہیں بلکہ دریافت، ریفائننگ، اعلیٰ قدر والی مواد کی پروسیسنگ اور تیار مصنوعات کی تیاری تک پوری ویلیو چین میں تعاون مضبوط کرنا ہوگا۔ انہوں نے وسطی ایشیا میں جنوبی کوریا کی قیادت میں نایاب دھاتوں کے مراکز کا ذکر کیا جو مشترکہ تحقیق اور افرادی قوت کی تربیت کو فروغ دیں گے۔
اجلاس نے باقاعدہ دو سالہ سربراہیوں کا فریم ورک قائم کیا؛ اگلی میٹنگ 2028 میں آستانہ، قازقستان میں ہوگی۔ اسی ہفتے جنوبی کوریا اور قازقستان نے جوہری توانائی، خام تیل اور اہم معدنیات پر معاہدے کیے اور تعلقات کو جامع اسٹریٹیجک پارٹنرشپ تک بلند کیا۔ ازبکستان، ترکمانستان، کرغزستان اور تاجکستان کے ساتھ ملاقاتوں سے بھی اسٹریٹیجک معدنیات، توانائی، انفراسٹرکچر، تجارت، سرمایہ کاری اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز پر سمجھوتے ہوئے۔
ایس کے گروپ کے چیئرمین چے تائے وون نے بھی اہم معدنیات میں تعاون کو صرف ترقی سے بڑھا کر ریفائننگ سے مواد کی تیاری تک پھیلانے پر زور دیا اور قابل تجدید توانائی و جوہری طاقت میں مضبوط تعاون کی بات کی۔ رائٹرز کے مطابق جنوبی کوریا 2017 سے ‘نیو ناردرن پالیسی’ کے تحت وسطی ایشیا اور یوریشیائی شراکت داروں سے تعلقات گہرا کر رہا ہے تاکہ توانائی اور سٹریٹیجک معدنیات کے ذرائع متنوع بنائے اور اپنی کمپنیوں کے لیے مواقع کھولے۔
خطے کے اندر بھی اقتصادی ربط بڑھ رہا ہے۔ آستانہ ٹائمز کے مطابق 2026 کی پہلی ششماہی میں قازقستان اور ازبکستان کے درمیان تجارت تقریباً 2.8 ارب ڈالر تک پہنچی، جبکہ سرمایہ کاری میں تقریباً 1.8 ارب ڈالر کے 80 مشترکہ منصوبے جاری ہیں۔ دونیو ایجنسی کے مطابق 16 ستمبر کو سمرقند میں سڑک نقل و حمل کمیشن نے ‘سیملیس ٹرانزٹ’ میکانزم کے لیے ورکنگ گروپ بنانے پر اتفاق کیا — یعنی طریقہ کار کی سادگی، ڈیجیٹلائزیشن اور الیکٹرانک دستاویزات کی طرف پیش قدمی۔
یہ کہانی وسطی ایشیا کو خام برآمد کنندہ سے سپلائی چین کے فعال کھلاڑی بنانے کی کوشش کو پیش کرتی ہے۔ جنوبی کوریا معدنیات اور توانائی کے تنوع کی تلاش میں ہے؛ وسطی ایشیائی ریاستیں سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی اور ٹرانزٹ صلاحیت چاہتی ہیں۔ اگلے مراحل میں معاہدوں کا عملی نفاذ، 2028 کی آستانہ سربراہی کی تیاری، اور روس–قازقستان–ازبکستان گیس ٹرانزٹ جیسی متوازی توانائی گفتگوؤں پر نظر رہے گی۔