×

یورپی یونین کے پانچ رکن ممالک نے افریقہ میں تارکین وطن کے لیے پہلا ڈی پورٹیشن سینٹر قائم کرنے کا منصوبہ بنایا ہے جو 2027 کے آخر تک فعال ہو جائے گا۔ یہ اقدام یورپی یونین کے باہر پناہ کے خواہشمندوں کو منتقل کرنے کے دیرینہ منصوبوں کا حصہ ہے، جس کا مقصد پناہ کے عمل کو تیز کرنا اور غیر قانونی تارکین وطن کے بہاؤ کو کنٹرول کرنا ہے۔

  • یورپی یونین کے پانچ ممالک، جن میں یونان، جرمنی، آسٹریا، ڈنمارک اور نیدرلینڈز شامل ہیں، افریقہ میں مشترکہ ڈی پورٹیشن سینٹر قائم کریں گے۔
  • یہ منصوبہ 2027 کے دوسرے نصف میں شروع ہونے کی توقع ہے، جب یونان یورپی یونین کونسل کی صدارت سنبھالے گا۔
  • سینٹر کو ‘اوپن فیسیلیٹی’ کے طور پر ڈیزائن کیا جائے گا، جہاں پناہ کے مسترد شدہ درخواست دہندگان کو ان کے آبائی ممالک واپس بھیجنے کے انتظامات کیے جائیں گے۔
  • اس منصوبے کی مالی معاونت پانچ یورپی ممالک خود کریں گے اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے اقوام متحدہ اور بین الاقوامی تنظیم برائے ہجرت (IOM) جیسی تنظیموں کی نگرانی بھی شامل ہوگی۔

منصوبے کی تفصیلات اور مقاصد

یونان کے وزیر برائے ہجرت، تھانوس پلیوریس نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ اس منصوبے کے تحت افریقہ میں ایک ملک کا انتخاب کیا گیا ہے، تاہم اس کا نام ابھی ظاہر نہیں کیا گیا۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد ان تارکین وطن کو ان کے آبائی ممالک واپس بھیجنا ہے جن کی پناہ کی درخواستیں مسترد ہو چکی ہیں۔

  • یہ سینٹر پناہ کے مسترد شدہ افراد کے لیے ‘اوپن فیسیلیٹی’ کے طور پر کام کرے گا۔
  • اس کا مقصد پناہ کے عمل کو تیز کرنا اور غیر قانونی تارکین وطن کے بہاؤ کو کنٹرول کرنا ہے۔
  • یورپی یونین کے رکن ممالک اس منصوبے کی مکمل مالی معاونت کریں گے۔
  • اس منصوبے میں انسانی حقوق کے بین الاقوامی معیاروں کو یقینی بنانے کے لیے نگرانی کا نظام شامل ہوگا۔

قانونی اور انسانی حقوق کے خدشات

پناہ کے خواہشمندوں کو یورپی یونین سے باہر منتقل کرنے کے منصوبے ہمیشہ قانونی اور انسانی حقوق کے خدشات کا شکار رہے ہیں۔ ماضی میں برطانیہ کی جانب سے روانڈا کے ساتھ ایسا ہی ایک معاہدہ کیا گیا تھا، جسے برطانوی سپریم کورٹ نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خدشے کے باعث غیر قانونی قرار دے دیا تھا۔

برطانوی ‘روانڈا ماڈل’ کی ناکامی

برطانوی حکومت نے 2022 سے 2024 تک غیر قانونی طور پر ملک میں داخل ہونے والے تارکین وطن کو روانڈا بھیجنے کی کوشش کی تاکہ وہ وہاں اپنی پناہ کی درخواستوں پر کارروائی کروا سکیں۔ تاہم، برطانوی سپریم کورٹ نے اس منصوبے کو اس بنیاد پر روکا کہ روانڈا میں پناہ کے خواہشمندوں کو ان کے آبائی ممالک میں واپس بھیجے جانے کا حقیقی خطرہ تھا جہاں انہیں تشدد یا غیر انسانی سلوک کا سامنا ہو سکتا تھا۔ اس منصوبے پر برطانوی حکومت نے 715 ملین یورو (تقریباً 835 ملین امریکی ڈالر) خرچ کیے تھے۔

یورپی یونین کے رکن ممالک کا مشترکہ اقدام

یونان، جرمنی، آسٹریا، ڈنمارک اور نیدرلینڈز نے ان قانونی رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے ایک نیا طریقہ کار وضع کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ پناہ کے مسترد شدہ افراد کو ان کے آبائی ممالک واپس بھیجنے کے انتظامات کریں گے، لیکن ان کی ذمہ داری ان پانچ ممالک کے پاس ہی رہے گی تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے بچا جا سکے۔

  1. یونان نے افریقہ میں ایک ملک کا انتخاب کیا ہے، لیکن اس کا نام خفیہ رکھا گیا ہے۔
  2. یہ منصوبہ 2027 کے دوسرے نصف میں شروع ہوگا۔
  3. اس منصوبے کی مالی معاونت پانچ یورپی ممالک خود کریں گے۔
  4. اقوام متحدہ اور IOM جیسی تنظیمیں نگرانی کریں گی تاکہ انسانی حقوق کے معیار برقرار رہیں۔

دیگر ناکام کوششیں

یورپی یونین کے باہر تارکین وطن کو منتقل کرنے کے دیگر منصوبے بھی ناکام ہو چکے ہیں۔ ان ناکامیوں کی وجوہات میں قانونی رکاوٹیں، حکومتوں کی تبدیلی، یا بہت زیادہ اخراجات شامل ہیں۔ یورپی یونین کے موجودہ پانچ رکن ممالک کا یہ نیا منصوبہ ان پچھلی ناکامیوں سے سبق سیکھ کر تیار کیا گیا ہے۔

منصوبے کا مستقبل

یہ منصوبہ یورپی یونین کے لیے ایک اہم قدم ہے جو تارکین وطن کے بحران سے نمٹنے کے لیے نئے راستے تلاش کر رہا ہے۔ تاہم، اس کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ آیا یہ قانونی اور انسانی حقوق کے خدشات کو مؤثر طریقے سے دور کر سکتا ہے اور منتخب افریقی ملک کے ساتھ تعاون کو یقینی بنا سکتا ہے۔

نتیجہ

پانچ یورپی یونین ممالک کا افریقہ میں پہلا ڈی پورٹیشن سینٹر قائم کرنے کا منصوبہ ایک پیچیدہ اور حساس معاملہ ہے۔ یہ منصوبہ تارکین وطن کے بہاؤ کو کنٹرول کرنے اور پناہ کے نظام کو بہتر بنانے کی کوشش ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی انسانی حقوق اور قانونی پہلوؤں پر بھی گہری نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ ماضی کی ناکام کوششوں کے تناظر میں، اس نئے منصوبے کی کامیابی کا انحصار شفافیت، بین الاقوامی تعاون اور انسانی حقوق کے احترام پر ہوگا۔

اس منصوبے کے تحت، پناہ کے مسترد شدہ درخواست دہندگان کو ان کے آبائی ممالک واپس بھیجنے کے انتظامات کیے جائیں گے، لیکن ان کی ذمہ داری یورپی ممالک کے پاس ہی رہے گی۔ یہ اقدام انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خدشات کو کم کرنے کی ایک کوشش ہے۔ 2027 تک اس سینٹر کے فعال ہونے کی توقع ہے، جو یورپی یونین کی ہجرت کی پالیسی میں ایک نیا باب کھولے گا۔

اکثر پوچھے گئے سوالات

یہ ڈی پورٹیشن سینٹر کب تک فعال ہوگا؟

یہ منصوبہ 2027 کے دوسرے نصف میں فعال ہونے کی توقع ہے۔

کون سے یورپی ممالک اس منصوبے میں شامل ہیں؟

اس منصوبے میں یونان، جرمنی، آسٹریا، ڈنمارک اور نیدرلینڈز شامل ہیں۔

کیا یہ سینٹر بند نوعیت کا ہوگا؟

نہیں، اسے ‘اوپن فیسیلیٹی’ کے طور پر ڈیزائن کیا جائے گا، جہاں پناہ کے مسترد شدہ درخواست دہندگان کو ان کے آبائی ممالک واپس بھیجنے کے انتظامات کیے جائیں گے۔

اس منصوبے کی مالی معاونت کون کرے گا؟

اس منصوبے کی مکمل مالی معاونت پانچ شریک یورپی ممالک خود کریں گے۔

انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے کیا اقدامات کیے جائیں گے؟

انسانی حقوق کے بین الاقوامی معیاروں کو یقینی بنانے کے لیے اقوام متحدہ اور بین الاقوامی تنظیم برائے ہجرت (IOM) جیسی تنظیموں کی نگرانی شامل ہوگی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Author

usmanjaved13132@gmail.com

Related Posts

یورپ کا افریقہ میں پہلا ڈی پورٹیشن سینٹر، 2027 میں فعال ہوگا

یورپی یونین کے پانچ رکن ممالک نے افریقہ میں تارکین وطن کے لیے پہلا ڈی پورٹیشن سینٹر قائم کرنے کا منصوبہ بنایا...

Read out all

اسرائیلی فورسز پر آباد کاروں کا حملہ، فلسطینی خاندان کو نشانہ بنایا گیا

اسرائیل کے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی خاندان کو ان کے گھروں میں واپس جانے سے روکنے کے لیے آباد کاروں کی...

Read out all
انگلش چینل میں چھوٹی کشتی سے اترتے تارکین وطن — برطانیہ فرانس تارکین وطن معاہدہ ختم

برطانیہ اور فرانس کا تارکین وطن کے تبادلے کا معاہدہ ختم

لندن: برطانیہ اور فرانس کے درمیان برطانیہ فرانس تارکین وطن معاہدہ ختم کر دیا گیا ہے۔ بدھ، 30 ستمبر 2026 کو برطانوی...

Read out all

جنسی زیادتی کیسز: پولیس کی تفتیش کا غلط طریقہ کار

امریکا میں ایک حالیہ مقدمے نے جنسی زیادتی کے کیسز میں پولیس کی تفتیش کے طریقہ کار پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔...

Read out all

کراچی: منشیات کے عادی اور پیشہ ور بھکاریوں کے خلاف کریک ڈاؤن، 38 افراد گرفتار

کراچی: کمشنر کراچی سید حسن نقوی کی ہدایت پر، انتظامیہ نے شہر بھر میں منشیات کے عادی افراد اور پیشہ ور بھکاریوں...

Read out all
پائلٹ گرفتار - نیتن یاہو کا دعویٰ، فلائی دبئی طیارہ

Netanyahu says pilot arrested after stabbing fellow pilot and apparently trying to crash Israel-bound plane –

اسرائیل کے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے تصدیق کی ہے کہ دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی پرواز کے...

Read out all