- 0
- 17 words
دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی دبئی فلائٹ FZ1073 کو بدھ کے روز سعودی عرب کے شہر تبوک میں ہنگامی لینڈنگ کرنا پڑی، جب مبینہ طور پر ایک پائلٹ نے کاک پٹ میں چاقو سے دوسرے پائلٹ پر حملہ کر کے طیارہ گرانے کی کوشش کی۔ مسافروں اور عملے نے حملہ آور کو قابو کر کے ایک بڑے فضائی حادثے کو ٹال دیا۔ رپورٹوں کے مطابق اس پرواز میں سڈنی سے تعلق رکھنے والا ایک آسٹریلوی جوڑا بھی سوار تھا، جس کی موجودگی کی تصدیق اسرائیلی سفارتخانے نے کی ہے۔ یہ خبر Watan News کی اردو مرکزی سائٹ پر بھی پڑھی جا سکتی ہے۔
اہم نکات
- پرواز: فلائی دبئی FZ1073، دبئی انٹرنیشنل ہوائی اڈے سے تل ابیب کے بن گوریون ہوائی اڈے کی جانب۔
- تاریخ: بدھ، 30 ستمبر 2026 — اردن کی فضائی حدود کے قریب، اڑان کے تقریباً ڈھائی گھنٹے بعد واقعہ پیش آیا۔
- سوار افراد: تقریباً 174، جن میں زیادہ تر اسرائیلی تھے (ایک رپورٹ کے مطابق 27 بچے بھی شامل)۔
- حملہ: مبینہ طور پر ایک پائلٹ نے چاقو سے ساتھی پائلٹ کو زخمی کیا اور طیارہ گرانے کی کوشش کی۔
- فلائٹ ٹریکنگ ڈیٹا: طیارہ تقریباً دو منٹ میں تقریباً 17,400 فٹ نیچے آیا؛ جنرل ایمرجنسی (7700) اور غیر قانونی مداخلت (7500) کے سگنل بھیجے گئے۔
- لینڈنگ: سعودی عرب کے شہر تبوک میں پرنس سلطان بن عبدالعزیز ہوائی اڈے پر محفوظ ہنگامی لینڈنگ۔
- زخمی: دونوں پائلٹ اسپتال منتقل؛ حملہ آور پائلٹ سعودی حراست میں، تفتیش جاری۔
- ردعمل: فلائی دبئی نے اسرائیل کی پروازیں عارضی طور پر معطل کر دیں؛ اسرائیل پائلٹوں کی سیکیورٹی جانچ سخت کرے گا۔
دبئی فلائٹ میں ہنگامی انحراف کیسے پیش آیا
رپورٹوں کے مطابق پرواز اڑان بھرنے کے تقریباً ڈھائی گھنٹے بعد اردن کی فضائی حدود کے قریب تھی جب کاک پٹ میں لڑائی شروع ہوئی۔ اسرائیلی حکام کے مطابق ایک پائلٹ نے مبینہ طور پر چاقو سے اپنے ساتھی پائلٹ پر حملہ کر دیا۔
فلائٹ ریڈار 24 کے ڈیٹا کے مطابق طیارہ تقریباً دو منٹ میں تقریباً 17,400 فٹ نیچے آیا اور اس نے پہلے جنرل ایمرجنسی کا سگنل اور پھر غیر قانونی مداخلت کا سگنل بھیجا۔ اسرائیلی حکام کے مطابق اس دوران اسرائیل نے لڑاکا طیارے بھی روانہ کیے (TBS News)۔
متحدہ عرب امارات کی سول ایوی ایشن اتھارٹی (GCAA) نے اسے “سیکیورٹی واقعہ” قرار دیا اور کہا کہ اسے قابو میں کر لیا گیا ہے۔ اتھارٹی کے مطابق واقعے کے اسباب اور حالات کا تعین کرنے کے لیے تفتیش جاری ہے۔

مسافروں اور عملے کی بہادری
زخمی ہونے کے باوجود کیپٹن — جن کی شناخت بھارتی میڈیا اور اسرائیلی حکام کے مطابق کیپٹن سمت مچھر کے طور پر ہوئی — نے کاک پٹ کا دروازہ کھول دیا، جس کے بعد مسافر اور عملے کے ارکان اندر داخل ہوئے اور حملہ آور کو قابو کر لیا۔ پرواز میں سوار ڈیوٹی پر موجود دیگر پائلٹوں نے طیارے کو سنبھالنے اور اسے تبوک تک لے جانے میں مدد کی۔
مسافر لیتل شخاف نے کہا: “یہ ایک معجزہ تھا۔ یہ خوفناک اور پاگل پن تھا، اور ہم خدا کا شکر ادا کرتے ہیں کہ ہم بچ گئے۔ ہمیں نہیں لگتا تھا کہ ہم بچ پائیں گے۔” ایک اور مسافر کی والدہ یاسمین ابو قسیس نے بتایا کہ ان کی بیٹی مریم نے کہا کہ اس نے چیخیں سنیں، ایک شخص نے چاقو نکالا، پائلٹ کو فرش پر گرا دیا اور ہر طرف خون تھا۔
اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے مسافروں اور عملے کو “ہیرو” قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے “سمجھ بوجھ اور بہادری” کا مظاہرہ کیا اور ایک بڑی تباہی کو روکا۔
اسرائیلی ردعمل اور تحقیقات
نیتن یاہو نے اسے “سنگین سیکیورٹی واقعہ” قرار دیا اور کہا کہ “ایک پائلٹ نے بظاہر طیارے میں سوار سب افراد سمیت طیارہ گرانے کی کوشش کی”۔ انہوں نے کہا کہ حملہ کرنے والا پائلٹ گرفتار کر لیا گیا ہے اور اس وقت سعودی حکام اس سے پوچھ گچھ کر رہے ہیں۔
اسرائیلی حکام کے مطابق حملہ آور پائلٹ مبینہ طور پر اومان کا شہری ہے، تاہم اس کی شناخت اور محرکات کی ابھی تفتیش جاری ہے۔ اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے اسے “دہشت گرد حملے کی کوشش” قرار دیا، جبکہ ایک اسرائیلی اہلکار کے مطابق ابھی یہ واضح نہیں کہ حملہ آور کا مقصد طیارے کا اغوا تھا، اسے گرانا تھا، یا 11 ستمبر جیسا حملہ۔
نیتن یاہو کے ترجمان کے مطابق اب اسرائیل میں داخل ہونے والی ہر پرواز کے پائلٹوں کی شناخت اور سیکیورٹی جانچ کی جائے گی، چاہے وہ کسی بھی ایئر لائن کے ہوں۔

ابراہم معاہدے اور علاقائی تناظر
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا ہے جب چند روز قبل ہی نیتن یاہو نے متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان سے ایک نادر دورے کے دوران ملاقات کی تھی۔ اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات 2020 میں ابراہم معاہدوں کے تحت معمول پر آئے تھے۔
اسرائیلی وزارت خارجہ نے اسے ابراہم معاہدوں اور دونوں ممالک کے تعلقات کو کمزور کرنے کی کوشش قرار دیا۔ فلائی دبئی نے البتہ محتاط لہجہ اپناتے ہوئے کہا کہ “واقعے کے پیچھے محرکات ابھی نامعلوم ہیں اور باضابطہ تفتیش جاری ہے” اور قبل از وقت قیاس آرائی سے گریز کی اپیل کی۔
آسٹریلوی جوڑے کی موجودگی کی تصدیق
رپورٹوں کے مطابق، اسرائیلی سفارتخانے نے تصدیق کی ہے کہ پرواز FZ1073 میں سڈنی سے تعلق رکھنے والا ایک آسٹریلوی جوڑا بھی سوار تھا۔ سفارتخانے نے جوڑے کی شناخت ظاہر نہیں کی تاہم ان کی موجودگی کی تصدیق کی ہے۔
سفارتخانے کی جانب سے آسٹریلوی جوڑے کی موجودگی کی تصدیق نے اس واقعے کو بین الاقوامی سطح پر مزید اہمیت دے دی ہے، کیونکہ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ متاثرہ مسافر صرف اسرائیلی نہیں تھے۔
فلائی دبئی نے اسرائیل کی پروازیں معطل کر دیں
واقعے کے بعد فلائی دبئی نے اسرائیل سے اور کو اپنی پروازیں عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان کیا۔ ایئر لائن کے مطابق معطلی تفتیش مکمل ہونے تک جاری رہے گی اور متاثرہ مسافروں کو متبادل پروازوں کی سہولت دی جائے گی (Gulf Business)۔
تبوک میں لینڈنگ کے تقریباً دس گھنٹے بعد مسافر ایک متبادل طیارے سے تل ابیب کے بن گوریون ہوائی اڈے پہنچے۔
نتیجہ
یہ واقعہ بین الاقوامی ہوا بازی کی سیکیورٹی کے لیے ایک سنگین انتباہ ہے: خطرہ اس بار باہر سے نہیں بلکہ کاک پٹ کے اندر سے آیا۔ مسافروں اور عملے کی فوری بہادری نے ایک بڑی تباہی کو تو ٹال دیا، لیکن اس نے پائلٹوں کی جانچ کے نظام اور ابراہم معاہدوں کے بعد بننے والے تعلقات پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ تفتیش کے نتائج اس بات کا تعین کریں گے کہ یہ ایک انفرادی فعل تھا یا اس کے پیچھے کوئی بڑا منصوبہ تھا۔
اکثر پوچھے گئے سوالات
پرواز میں کیا ہوا؟
فلائی دبئی کی پرواز FZ1073 کے ایک پائلٹ نے مبینہ طور پر چاقو سے ساتھی پائلٹ پر حملہ کیا اور طیارہ گرانے کی کوشش کی۔ مسافروں اور عملے نے حملہ آور کو قابو کر لیا اور طیارے کو محفوظ لینڈنگ کرائی۔
طیارے کو کہاں اتارا گیا؟
طیارے کو سعودی عرب کے شہر تبوک میں پرنس سلطان بن عبدالعزیز ہوائی اڈے پر ہنگامی طور پر اتارا گیا۔ دونوں پائلٹ زخمی ہوئے اور انہیں اسپتال منتقل کیا گیا۔
حملہ آور پائلٹ کا تعلق کس ملک سے تھا؟
اسرائیلی حکام کے مطابق حملہ آور پائلٹ مبینہ طور پر اومان کا شہری ہے۔ وہ سعودی حراست میں ہے اور اس سے پوچھ گچھ جاری ہے۔
کیا پرواز میں آسٹریلوی شہری سوار تھے؟
رپورٹوں کے مطابق اسرائیلی سفارتخانے نے تصدیق کی ہے کہ سڈنی سے تعلق رکھنے والا ایک آسٹریلوی جوڑا پرواز میں سوار تھا، تاہم سفارتخانے نے ان کی شناخت ظاہر نہیں کی۔
فلائی دبئی نے کیا اقدام کیا؟
فلائی دبئی نے اسرائیل سے اور کو پروازیں عارضی طور پر معطل کر دی ہیں اور کہا ہے کہ واقعے کے محرکات ابھی نامعلوم ہیں اور باضابطہ تفتیش جاری ہے۔