وفاقی حکومت نے 3 اکتوبر 2026 کو اسلام آباد سڑکیں بند ہونے سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کو بے بنیاد اور ‘گمراہ کن’ قرار دیتے ہوئے ان کی سختی سے تردید کی ہے۔ وزارت اطلاعات و نشریات کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں رکھے گئے کنٹینرز سڑکیں بند کرنے کے لیے نہیں بلکہ پی ٹی آئی کے مجوزہ لانگ مارچ کے پیش نظر حفاظتی تدبیر کے طور پر لگائے گئے ہیں اور تمام سڑکیں کھلی ہیں۔ حکومت نے الجزیرہ کی اس رپورٹ کو بھی مسترد کیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ حکومت نے مارچ روکنے کے لیے 1500 سے 2000 شپنگ کنٹینرز ضبط کیے ہیں۔
اہم نکات
- بیان کی تاریخ: 3 اکتوبر 2026 — وزارت اطلاعات و نشریات کی وضاحت
- پی ٹی آئی کا لانگ مارچ: 4 اکتوبر 2026 کو اسلام آباد کی جانب (26 ستمبر کو تاریخ ملتوی کرنے کا اعلان)
- حکومتی مؤقف: کنٹینرز اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات کے تحت حفاظتی اقدام ہیں؛ ‘تمام سڑکیں کھلی ہیں’
- الجزیرہ کا دعویٰ (تردید شدہ): 1500 تا 2000 کنٹینرز ضبط — حکومت نے اسے ‘انتخابی’ اور گمراہ کن رپورٹنگ قرار دیا
- آزاد ذرائع کی رپورٹنگ: ستمبر کے آخری ہفتے داخلی راستوں پر کنٹینرز اور تقریباً 22 ہزار سیکورٹی اہلکار تعینات (اے ایف پی / رائٹرز)

اسلام آباد سڑکیں: حکومتی تردید اور حقائق
وزارت اطلاعات و نشریات نے واضح کیا ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں کنٹینرز کسی بھی سڑک کی بندش کے لیے نہیں رکھے گئے، بلکہ یہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے ان احکامات کی تعمیل میں احتیاطی تدبیر ہے جن میں شہریوں کی جان و مال، عوامی املاک اور قانونی نقل و حرکت کے تحفظ کو یقینی بنانے کی ہدایت دی گئی تھی۔
حکومتی ترجمان کے مطابق یہ اقدامات پی ٹی آئی کی ماضی کی ‘پرتشدد سرگرمیوں’ کے تناظر میں کیے گئے ہیں، اور ان کا مقصد کسی بھی ممکنہ ناخوشگوار واقعے سے بچنا اور امن و امان برقرار رکھنا ہے۔ ترجمان نے زور دے کر کہا کہ ‘جھوٹ اور پروپیگنڈا’ حقائق کا متبادل نہیں ہو سکتا۔
الجزیرہ کی رپورٹ پر ردعمل
حکومت نے الجزیرہ کی اس رپورٹ کو بے بنیاد قرار دیا جس میں کہا گیا تھا کہ وفاقی حکومت نے لانگ مارچ روکنے کے لیے 1500 سے 2000 شپنگ کنٹینرز ضبط کیے ہیں۔ وزارت اطلاعات کے مطابق چینل نے ان حفاظتی اقدامات کو ‘سڑکوں کی بندش’ کے طور پر پیش کیا، جو ‘اینگلڈ رپورٹنگ’ کے ذریعے جان بوجھ کر منفی تاثر پیدا کرنے کی کوشش ہے۔
پی ٹی آئی کا لانگ مارچ اور حکومت کا مؤقف
پاکستان تحریک انصاف نے 27 ستمبر کے بجائے 4 اکتوبر 2026 کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا ہے؛ تاریخ ملتوی کرنے کا اعلان 26 ستمبر کو خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کیا تھا (رائٹرز)۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ یہ مارچ جیل میں بند چیئرمین عمران خان کی رہائی اور ‘آئینی بالادستی کی بحالی’ کے لیے ہے۔
حکومت نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کو مظاہروں کی وجہ سے 10 سے 20 دن تک بند نہیں رہنے دیا جائے گا۔ وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ دارالحکومت میں لاک ڈاؤن کی صورتحال نہیں ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات
وزارت اطلاعات کے مطابق کنٹینرز کی تنصیب اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات کے مطابق ہے۔ عدالت نے حکومت کو عوامی املاک، حساس مقامات اور شہریوں کی حفاظت کے لیے ضروری اقدامات کرنے کا حکم دیا تھا، اور یہ اقدام اسی عدالتی ہدایت کی روشنی میں ریاست کی ذمہ داری کا حصہ ہے۔
آزاد ذرائع کی رپورٹنگ
حکومتی مؤقف سے ہٹ کر، اے ایف پی اور رائٹرز سمیت آزاد ذرائع نے ستمبر کے آخری ہفتے رپورٹ کیا تھا کہ اسلام آباد کے داخلی راستوں اور اہم شاہراہوں پر شپنگ کنٹینرز لگائے گئے، تقریباً 22 ہزار پولیس و سیکورٹی اہلکار تعینات کیے گئے اور پی ٹی آئی کے سینکڑوں کارکنان حراست میں لیے گئے، جن میں عمران خان کی تین بہنیں بھی شامل ہیں۔ حکومت ان اقدامات کو ‘امن و امان کے قیام’ کے لیے ضروری قرار دیتی ہے۔
اکثر پوچھے گئے سوالات
کیا اسلام آباد میں سڑکیں بند کی جا رہی ہیں؟
حکومت کے مطابق سڑکیں بند نہیں کی جا رہیں۔ کنٹینرز پی ٹی آئی کے مجوزہ لانگ مارچ کے پیش نظر حفاظتی تدبیر کے طور پر رکھے گئے ہیں اور تمام سڑکیں کھلی ہیں۔
یہ کنٹینرز کس بنیاد پر رکھے گئے ہیں؟
وزارت اطلاعات کے مطابق یہ اقدام اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات کی روشنی میں شہریوں اور عوامی املاک کے تحفظ کے لیے احتیاطی تدبیر کے طور پر کیا گیا ہے۔
پی ٹی آئی کا لانگ مارچ کب ہے؟
پی ٹی آئی کا مجوزہ لانگ مارچ 4 اکتوبر 2026 کو اسلام آباد کی جانب متوقع ہے؛ اس کی تاریخ 26 ستمبر کو ملتوی کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔
الجزیرہ کی رپورٹ پر حکومت کا کیا مؤقف ہے؟
حکومت نے 1500 سے 2000 کنٹینرز ضبط کرنے کے دعوے کو بے بنیاد قرار دے کر الجزیرہ کی رپورٹنگ کو ‘انتخابی’ اور گمراہ کن رپورٹنگ کا نام دیا ہے۔