اسلام آباد: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت ایک بین وزارتی اجلاس میں پاکستان بحرین مشترکہ وزارتی کمیشن کے تیسرے اجلاس کی تیاریوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے اور معیشت، تجارت، سرمایہ کاری، دفاع اور ثقافت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ کے لیے ایجنڈے کو حتمی شکل دی گئی۔
اہم نکات
- نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت بین وزارتی اجلاس میں تیسرے پاکستان بحرین مشترکہ وزارتی کمیشن کے اجلاس کی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا۔
- 25 ستمبر 2026 کو نیویارک میں اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر اسحاق ڈار نے بحرین کے وزیر خارجہ ڈاکٹر عبداللطیف بن راشد الزیانی سے ملاقات کی تھی، جس میں تیسرے اجلاس کی تیاریوں پر گفتگو ہوئی۔
- دوسرا مشترکہ وزارتی کمیشن اجلاس 2021 میں منعقد ہوا تھا؛ دونوں ممالک نے تیسرے اجلاس کے اسلام آباد میں انعقاد پر اصولی اتفاق کر رکھا ہے۔
- ایجنڈے میں تجارت، سرمایہ کاری، دفاع و سلامتی اور ثقافتی و تعلیمی تبادلے شامل ہیں۔
تیسرے اجلاس کی تیاریوں کا جائزہ
اجلاس میں پاکستان اور بحرین کے موجودہ دوطرفہ تعلقات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور تعلقات میں نمایاں پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔ شرکاء نے مستقبل میں مزید تعاون کے عزم کا اعادہ کیا، خاص طور پر اقتصادی اور تجارتی شعبوں میں نئے مواقع تلاش کرنے پر زور دیا گیا۔
اقتصادی و تجارتی تعاون کے حوالے سے بحرین میں پاکستانی مصنوعات کی برآمدات بڑھانے، سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کرنے اور کاروباری برادری کے درمیان رابطے بہتر بنانے پر غور ہوا۔ سرمایہ کاری کے شعبے میں بحرینی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں انفراسٹرکچر، توانائی اور زراعت کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کی ترغیب دینے کے طریقوں پر بات چیت ہوئی۔

دفاعی اور سلامتی کے شعبوں میں تعاون مزید مضبوط بنانے پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ دونوں ممالک نے علاقائی امن و استحکام کے لیے مل کر کام کرنے کی اہمیت پر زور دیا، جبکہ موجودہ دفاعی معاہدوں پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا اور مشترکہ فوجی مشقوں و تربیتی پروگراموں کے امکانات پر غور کیا گیا۔ ثقافتی و تعلیمی شعبے میں وفود کے تبادلے، تعلیمی اداروں کے درمیان تعاون اور سیاحت کے فروغ کے اقدامات بھی زیر بحث آئے۔
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ نے شرکاء کو ہدایت کی کہ تیسرے مشترکہ وزارتی کمیشن کے اجلاس کے لیے تمام تیاریاں بروقت مکمل کی جائیں اور تمام متعلقہ وزارتیں فعال کردار ادا کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اجلاس دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک نیا باب کھولے گا۔
پاکستان بحرین مشترکہ وزارتی کمیشن: پس منظر
پاکستان اور بحرین کے درمیان دوسرا مشترکہ وزارتی کمیشن اجلاس 2021 میں منعقد ہوا تھا، جس میں کاروباری برادری کے درمیان روابط، تجارت و سرمایہ کاری، زراعت، افرادی قوت، تیل و گیس اور آئی ٹی کے شعبوں میں مشترکہ ورکنگ گروپس کے اجلاسوں پر اتفاق ہوا تھا۔ اسی اجلاس کے موقع پر بحرین اکنامک ڈویلپمنٹ بورڈ اور پاکستان کے بورڈ آف انویسٹمنٹ کے درمیان سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط ہوئے تھے، اور دونوں فریقین نے تیسرا اجلاس اسلام آباد میں منعقد کرنے پر اصولی اتفاق کیا تھا۔
حال ہی میں 25 ستمبر 2026 کو نیویارک میں اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے بحرین کے وزیر خارجہ ڈاکٹر عبداللطیف بن راشد الزیانی سے ملاقات کی۔ دونوں وزرائے خارجہ نے دوطرفہ تعلقات کے ساتھ ساتھ تیسرے مشترکہ وزارتی کمیشن کے اجلاس کی تیاریوں پر گفتگو کی اور تعاون مزید بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ بحرین کے وزیر خارجہ نے علاقائی امن و استحکام میں پاکستان کے تعمیری کردار کو سراہا۔ پاکستان سے متعلق مزید خبریں یہاں پڑھیں۔

نتیجہ
تیسرے پاکستان بحرین مشترکہ وزارتی کمیشن کے اجلاس کی تیاریوں کے سلسلے میں منعقدہ یہ بین وزارتی اجلاس نتیجہ خیز رہا۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں اقتصادی، تجارتی، دفاعی اور ثقافتی شعبوں میں تعاون مزید مستحکم کرنے کے لیے ایجنڈے کو حتمی شکل دی گئی۔ توقع ہے کہ تیسرے اجلاس میں ان تجاویز کو عملی جامہ پہنانے پر تفصیلی غور ہوگا، جس سے دونوں ممالک کے عوام کو براہ راست فائدہ پہنچے گا۔ یہ خبر وطن نیوز کے مرکزی اردو پورٹل پر بھی دستیاب ہے۔
اکثر پوچھے گئے سوالات
پاکستان اور بحرین کے درمیان مشترکہ وزارتی کمیشن کا مقصد کیا ہے؟
اس کمیشن کا بنیادی مقصد دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی، تجارتی، ثقافتی، دفاعی اور دیگر شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا اور دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنا ہے۔
تیسرے مشترکہ وزارتی کمیشن کے اجلاس کی تیاریاں کس سطح پر ہیں؟
اسلام آباد میں بین وزارتی اجلاس میں تیاریوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور متعلقہ وزارتوں کو تمام تیاریاں بروقت مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی۔ اس سے قبل 25 ستمبر 2026 کو نیویارک میں دونوں وزرائے خارجہ نے بھی تیاریوں پر گفتگو کی تھی۔
اجلاس میں کن شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور دیا گیا؟
خاص طور پر اقتصادی، تجارتی، دفاعی اور ثقافتی شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور دیا گیا، جبکہ سرمایہ کاری، تعلیم اور سیاحت کے شعبے بھی ایجنڈے میں شامل ہیں۔
کیا اس اجلاس میں سرمایہ کاری کے مواقع پر بھی بات ہوئی؟
جی ہاں، بحرینی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں انفراسٹرکچر، توانائی اور زراعت کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کی ترغیب دینے کے طریقوں پر غور کیا گیا۔
دوسرا مشترکہ وزارتی کمیشن اجلاس کب ہوا تھا؟
دوسرا اجلاس 2021 میں منعقد ہوا تھا، جس میں تجارت، سرمایہ کاری اور مشترکہ ورکنگ گروپس کے قیام سمیت متعدد شعبوں میں تعاون پر اتفاق ہوا تھا۔