چین میں کی گئی ایک نئی سائنسی تحقیق میں بڑھاپے میں غذا اور طویل عمری کے درمیان دلچسپ تعلق سامنے آیا ہے۔ تحقیق کے مطابق بڑھاپے میں گوشت مکمل طور پر چھوڑ دینا بعض صورتوں میں سو سال کی عمر تک پہنچنے کے امکانات کم کر سکتا ہے، خاص طور پر کم وزن رکھنے والے عمر رسیدہ افراد میں۔ یہ نتائج امریکی جرنل آف کلینکل نیوٹریشن میں شائع ہوئے ہیں اور ان پر العربیہ سمیت بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں بھی بحث ہو رہی ہے۔
اہم نکات
- چین کے طویل مدتی صحت و طویل عمری سروے کے 1998 سے 2018 تک کے اعداد و شمار کا تجزیہ کیا گیا
- 80 سال یا اس سے زائد عمر کے پانچ ہزار سے زائد افراد شامل تھے، جن میں سے تقریباً 80 فیصد گوشت خور تھے
- مکمل سبزی خوروں میں سو سال کی عمر تک پہنچنے کا امکان تقریباً 19 فیصد کم جبکہ صرف نباتاتی خوراک والوں میں تقریباً 29 فیصد کم پایا گیا
- یہ تعلق صرف کم وزن (باڈی ماس انڈیکس 18.5 سے کم) رکھنے والے بزرگوں میں نمایاں تھا
- مچھلی، انڈے اور دودھ استعمال کرنے والوں کے امکانات گوشت خوروں جیسے ہی تھے
- تحقیق مشاہداتی نوعیت کی ہے، اس سے علت و معلول کا حتمی ثبوت نہیں ملتا
بڑھاپے میں غذا سے متعلق تحقیق کیسے کی گئی
محققین نے چینی طویل عمری صحت سروے کے تحت 1998 میں 80 سال یا اس سے زائد عمر کے 5 ہزار 203 افراد کے اعداد و شمار استعمال کیے۔ تحقیق کے آغاز میں یہ تمام شرکا امراض قلب، ذیابیطس اور کینسر سے پاک تھے۔ 2018 تک ان کی صحت اور غذائی عادات کا جائزہ لیا گیا اور سو سال کی عمر تک پہنچنے والوں کا ان افراد سے موازنہ کیا گیا جو اس عمر سے پہلے انتقال کر گئے۔
شرکا کو غذائی عادات کے لحاظ سے مختلف گروہوں میں تقسیم کیا گیا: مکمل سبزی خور، صرف نباتاتی خوراک والے، مچھلی کھانے والے، انڈے اور دودھ استعمال کرنے والے، اور گوشت خور۔ شانگھائی کی فودان یونیورسٹی کی محقق کائی یوئے وانگ اور ان کی ٹیم نے عمر، جنس، تعلیم اور طرز زندگی جیسے عوامل کو مدنظر رکھ کر تجزیہ کیا۔

تحقیق کے اہم نتائج
| غذائی عادت | سو سال کی عمر کا امکان (تحقیق کے مطابق) |
|---|---|
| گوشت خور (متوازن خوراک) | بنیادی معیار |
| مکمل سبزی خور | تقریباً 19 فیصد کم امکان |
| صرف نباتاتی خوراک والے | تقریباً 29 فیصد کم امکان |
| مچھلی، انڈے یا دودھ استعمال کرنے والے | گوشت خوروں جتنا ہی امکان |
| صحت مند وزن رکھنے والے بزرگ | خوراک سے کوئی واضح فرق نہیں |
کم وزن رکھنے والے بزرگوں کے لیے خاص انتباہ
تحقیق کی سب سے نمایاں بات یہ ہے کہ گوشت نہ کھانے اور طویل عمری کے درمیان منفی تعلق خاص طور پر کم وزن رکھنے والے بزرگ افراد میں دیکھا گیا۔ صحت مند وزن رکھنے والے افراد میں گوشت کھانے یا نہ کھانے کا یہ تعلق اتنا واضح نہیں تھا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جسمانی وزن اور مجموعی غذائی حالت بھی اہم عوامل ہیں۔
ماہرین کے مطابق عمر بڑھنے کے ساتھ جسم میں عضلاتی کمزوری، بھوک میں کمی اور غذائی ضروریات میں تبدیلی جیسے عوامل پیدا ہو سکتے ہیں۔ ایسے میں مناسب پروٹین، وٹامن بی 12، کیلشیم اور وٹامن ڈی کا حصول عضلات کو برقرار رکھنے اور جسمانی کمزوری کے خطرے کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
ماہرین کی رائے
محققین نے واضح کیا ہے کہ یہ تحقیق مشاہداتی ہے، اس لیے اس سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ زیادہ گوشت کھانے سے عمر لازماً بڑھتی ہے۔ ان کے مطابق بڑھاپے میں غذائی ترجیحات بدل جاتی ہیں: جوانی میں طویل مدتی بیماریوں سے بچاؤ اہم ہوتا ہے جبکہ بڑھاپے میں عضلات برقرار رکھنا، وزن میں کمی روکنا اور ہر لقمے سے بھرپور غذائیت حاصل کرنا زیادہ اہم ہو جاتا ہے۔
اہم بات یہ بھی ہے کہ جن بزرگوں نے سرخ یا سفید گوشت نہیں کھایا لیکن مچھلی، انڈے اور دودھ یا دیگر ڈیری مصنوعات اپنی خوراک کا حصہ بنائے رکھا، ان میں سو سال تک پہنچنے کا رجحان گوشت کھانے والوں سے نمایاں طور پر مختلف نہیں تھا۔ یعنی جسم کو مطلوبہ پروٹین اور غذائی اجزا صرف گوشت سے حاصل کرنا ضروری نہیں۔
نتیجہ
چینی تحقیق کا پیغام واضح ہے: بڑھاپے میں سخت غذائی پابندیاں خاص طور پر کمزور اور کم وزن بزرگوں کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہیں، اور متوازن و غذائیت سے بھرپور خوراک ہی طویل و صحت مند زندگی کی کنجی ہے۔ بزرگ افراد کو اپنی خوراک کے بارے میں کسی بھی بڑی تبدیلی سے پہلے معالج یا غذائی ماہر سے مشورہ ضرور کرنا چاہیے۔ صحت و تندرستی سے متعلق مزید مستند معلومات کے لیے وطن نیوز کا صحت و تندرستی کا صفحہ ملاحظہ کریں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
کیا تحقیق کہتی ہے کہ بڑھاپے میں زیادہ گوشت کھانا چاہیے؟
نہیں۔ تحقیق سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ زیادہ گوشت کھانے سے عمر لازماً بڑھتی ہے۔ اصل پیغام یہ ہے کہ کمزور اور کم وزن بزرگوں کے لیے متوازن خوراک اور مناسب پروٹین انتہائی اہم ہے۔
کیا سبزی خور بزرگوں کو پریشان ہونا چاہیے؟
نہیں۔ جن بزرگوں نے گوشت نہیں کھایا لیکن مچھلی، انڈے اور دودھ استعمال کیے، ان کے امکانات گوشت خوروں جیسے ہی تھے۔ صحت مند وزن رکھنے والوں میں بھی کوئی واضح فرق نہیں پایا گیا۔
اس تحقیق کی حدود کیا ہیں؟
یہ مشاہداتی تحقیق ہے جو علت و معلول ثابت نہیں کرتی۔ یہ صرف 80 سال سے زائد عمر کے چینی افراد پر مبنی ہے، اس لیے اس کے نتائج نوجوانوں پر لاگو نہیں کیے جا سکتے۔