پاکستان نے 99ویں اکیڈمی ایوارڈز (آسکرز 2027) کی بہترین بین الاقوامی فیچر فلم کی کیٹیگری کے لیے نامور ہدایت کار محمد علی نقوی کی دستاویزی فلم ’ہینگنگ بائی اے وائر‘ کو اپنی باضابطہ نمائندہ فلم کے طور پر منتخب کر لیا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ اس اہم کیٹیگری کے لیے کسی دستاویزی فلم کو پاکستان کی نمائندگی کا اعزاز حاصل ہوا ہے، اور اس انتخاب کو پاکستانی دستاویزی سنیما کے لیے سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
اہم نکات
- ’ہینگنگ بائی اے وائر‘ آسکرز 2027 کی بہترین بین الاقوامی فیچر فلم کیٹیگری کے لیے پاکستان کی باضابطہ نمائندہ فلم منتخب
- اعلان پاکستان اکیڈمی سلیکشن کمیٹی کی ڈپٹی چیئرپرسن ثنا زہرا جعفری نے کینیڈا میں موزیک انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں فلم کے پریمیئر کے موقع پر کیا
- فلم اگست 2023 میں بٹگرام میں پیش آنے والے چیئرلفٹ حادثے پر مبنی ہے، جس میں 6 بچوں سمیت 8 افراد گھنٹوں معلق رہے تھے
- تحریر و ہدایت کاری محمد علی نقوی کی، پروڈکشن بلال سمی کی
- عالمی پریمیئر سنڈانس فلم فیسٹیول 2026 میں ہوا، ٹرائی بیکا فلم فیسٹیول میں بھی بے پناہ پذیرائی ملی
- فلم 28 اکتوبر کو پیراماؤنٹ پلس پر ریلیز کی جا رہی ہے، پاکستان میں ریلیز رواں سال متوقع ہے
ہینگنگ بائی اے وائر کے انتخاب کا اعلان کیسے ہوا
پاکستان اکیڈمی سلیکشن کمیٹی کی ڈپٹی چیئرپرسن ثنا زہرا جعفری نے گزشتہ روز کینیڈا میں منعقدہ موزیک انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں فلم کے پریمیئر کے موقع پر اس تاریخی انتخاب کا اعلان کیا۔ امریکی جریدے ورائٹی کے مطابق یہ پہلا موقع ہے کہ اس اہم کیٹیگری کے لیے کسی دستاویزی تھرلر فلم کو پاکستان کی نمائندگی کا شرف حاصل ہوا ہے۔
فلم میں حادثے کے چشم دید گواہوں، بچ جانے والے افراد اور جان ہتھیلی پر رکھ کر ریسکیو آپریشن میں حصہ لینے والے بہادر افراد کے انٹرویوز اور حقیقی مناظر کو فنکارانہ انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ فلم کی ہدایت کاری اور تحریر محمد علی نقوی نے کی ہے جبکہ پروڈکشن کے فرائض بلال سمی نے انجام دیے ہیں۔
فلم کی کہانی — اگست 2023 کا وہ دن
’ہینگنگ بائی اے وائر‘ اگست 2023 میں خیبر پختونخوا کے ضلع بٹگرام میں پیش آنے والے دل دہلا دینے والے چیئرلفٹ حادثے کی ڈرامائی داستان بیان کرتی ہے۔ ایک تار ٹوٹنے کے باعث چیئرلفٹ دریائے جھانگری سے تقریباً 600 فٹ کی بلندی پر معلق ہو گئی تھی، جس میں 6 اسکول طلبہ سمیت 8 افراد پھنس گئے تھے۔

حادثے کے بعد بڑے پیمانے پر ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا اور اس سنسنی خیز و طویل کارروائی کو پوری دنیا نے سانس روکے دیکھا تھا۔ پاک فوج کے اہلکاروں نے ہیلی کاپٹر کے ذریعے ایک شخص کو بحفاظت نکال لیا، جبکہ باقی افراد کی مدد کے لیے زپ لائن کے ماہرین علی سواتی اور صاحب خان کو طلب کیا گیا۔ تقریباً 12 گھنٹے جاری رہنے والے انتہائی مشکل آپریشن کے بعد بالآخر تمام 8 افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا تھا۔
فلم کا فلمی میلوں تک کا سفر
| مرحلہ | تفصیل |
|---|---|
| عالمی پریمیئر | سنڈانس فلم فیسٹیول 2026 (ورلڈ سنیما ڈاکیومنٹری مقابلہ) |
| نمائش | ٹرائی بیکا فلم فیسٹیول 2026 میں بے پناہ پذیرائی |
| اسٹریمنگ ریلیز | 28 اکتوبر کو پیراماؤنٹ پلس پر |
| پاکستان میں ریلیز | رواں سال متوقع، حتمی تاریخ کا اعلان ابھی نہیں ہوا |
پاکستان اور آسکر کی تاریخ
واضح رہے کہ پاکستان 1959 سے اب تک اس کیٹیگری میں اپنی فلمیں بھیجتا آیا ہے، تاہم اب تک کسی بھی پاکستانی فلم کو حتمی آسکر نامزدگی نہیں مل سکی۔ سال 2022 میں صائم صادق کی فلم ’جوائے لینڈ‘ وہ واحد پاکستانی فلم تھی جو اس کیٹیگری کی شارٹ لسٹ تک پہنچنے میں کامیاب رہی تھی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ بٹگرام کے معلق بچوں اور ریسکیو اہلکاروں کی یہ سچی کہانی آسکر کے حتمی مراحل میں کیا نیا تاریخی باب رقم کرتی ہے۔
نتیجہ
’ہینگنگ بائی اے وائر‘ کا آسکرز 2027 کے لیے پاکستان کی باضابطہ نمائندہ فلم منتخب ہونا پاکستانی دستاویزی سنیما کے لیے ایک تاریخی لمحہ ہے۔ سنڈانس اور ٹرائی بیکا میں پذیرائی کے بعد اب نظریں اکیڈمی ایوارڈز کے حتمی مراحل پر ہیں۔ شوبز اور فلم انڈسٹری کی مزید خبروں کے لیے وطن نیوز کا شوبز کا صفحہ ملاحظہ کریں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
’ہینگنگ بائی اے وائر‘ کس واقعے پر مبنی ہے؟
یہ فلم اگست 2023 میں بٹگرام میں پیش آنے والے چیئرلفٹ حادثے پر مبنی ہے، جس میں تار ٹوٹنے سے 6 بچوں سمیت 8 افراد گھنٹوں تک بلندی پر معلق رہے تھے اور 12 گھنٹے کے ریسکیو آپریشن کے بعد سب کو بحفاظت نکال لیا گیا تھا۔
یہ فلم کب اور کہاں ریلیز ہو رہی ہے؟
فلم 28 اکتوبر کو پیراماؤنٹ پلس پر ریلیز کی جا رہی ہے، جبکہ پاکستان میں اس کی ریلیز رواں سال متوقع ہے تاہم حتمی تاریخ کا اعلان ابھی نہیں ہوا۔
کیا اس سے پہلے کوئی پاکستانی فلم آسکر کی دوڑ میں کامیاب ہوئی؟
پاکستان 1959 سے فلمیں بھیج رہا ہے لیکن اب تک کسی کو حتمی نامزدگی نہیں ملی۔ 2022 میں صائم صادق کی ’جوائے لینڈ‘ واحد پاکستانی فلم تھی جو شارٹ لسٹ تک پہنچی تھی۔