×
گرم ترین مہینہ
اگست 2026 گرم ترین مہینہ — ریکارڈ گرمی میں فوارے سے ٹھنڈک پاتے شہری
ریکارڈ گرمی کی علامت — اگست 2026 میں عالمی اوسط درجہ حرارت 16.96 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جو اب تک کا مشترکہ گرم ترین مہینہ ہے۔

یورپی موسمیاتی ادارے کوپرنیکس نے اعلان کیا ہے کہ اگست 2026 گرم ترین مہینہ رہا — جولائی 2023 کے ساتھ مشترکہ طور پر اب تک کا گرم ترین مہینہ۔ عالمی اوسط سطحی درجہ حرارت 16.96 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جو صنعتی دور سے پہلے کے مقابلے میں 1.65 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ ہے۔ سائنس دانوں کے مطابق انسانوں کے ہاتھوں جلائے جانے والے فوسل فیول اور مضبوط ہوتے ایل نینو کے دوہرے اثر نے یہ ریکارڈ بنایا ہے، اور ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ ریکارڈ توڑنے کا یہ سلسلہ ابھی رکنے والا نہیں۔

اہم نکات

  • اگست 2026 کا عالمی اوسط درجہ حرارت 16.96 ڈگری سینٹی گریڈ — جولائی 2023 کے ساتھ مشترکہ گرم ترین مہینہ
  • صنعتی دور سے پہلے سے 1.65 ڈگری زیادہ؛ نومبر 2025 کے بعد پہلا مہینہ جو 1.5 ڈگری کی حد سے تجاوز کر گیا
  • ریکارڈ کے 8 گرم ترین مہینے تمام جولائی 2023 کے بعد کے ہیں
  • شمالی نصف کرے کی گرم ترین گرمیاں؛ امریکا میں 1936 کے ڈسٹ باؤل کے عروج سے بھی زیادہ گرم موسم گرما
  • سمندروں کا ماہانہ درجہ حرارت بھی ریکارڈ کے برابر؛ 22 اگست کو عالمی سمندروں کا گرم ترین دن
  • ایل نینو صرف 0.1 سے 0.2 ڈگری کا اضافہ کرتا ہے — اصل محرک فوسل فیول کا مسلسل جلنا ہے

اگست گرم ترین مہینہ کیسے بنا؟

کوپرنیکس کلائمیٹ چینج سروس کے مطابق اگست میں دنیا کا اوسط درجہ حرارت 16.96 ڈگری سینٹی گریڈ رہا، جو تکنیکی طور پر جولائی 2023 کے عالمی ریکارڈ سے ایک سوواں ڈگری زیادہ ہے۔ تاہم چونکہ یہ فرق پیمائش کی غیر یقینی حد کے اندر ہے، اس لیے دونوں مہینوں کو مشترکہ گرم ترین مہینہ قرار دیا گیا ہے۔ کوپرنیکس کی اسٹریٹجک سربراہ سمانتھا برجیس کے مطابق یہ پہلا موقع ہے کہ روایتی طور پر گرم ترین سمجھے جانے والے جولائی کے بجائے اگست نے عالمی ریکارڈ قائم کیا، جو اس بات کی علامت ہے کہ انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی موسمیاتی تبدیلی میں تیزی آ رہی ہے۔

اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ یہ کوئی ایک مہینے کا واقعہ نہیں۔ کوپرنیکس کے ریکارڈ کے مطابق اب تک کے 8 گرم ترین مہینے تمام جولائی 2023 کے بعد کے ہیں۔ اگست وہ پہلا مہینہ بھی تھا جو نومبر 2025 کے بعد 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ کی حد سے تجاوز کر گیا — یہ وہی حد ہے جسے 2015 کے پیرس معاہدے کے تحت تقریباً 200 ممالک نے طویل مدتی اوسط کے طور پر عبور نہ کرنے کا عزم کیا تھا۔

پیمانہ قدر
اگست 2026 کا عالمی اوسط درجہ حرارت 16.96 ڈگری سینٹی گریڈ
صنعتی دور سے پہلے سے فرق 1.65 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ
پچھلا مشترکہ ریکارڈ جولائی 2023
ریکارڈ کے 8 گرم ترین مہینے تمام جولائی 2023 کے بعد
نومبر 2025 کے بعد 1.5 ڈگری سے اوپر پہلا مہینہ اگست 2026
امریکا میں جون تا اگست کا اوسط 23.56 ڈگری سینٹی گریڈ (1936 کے ڈسٹ باؤل سے زیادہ)

ایل نینو اور فوسل فیول کا کردار

سائنس دانوں کے مطابق اس ریکارڈ گرمی کے پیچھے دو عوامل کارفرما ہیں: انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی موسمیاتی تبدیلی اور بحرالکاہل کے کچھ حصوں کا قدرتی طور پر گرم ہونا، جسے ایل نینو کہا جاتا ہے۔ تاہم ماہرین واضح کرتے ہیں کہ ایل نینو کا حصہ بہت محدود ہے — سمانتھا برجیس کے مطابق ایل نینو عالمی درجہ حرارت میں عام طور پر صرف 0.1 سے 0.2 ڈگری سینٹی گریڈ کا اضافہ کرتا ہے، جبکہ باقی تقریباً تمام گرمی فوسل فیول کے جلنے سے پیدا ہونے والی حرارت پھنسا نے والی گیسوں کی مرہون منت ہے۔

امپیریل کالج لندن کی موسمیاتی سائنس دان فریڈریک اوٹو کے بقول، جب تک ہم کوئلہ، تیل اور گیس جلانا بند نہیں کرتے، ریکارڈ توڑنے والے یہ مہینے آتے رہیں گے۔ ٹیکساس اے اینڈ ایم یونیورسٹی کے سائنس دان اینڈریو ڈیسلر کہتے ہیں کہ اب حیران ہونا چھوڑنے کا وقت آ گیا ہے کہ ہماری گرم ہوتی زمین مزید گرم ہو رہی ہے — یہ بالکل ویسا ہی ہو رہا ہے جیسا سائنس دانوں نے دہائیاں پہلے پیش گوئی کی تھی۔

اگست 2026 گرم ترین مہینہ — شدید گرمی کے دوران جنگلاتی آگ
شدید گرمی کے دوران جنگلاتی آگ — اگست 2026 میں انڈونیشیا سے یونان تک جنگلاتی آگ میں اضافہ دیکھا گیا۔

سمندر بھی ریکارڈ گرمی کی لپیٹ میں

گرمی صرف زمین تک محدود نہیں رہی۔ کوپرنیکس کے مطابق اگست میں عالمی ماہانہ سمندری درجہ حرارت نے مارچ 2024 کے عالمی ریکارڈ کی برابری کی، جبکہ 22 اگست کو عالمی سمندروں میں اب تک کا گرم ترین دن ریکارڈ کیا گیا۔ اسی گرمی نے شمالی نصف کرے کو اب تک کی گرم ترین گرمیاں دیں — عالمی سطح پر یہ 2024 کے ساتھ مشترکہ ریکارڈ ہے۔

امریکا کے قومی سمندری و فضائی انتظامیہ نے اعلان کیا کہ ملحقہ امریکی ریاستوں میں 2026 کی گرمیاں 1936 کے ڈسٹ باؤل کے عروج سے بھی زیادہ گرم رہیں — جون سے اگست تک اوسط 23.56 ڈگری سینٹی گریڈ رہا۔ اسی دوران دنیا بھر میں شدید موسم اور موسمیاتی آفات نے تباہی مچائی: نیپال اور چین کے تبت میں لینڈ سلائیڈنگ اور اچانک سیلاب سے سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے، انڈونیشیا سے یونان اور بیلجیم تک جنگلاتی آگ بھڑک اٹھی، جبکہ ہنگری اور رومانیہ شدید خشک سالی کی لپیٹ میں رہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ان واقعات میں موسمیاتی تبدیلی کا کردار ممکنہ ہے۔

آنے والے برسوں کی پیش گوئی

عالمی موسمیاتی تنظیم کی مئی 2026 کی رپورٹ کے مطابق عالمی درجہ حرارت کے ریکارڈ سطح کے قریب رہنے کا امکان ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2026 سے 2030 کے درمیان کم از کم ایک سال کے 2024 کو پیچھے چھوڑ کر گرم ترین سال بننے کا 86 فیصد امکان ہے، اور 91 فیصد امکان ہے کہ اگلے پانچ برسوں میں کم از کم ایک سال کا اوسط درجہ حرارت عارضی طور پر 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر جائے گا۔ 2026 سے 2030 کے سالانہ درجہ حرارت کے 1850 سے 1900 کی اوسط سے 1.3 سے 1.9 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ رہنے کی توقع ہے، اور پورے پانچ سالہ دورانیے کی اوسط کے 1.5 ڈگری سے تجاوز کا امکان 75 فیصد ہے۔

رپورٹ کے مرکزی مصنف لیون ہرمینسن کے مطابق 2026 کے آخر میں ایل نینو کی پیش گوئی ہے، جس سے 2027 کے اگلے ریکارڈ توڑ سال بننے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ برکلی ارتھ کے سائنس دان زیک ہاؤس فادر کے اندازے کے مطابق 2026 کے 2024 کو پیچھے چھوڑ کر گرم ترین سال بننے کا امکان بڑھ رہا ہے، اور غیر معمولی طور پر مضبوط ایل نینو کی پشت پر 2027 دونوں کو پیچھے چھوڑ سکتا ہے — ممکنہ طور پر صنعتی دور سے پہلے سے 1.8 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے۔ قطبی خطے میں گرمی باقی دنیا سے کہیں تیز ہے: اگلے پانچ شمالی نصف کرے کے موسم سرما میں وہاں کا اوسط درجہ حرارت 1991 سے 2020 کی بنیاد سے 2.8 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ رہنے کی پیش گوئی ہے۔

اقوام متحدہ کے موسمیاتی سربراہ سائمن اسٹیل نے خبردار کیا ہے کہ جب تک انسان کوئلے، تیل اور گیس کی بھاری مقدار جلانا بند نہیں کرتا، اس آلودگی سے پیدا ہونے والی گرمی زمین کو تپاتی رہے گی اور شدید گرمی تمام ریکارڈ توڑتی رہے گی — جس سے لاکھوں جانیں ضائع ہوں گی اور کھربوں کا نقصان ہوگا۔ ماحولیاتی آگاہی سے متعلق مزید معلوماتی مضامین یہاں پڑھیں

نتیجہ

اگست 2026 کا ریکارڈ ایک انتباہ ہے: عالمی حدت اب روزمرہ زندگی کو متاثر کر رہی ہے — سڑکیں پگھل رہی ہیں، اسکول بند ہو رہے ہیں، اسپتال دباؤ میں ہیں اور فصلیں تباہ ہو رہی ہیں۔ سائنس واضح ہے کہ اصل محرک فوسل فیول کا جلنا ہے، اور جب تک اس کا خاتمہ نہیں ہوتا، ہر آنے والا ایل نینو پچھلے سے زیادہ گرم ہوگا۔ یہی وہ آگاہی ہے جو ہر شہری تک پہنچنا ضروری ہے۔

اکثر پوچھے گئے سوالات

کیا پیرس معاہدے کی 1.5 ڈگری کی حد ٹوٹ گئی ہے؟
نہیں۔ یہ حد دہائیوں کی طویل مدتی اوسط پر مبنی ہے، نہ کہ کسی ایک مہینے کی عارضی چوٹی پر۔ موجودہ طویل مدتی حدت صنعتی دور سے پہلے سے تقریباً 1.4 ڈگری زیادہ ہے، اور اقوام متحدہ کی رپورٹوں کے مطابق موجودہ پالیسیوں کے ساتھ اس حد کو طویل مدت میں برقرار رکھنا انتہائی مشکل ہو چکا ہے۔

ایل نینو کیا ہے؟
ایل نینو بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی استوائی حصوں کا قدرتی طور پر گرم ہونا ہے، جو ہواؤں، دباؤ اور بارش کے عالمی نمونوں کو بدل دیتا ہے۔ یہ عام طور پر دو سے سات سال میں ایک بار آتا ہے اور نو سے بارہ ماہ رہتا ہے۔

کیا 2026 گرم ترین سال بنے گا؟
سائنس دانوں کے مطابق اس کا امکان بڑھ رہا ہے کہ 2026 سنہ 2024 کو پیچھے چھوڑ کر گرم ترین سال بن جائے، اور 2027 کے مزید گرم ہونے کا قوی امکان ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Author

usman2344913@gmail.com

Related Posts

برطانوی ماحولیاتی اداروں کے خاتمے کے اعلان کے پس منظر میں برطانیہ میں زیر تعمیر نئے مکانات

برطانوی حکومت کا ماحولیاتی اداروں کو ختم کرنے کا اعلان

کنزرویٹو پارٹی نے سالانہ کنونشن میں انوائرنمنٹ ایجنسی اور نیچرل انگلینڈ ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پارٹی کا دعویٰ ہے کہ...

Read out all

پاکستانی ہائی کمشنر اور بنگلہ دیشی ٹیکسٹائل نمائندے کی ملاقات

ڈھاکہ: پاکستان کے ہائی کمشنر برائے بنگلہ دیش، جناب عمران حیدر نے بنگلہ دیش گارمنٹ مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن (بی جی...

Read out all
لاہور اسموگ

تصاویر: اسموگ کی لپیٹ میں لاہور، ایک بار پھر دنیا کا آلودہ ترین شہر

لاہور ایک بار پھر دنیا کے آلودہ ترین بڑے شہروں کی فہرست میں سرفہرست آ گیا ہے۔ فضائی معیار کی نگرانی کرنے...

Read out all
ٹین سنٹ اوریکل

ٹین سنٹ اور اوریکل کا سات ارب ڈالر کا مصنوعی ذہانت معاہدہ

نیویارک: چینی ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنی ٹین سنٹ نے امریکی کلاؤڈ انفراسٹرکچر کمپنی اوریکل کے ساتھ تقریباً سات ارب ڈالر کا معاہدہ...

Read out all
وومن اَن نون فلم

وومن اَن نون: وینس میں ڈنمارک کی تاریخی فتح کی کہانی

12 ستمبر 2026 کی شام وینس کے ساحل پر جب تریاسیویں فیسٹیول کے سب سے بڑے انعام کا اعلان ہوا تو ڈنمارک...

Read out all
بلوٹانڈ مشق

ڈنمارک ہوم گارڈ کی بڑی مشق بلوٹانڈ مکمل

کوپن ہیگن: ڈنمارک کے رضاکار دفاعی ادارے ہوم گارڈ کی حالیہ برسوں کی سب سے بڑی مشق "بلوٹانڈ" یکم سے چار اکتوبر...

Read out all