- 0
- 2 words

کراچی: پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے ٹریڈنگ ہال میں یکم اکتوبر 2026 کو منعقدہ گانگ تقریب میں نیا ناظم آباد اپارٹمنٹ ریٹ کی لسٹنگ کا جشن منایا گیا۔ تقریب میں وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے اعلان کیا کہ وزیراعظم کے اپنا گھر پروگرام کے تحت اب تک تقریباً 60 ارب روپے کی مالی معاونت فراہم کی جا چکی ہے، جبکہ مزید تقریباً 340 ارب روپے کی منظور شدہ مالی معاونت ادائیگی کی منتظر ہے۔
اہم نکات
- یکم اکتوبر 2026 کو کراچی میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نیا ناظم آباد اپارٹمنٹ ریٹ کی لسٹنگ کی گانگ تقریب منعقد ہوئی۔
- وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے مطابق اپنا گھر پروگرام کے تحت 60 ارب روپے کی مالی معاونت ہو چکی، 340 ارب روپے کی منظوری ادائیگی کی منتظر ہے۔
- یہ ریٹ 17 ستمبر 2026 کو پی ایس ایکس کے مین بورڈ پر علامت این این اے آر کے تحت لسٹ ہوا تھا۔
- بک بلڈنگ میں 292 سرمایہ کاروں نے حصہ لیا، 4.551 ارب روپے کی بولیاں موصول ہوئیں اور اسٹرائیک قیمت 23 روپے فی یونٹ مقرر ہوئی۔
- کے ایس ای-100 انڈیکس مارچ 2024 میں 67 ہزار سے بڑھ کر تقریباً 1 لاکھ 70 ہزار پوائنٹس تک پہنچ چکا ہے۔
تقریب میں کون کون شریک ہوا؟
یہ تقریب عارف حبیب کی میزبانی میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے ٹریڈنگ ہال میں صبح 9 بجے منعقد ہوئی۔ وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف نے بذریعہ ویڈیو لنک بطور مہمان اعزازی شرکت کی جبکہ وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب بطور مہمان خصوصی خود تقریب میں موجود تھے۔
تقریب میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر جمیل احمد اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے چیئرمین ڈاکٹر کبیر احمد سدھو بھی شریک ہوئے۔ وزیر خزانہ نے اس موقع پر نجی شعبے کی قیادت میں معاشی ترقی اور سرمائے کی تشکیل کی اہمیت پر زور دیا۔
نیا ناظم آباد اپارٹمنٹ ریٹ کی لسٹنگ کا مکمل شیڈول
سرکاری ریکارڈ کے مطابق اس ریٹ کی لسٹنگ کا عمل مرحلہ وار مکمل ہوا۔ اہم تاریخیں درج ذیل ہیں:
| مرحلہ | تاریخ |
|---|---|
| پی ایس ایکس کی منظوری | 10 اگست 2026 |
| ایس ای سی پی کی منظوری | 12 اگست 2026 |
| بک بلڈنگ | یکم تا 2 ستمبر 2026 |
| عوامی سبسکرپشن | 7 تا 8 ستمبر 2026 |
| مین بورڈ پر لسٹنگ (علامت این این اے آر) | 17 ستمبر 2026 |
سرمایہ کاروں کا بھرپور ردعمل
بک بلڈنگ کے مرحلے میں سرمایہ کاروں نے غیر معمولی دلچسپی ظاہر کی۔ مجموعی طور پر 292 سرمایہ کاروں نے حصہ لیا جن میں سے 249 کو یونٹس الاٹ ہوئے۔ تقریباً 595 ملین روپے کے اجرا کے مقابلے میں 4.551 ارب روپے کی بولیاں موصول ہوئیں، یعنی مانگ اجرا سے تقریباً آٹھ گنا زیادہ رہی۔ اسٹرائیک قیمت 23 روپے فی یونٹ مقرر ہوئی، جو پیش کردہ قیمت کی بالائی حد تھی۔
اس ریٹ کے تحت 44.06 ملین یونٹ پیش کیے گئے جو اسکیم کے مجموعی یونٹس کا 15 فیصد ہیں۔ یہ ایک محدود مدتی، بند اختتامی، شریعہ کے مطابق ترقیاتی ریٹ ہے جس کا انتظام عارف حبیب ڈولمین ریٹ مینجمنٹ لمیٹڈ کر رہا ہے۔ اس کے اثاثوں میں کراچی کے سات پلاٹ، لاہور میں بیڈیاں روڈ پر بینکرز ایونیو کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کے 216 پلاٹ اور گلبرگ لاہور میں آئی ٹی ٹاور کی 76 دکانیں شامل ہیں۔

اپنا گھر پروگرام اور مکانات کی مالی معاونت
وزیر خزانہ نے تقریب سے خطاب میں بتایا کہ وزیراعظم کے اپنا گھر پروگرام کے تحت اب تک تقریباً 60 ارب روپے کی مالی معاونت فراہم کی جا چکی ہے۔ اس کے علاوہ تقریباً 340 ارب روپے کی مزید مالی معاونت کی منظوری دی جا چکی ہے جو ادائیگی کی منتظر ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ دونوں اعداد مختلف مراحل کی مالی معاونت کو ظاہر کرتے ہیں، اس لیے انہیں پہلے سے فراہم شدہ رقم کے طور پر نہیں جوڑا جانا چاہیے۔
وزیر خزانہ نے مکانات کی تیز تر تعمیر پر زور دیا اور کہا کہ ریٹس جائیداد میں سرمایہ کاری کو متحرک کرنے کا اہم ذریعہ ہیں۔ انہوں نے اسٹاک مارکیٹ کی مضبوط کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ کے ایس ای-100 انڈیکس مارچ 2024 میں تقریباً 67 ہزار پوائنٹس سے بڑھ کر تقریباً 1 لاکھ 70 ہزار پوائنٹس تک پہنچ چکا ہے۔ ستمبر 2026 میں 25,281 نئے سرمایہ کار مارکیٹ میں شامل ہوئے جس سے سرمایہ کاروں کی مجموعی تعداد 656,218 ہو گئی ہے۔ مالی سال 26 میں 11 کمپنیاں مارکیٹ میں آئیں جو دو دہائیوں میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔
سرمایہ کاروں کے لیے اہم احتیاط
ماہرین کے مطابق ریٹ کا یونٹ اسکیم میں حصہ داری کو ظاہر کرتا ہے، یہ کسی مخصوص اپارٹمنٹ کی رجسٹری کے برابر نہیں ہے۔ پیشکش کی دستاویز میں تعمیراتی، فروخت، وصولی اور مارکیٹ قیمت کے خطرات کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔ لسٹنگ منافع یا ڈیویڈنڈ کی ضمانت نہیں دیتی۔ یہ یونٹس موجودہ یونٹس کی فروخت کی پیشکش تھی، اس لیے اسے نئی تعمیر کے لیے حاصل کردہ سرمائے کے طور پر نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
جائیداد اور معیشت کے حوالے سے مزید کاروباری خبریں ہماری ویب سائٹ پر پڑھی جا سکتی ہیں۔
نتیجہ
نیا ناظم آباد اپارٹمنٹ ریٹ کی لسٹنگ اور اپنا گھر پروگرام کے اعداد پاکستان میں مکانات کی مالی معاونت اور جائیداد کے شعبے میں رسمی سرمایہ کاری کے فروغ کی عکاسی کرتے ہیں۔ آنے والے مہینوں میں اصل ادائیگیوں اور اسکیم کی مالیاتی رپورٹوں سے اس پیش رفت کی اصل تصویر مزید واضح ہوگی۔
عام سوالات
نیا ناظم آباد اپارٹمنٹ ریٹ کب لسٹ ہوا؟
یہ ریٹ 17 ستمبر 2026 کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے مین بورڈ پر علامت این این اے آر کے تحت لسٹ ہوا تھا، جبکہ یکم اکتوبر کو اس کی گانگ تقریب منائی گئی۔
اپنا گھر پروگرام کے تحت کتنی مالی معاونت ہوئی ہے؟
وزیر خزانہ کے مطابق اب تک تقریباً 60 ارب روپے کی مالی معاونت فراہم کی جا چکی ہے جبکہ مزید تقریباً 340 ارب روپے کی منظوری ادائیگی کی منتظر ہے۔
بک بلڈنگ میں سرمایہ کاروں کا ردعمل کیسا رہا؟
بک بلڈنگ میں 292 سرمایہ کاروں نے حصہ لیا اور 4.551 ارب روپے کی بولیاں موصول ہوئیں جو اجرا کے حجم سے تقریباً آٹھ گنا زیادہ تھیں۔ اسٹرائیک قیمت 23 روپے فی یونٹ مقرر ہوئی۔
کیا ریٹ کا یونٹ اپارٹمنٹ کی ملکیت کے برابر ہے؟
نہیں، ریٹ کا یونٹ اسکیم میں حصہ داری کو ظاہر کرتا ہے، یہ کسی مخصوص اپارٹمنٹ کی ملکیت کے برابر نہیں ہے اور لسٹنگ منافع کی ضمانت نہیں دیتی۔