×
بوسنیا انتخابات کے موقع پر پولنگ اسٹیشن کے باہر ووٹروں کی قطار اور بیلٹ بکس

بوسنیا اور ہرزیگوینا میں اتوار 4 اکتوبر کو ہونے والے عام انتخابات کے ابتدائی نتائج سامنے آ گئے ہیں، جن میں نسلی قوم پرست جماعتوں نے نمایاں برتری حاصل کی ہے۔ مرکزی انتخابی کمیشن کے مطابق مجموعی ٹرن آؤٹ تقریباً 42 فیصد رہا، جو 2022 کے 51.5 فیصد کے مقابلے میں ریکارڈ کم ہے — اور یہی صورتحال ملک میں بڑھتی سیاسی تقسیم اور عدم استحکام کے خدشات کو مزید گہرا کر رہی ہے۔

اہم نکات

  • 3.4 ملین سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز میں سے صرف تقریباً 42 فیصد نے ووٹ ڈالا — عام انتخابات کی تاریخ کا کم ترین ٹرن آؤٹ۔
  • سرب نشست پر زیلجکا سیانووچ (ایس این ایس ڈی) نے 55.3 فیصد ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی اور اپنی نشست برقرار رکھی۔
  • بوسنیائی نشست پر ڈینس بی سیرووچ (سوشل ڈیموکریٹک پارٹی) نے 38.2 فیصد ووٹوں کے ساتھ کامیابی حاصل کی۔
  • کروشیا نشست پر داریجانا فیلیپووچ (ایچ ڈی زیڈ بوسنیا و ہرزیگووینا) نے 46.5 فیصد ووٹ لے کر میدان مار لیا۔
  • سرب رہنما میلوراد ڈوڈک نے بنجا لوکا میں حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے اپنی پارٹی کی فتح کا اعلان کیا۔
  • ملک کو معاشی مشکلات، یورپی یونین کی رکنیت میں سست پیش رفت اور مسلسل سیاسی تعطل جیسے سنگین چیلنجز درپیش ہیں۔

انتخابات کا پس منظر اور ٹرن آؤٹ

بوسنیا اور ہرزیگوینا میں اتوار کو ہونے والے عام انتخابات میں 3.4 ملین سے زائد ووٹروں کو حق رائے دہی حاصل تھا۔ تاہم، مرکزی انتخابی کمیشن کے ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق اس بار ٹرن آؤٹ تقریباً 42 فیصد رہا، جو 2022 کے 51.5 فیصد سے نمایاں کمی ہے۔ یہ عام انتخابات کی تاریخ کا کم ترین ٹرن آؤٹ ہے اور ملک میں سیاسی عمل سے عوام کی بڑھتی بے حسی کی عکاسی کرتا ہے۔ دنیا بھر کی مزید خبریں وطن نیوز کی مرکزی ویب سائٹ پر پڑھیں۔

بوسنیا انتخابات میں بیلٹ بکس میں ووٹ ڈالتا ووٹر
پولنگ اسٹیشن پر بیلٹ بکس میں ووٹ ڈالتا ایک ووٹر۔

قوم پرست جماعتوں کی کامیابی

ابتدائی نتائج کے مطابق، نسلی قوم پرست جماعتوں نے ملک کی کثیر النسلی، سہ فریقی صدارت کے انتخابات میں نمایاں کامیابی حاصل کی ہے۔ تینوں نسلی برادریوں — بوسنیائی، سرب اور کروشیا — کے لیے مخصوص صدارتی نشستوں کے نتائج درج ذیل ہیں:

نشست فاتح امیدوار جماعت ووٹ فیصد
بوسنیائی رکن ڈینس بی سیرووچ سوشل ڈیموکریٹک پارٹی (ایس ڈی پی) 208,027 38.2%
کروشیا رکن داریجانا فیلیپووچ کروشیا ڈیموکریٹک یونین (ایچ ڈی زیڈ) 108,071 46.5%
سرب رکن زیلجکا سیانووچ آزاد سوشل ڈیموکریٹس کا اتحاد (ایس این ایس ڈی) 283,821 55.3%

بوسنیائی اور سرب نشستوں پر موجودہ اراکین نے اپنی نشستیں برقرار رکھیں، جبکہ کروشیا نشست قوم پرست جماعت ایچ ڈی زیڈ کے پاس چلی گئی — یہی وہ تبدیلی ہے جس نے قوم پرستوں کی مجموعی برتری کو نمایاں کیا ہے۔

سرب قوم پرستوں کا دعویٰ

زیلجکا سیانووچ کو سرب رہنما میلوراد ڈوڈک کی حمایت حاصل تھی۔ ڈوڈک خود بیلٹ پر نہیں تھے، مگر انہوں نے انتخابی مہم پر غلبہ حاصل کیے رکھا۔ یاد رہے کہ انہیں 2025 میں عدالتی فیصلے کے بعد چھ سال کے لیے عوامی عہدوں سے نااہل قرار دیا گیا تھا۔

ڈوڈک کا بیان

بنجا لوکا میں اپنی پارٹی کے انتخابی مرکز سے خطاب کرتے ہوئے میلوراد ڈوڈک نے ریپبلیکا سرپسکا کے صدر کے لیے اپنی پارٹی کے امیدوار ساوو مینیچ اور بوسنیائی صدارت میں سرب رکن کے لیے زیلجکا سیانووچ کی فتح کا اعلان کیا۔ انہوں نے حامیوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اتحادی شراکت داروں کے ساتھ ان کی جماعت کو ریپبلیکا سرپسکا کی پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت حاصل ہوگی۔

نسلی اور سیاسی تقسیم

ووٹروں نے وفاقی پارلیمنٹ کے اراکین اور ملک کی دو بڑی خود مختار اکائیوں — مسلم-کروشیا فیڈریشن آف بوسنیا اور ہرزیگوینا اور سرب کے زیر انتظام ریپبلیکا سرپسکا — کے لیے اداروں کے سربراہان کا بھی انتخاب کیا۔

بوسنیا انتخابات کے بعد ملک کو درپیش چیلنجز — تاریخی شہر کا منظر
بوسنیا اور ہرزیگوینا کے تاریخی شہر کا ایک منظر۔
  • بوسنیا اور ہرزیگوینا کی تقریباً 50% آبادی مسلم بوسنیائی، 31% آرتھوڈوکس سرب اور 15% کیتھولک کروشٹ ہیں۔
  • 1992 سے 1995 تک ہونے والی خانہ جنگی میں 2 ملین سے زائد افراد بے گھر ہوئے اور تقریباً 100,000 ہلاک ہوئے۔
  • حالیہ برسوں میں امن قائم ہے، لیکن نسلی قوم پرست جماعتیں تقسیم کو زندہ رکھے ہوئے ہیں، حالانکہ ووٹر جنگی دور کے بیانیے سے آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔

ملک کو درپیش چیلنجز

یہ انتخابات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ملک کو متعدد چیلنجز کا سامنا ہے۔

  • اقتصادی کساد بازاری اور بڑھتی بے روزگاری
  • یورپی یونین کی رکنیت کی طرف سست پیش رفت
  • اور مستقل سیاسی تعطل، جس میں غالب نسلی جماعتیں کمزور مرکزی حکومت کے فیصلوں کو بار بار روک رہی ہیں۔

انتخابی مقابلہ

اس الیکشن میں بوسنیائی ایس ڈی اے، سرب ایس این ایس ڈی اور کروشیا کی ایچ ڈی زیڈ بوسنیا و ہرزیگووینا جیسی قوم پرست جماعتوں کا مقابلہ سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کی سربراہی میں کثیر النسلی اپوزیشن اتحادوں سے تھا۔ نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ نسلی شناخت اب بھی بوسنیائی سیاست کا فیصلہ کن عنصر ہے۔

نتیجہ

بوسنیا اور ہرزیگوینا کے انتخابات کے نتائج نے ملک میں جاری نسلی اور سیاسی تقسیم کو مزید اجاگر کیا ہے۔ ریکارڈ کم ٹرن آؤٹ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ووٹروں کی سیاسی عمل میں دلچسپی کم ہو رہی ہے، جبکہ قوم پرست جماعتوں کی برتری ملک کے مستقبل کے لیے عدم استحکام کا باعث بن سکتی ہے۔ اقتصادی مشکلات اور یورپی یونین کی رکنیت کی طرف سست پیش رفت جیسے مسائل پہلے سے موجود ہیں، اور اب سیاسی تعطل کے مزید گہرے ہونے کا خدشہ ہے۔ اسی خبر کا مکمل اردو ورژن وطن نیوز کی مرکزی ویب سائٹ پر بھی پڑھا جا سکتا ہے۔

اکثر پوچھے گئے سوالات

بوسنیا اور ہرزیگوینا میں انتخابات کا نتیجہ کیا رہا؟

ابتدائی نتائج کے مطابق، نسلی قوم پرست جماعتوں نے عام انتخابات میں نمایاں برتری حاصل کی ہے، جبکہ ووٹروں کی شرح ریکارڈ کم رہی۔

صدارتی نشستیں کس کس نے جیتیں؟

بوسنیائی نشست ڈینس بی سیرووچ (38.2 فیصد)، کروشیا نشست داریجانا فیلیپووچ (46.5 فیصد) اور سرب نشست زیلجکا سیانووچ (55.3 فیصد) نے جیتی۔

میلوراد ڈوڈک کا ان انتخابات میں کیا کردار رہا؟

ڈوڈک خود بیلٹ پر نہیں تھے، کیونکہ انہیں 2025 میں چھ سال کے لیے عوامی عہدوں سے نااہل قرار دیا گیا تھا۔ تاہم انہوں نے مہم پر غلبہ رکھا اور بنجا لوکا میں اپنی پارٹی ایس این ایس ڈی کی فتح کا اعلان کیا۔

انتخابات میں ووٹروں کی ٹرن آؤٹ کتنی رہی؟

اس بار ووٹروں کی ٹرن آؤٹ تقریباً 42 فیصد رہی، جو 2022 کے 51.5 فیصد کے مقابلے میں عام انتخابات کی تاریخ کی کم ترین شرح ہے۔

قوم پرست جماعتوں کی برتری کے کیا اثرات ہو سکتے ہیں؟

قوم پرست جماعتوں کی برتری ملک میں سیاسی تقسیم کو مزید گہرا کر سکتی ہے اور حکومتی فیصلوں میں تعطل کا باعث بن سکتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Author

usmanjaved13132@gmail.com

Related Posts

یورپی روڈ سائیکلنگ چیمپئن شپ میں پہاڑی سڑک پر چڑھتا سائیکلسٹوں کا قافلہ

ایونپول نے یورپی روڈ سائیکلنگ کا تاج جیت لیا

ریمکو ایونپول نے اتوار کو سلووینیا کے دارالحکومت لیوبلیانا میں یورپی روڈ سائیکلنگ چیمپئن شپ کی مردوں کی ایلیٹ روڈ ریس جیت...

Read out all
برطانوی ماحولیاتی اداروں کے خاتمے کے اعلان کے پس منظر میں برطانیہ میں زیر تعمیر نئے مکانات

برطانوی حکومت کا ماحولیاتی اداروں کو ختم کرنے کا اعلان

کنزرویٹو پارٹی نے سالانہ کنونشن میں انوائرنمنٹ ایجنسی اور نیچرل انگلینڈ ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پارٹی کا دعویٰ ہے کہ...

Read out all

پاکستانی ہائی کمشنر اور بنگلہ دیشی ٹیکسٹائل نمائندے کی ملاقات

ڈھاکہ: پاکستان کے ہائی کمشنر برائے بنگلہ دیش، جناب عمران حیدر نے بنگلہ دیش گارمنٹ مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن (بی جی...

Read out all
لاہور اسموگ

تصاویر: اسموگ کی لپیٹ میں لاہور، ایک بار پھر دنیا کا آلودہ ترین شہر

لاہور ایک بار پھر دنیا کے آلودہ ترین بڑے شہروں کی فہرست میں سرفہرست آ گیا ہے۔ فضائی معیار کی نگرانی کرنے...

Read out all
ٹین سنٹ اوریکل

ٹین سنٹ اور اوریکل کا سات ارب ڈالر کا مصنوعی ذہانت معاہدہ

نیویارک: چینی ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنی ٹین سنٹ نے امریکی کلاؤڈ انفراسٹرکچر کمپنی اوریکل کے ساتھ تقریباً سات ارب ڈالر کا معاہدہ...

Read out all
وومن اَن نون فلم

وومن اَن نون: وینس میں ڈنمارک کی تاریخی فتح کی کہانی

12 ستمبر 2026 کی شام وینس کے ساحل پر جب تریاسیویں فیسٹیول کے سب سے بڑے انعام کا اعلان ہوا تو ڈنمارک...

Read out all