برازیل انتخابات کے پہلے مرحلے میں ووٹوں کی گنتی جاری ہے اور ابتدائی نتائج کے مطابق قوم پرست سینیٹر فلاویو بلسونارو موجودہ صدر لوئز اناسیو لولا ڈا سلوا سے آگے ہیں، تاہم دونوں امیدواروں کے درمیان فرق بتدریج کم ہو رہا ہے۔ اعلیٰ انتخابی عدالت کے ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق تقریباً دو تہائی ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد بلسونارو کو تقریباً 50 فیصد اور لولا کو 42 فیصد سے زائد ووٹ حاصل ہوئے ہیں۔ چونکہ پہلے ہی مرحلے میں کسی امیدوار کے 50 فیصد سے زائد درست ووٹ حاصل کرنے کا امکان کم نظر آ رہا ہے، اس لیے 25 اکتوبر کو دونوں سرکردہ امیدواروں کے درمیان دوسرے مرحلے کا مقابلہ متوقع ہے۔
اہم نکات
- کیا ہوا: برازیل کے صدارتی انتخابات کے پہلے مرحلے کے لیے 4 اکتوبر 2026 کو ووٹنگ ہوئی اور اب ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔
- اہم امیدوار: قوم پرست سینیٹر فلاویو بلسونارو (لبرل پارٹی) اور موجودہ صدر لوئز اناسیو لولا ڈا سلوا (ورکرز پارٹی) — صدارتی دوڑ میں مجموعی طور پر 12 امیدوار شامل تھے۔
- ابتدائی نتائج: تقریباً دو تہائی ووٹوں کی گنتی کے بعد بلسونارو کو تقریباً 50 فیصد اور لولا کو 42 فیصد سے زائد ووٹ ملے ہیں (اعلیٰ انتخابی عدالت کے ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق)۔
- دوسرا مرحلہ: اگر پہلے مرحلے میں کوئی امیدوار 50 فیصد سے زائد درست ووٹ حاصل نہ کر سکا تو 25 اکتوبر کو دونوں سرکردہ امیدواروں کے درمیان دوسرا اور فیصلہ کن مرحلہ ہوگا۔
- اہل ووٹرز: تقریباً 15 کروڑ 90 لاکھ شہری ووٹ ڈالنے کے اہل تھے، جن میں سے 3 کروڑ 40 لاکھ کا تعلق ساؤ پالو ریاست سے ہے۔
- پس منظر: سابق صدر جیر بلسونارو 2022 کے انتخابات میں شکست کے بعد بغاوت کی کوشش کے الزام میں 27 سال 3 ماہ قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔
برازیل انتخابات: ابتدائی نتائج کی صورتحال
برازیل میں الیکٹرانک ووٹنگ کے نظام کی بدولت گنتی تیزی سے جاری ہے اور ابتدائی اعداد و شمار انتخابی عدالت کی جانب سے مسلسل جاری کیے جا رہے ہیں۔ اب تک کے نتائج کے مطابق فلاویو بلسونارو کو واضح برتری حاصل ہے، لیکن جیسے جیسے مزید ووٹ گنے جا رہے ہیں، ان کے اور لولا کے درمیان فرق کم ہوتا جا رہا ہے۔
برازیل کے انتخابی قانون کے مطابق صدارتی الیکشن جیتنے کے لیے پہلے مرحلے میں 50 فیصد سے زائد درست ووٹ درکار ہوتے ہیں۔ موجودہ رجحان کو دیکھتے ہوئے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یہ حد کوئی امیدوار عبور نہیں کر پائے گا، جس کے بعد 25 اکتوبر کو دوسرے اور فیصلہ کن مرحلے میں دونوں امیدوار آمنے سامنے ہوں گے۔ انتخابی سروے بھی دوسرے مرحلے میں کانٹے کے مقابلے کی پیش گوئی کر رہے ہیں۔
امیدواروں کا موازنہ
دونوں اہم امیدواروں کی سیاسی شناخت، عہدے اور انتخابی مؤقف ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں:
| پہلو | فلاویو بلسونارو | لوئز اناسیو لولا ڈا سلوا |
|---|---|---|
| عمر | 45 سال | 80 سال |
| جماعت | لبرل پارٹی | ورکرز پارٹی |
| موجودہ عہدہ | ریو ڈی جنیرو سے سینیٹر (2019 سے) | برازیل کے موجودہ صدر |
| ابتدائی ووٹ | تقریباً 50 فیصد | 42 فیصد سے زائد |
| اہم نعرہ | برازیل تبدیلی چاہتا ہے | انتہائی دائیں بازو کو شکست |
لولا کا انتہائی دائیں بازو کو شکست دینے کا عزم
80 سالہ لولا ڈا سلوا نے 3 اکتوبر کو اپنی انتخابی مہم کا اختتام برازیل کے اقتصادی مرکز ساؤ پالو میں ایک بڑی ریلی سے کیا۔ وہ اپنی مخصوص پاناما ٹوپی پہنے مہم ٹرک پر سوار رہے اور سرخ جھنڈے اٹھائے حامیوں کے سمندر سے خطاب کیا۔ اس موقع پر ان کے ساتھ ساؤ پالو کے گورنر کے امیدوار فرنانڈو حداد سمیت دیگر رہنما بھی موجود تھے۔

لولا نے اپنے حامیوں سے کہا کہ عوام کو جمہوریت اور خودمختاری کے ایک طرف اور بربریت اور بدعنوانی کے دوسری طرف ہونے کے درمیان انتخاب کرنا ہوگا۔ انہوں نے انتہائی دائیں بازو کو شکست دینے کا عزم ظاہر کیا اور خبردار کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دباؤ کے مقابلے میں برازیل کی خودمختاری داؤ پر لگی ہے۔ وہ چوتھی اور آخری بار صدارت کے امیدوار ہیں۔
بلسونارو کی تبدیلی کی اپیل
45 سالہ فلاویو بلسونارو نے مہم کے آخری روز ساؤ پالو ریاست کے دیہی علاقوں میں موٹر سائیکلوں کی ایک بڑی ریلی کی قیادت کی۔ اپنے والد کے انداز کی پیروی کرتے ہوئے وہ خود موٹر سائیکل پر سوار ہونے کے بجائے مہم ٹرک پر موجود رہے۔ ریلی کے دوران انہوں نے اپنے والد، سابق صدر جیر بلسونارو کی تصویر بھی اٹھا رکھی تھی۔
اپنی مہم میں بلسونارو نے سخت گیر سیکیورٹی پالیسیوں پر زور دیا اور کہا کہ برازیل تبدیلی چاہتا ہے۔ انہوں نے صدر منتخب ہونے کی صورت میں اپنے والد کے لیے عام معافی اور صدارتی معافی کے حصول کا وعدہ کیا ہے، جو اس انتخابی مہم کا ایک مرکزی موضوع بنا ہوا ہے۔
پس منظر: 2022 کے انتخابات اور جیر بلسونارو کی سزا
سابق صدر جیر بلسونارو 2022 کے صدارتی انتخابات میں لولا کے ہاتھوں شکست کے بعد اقتدار کی منتقلی کو الٹنے کی کوشش کے الزام میں 27 سال 3 ماہ قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ ان کے بیٹے فلاویو کو ان کے سیاسی جانشین کے طور پر میدان میں اتارا گیا ہے۔
اس انتخابی مہم میں امریکہ کے ساتھ تعلقات بھی ایک اہم موضوع رہے ہیں۔ امریکی انتظامیہ نے جیر بلسونارو کے خلاف عدالتی کارروائی کے ردعمل میں برازیلی برآمدات پر بھاری محصولات عائد کیے اور متعلقہ جج پر پابندیاں لگائیں، جبکہ فلاویو بلسونارو نے وائٹ ہاؤس سے قربت کو اپنی مہم کا حصہ بنایا ہے۔ لولا نے اسے برازیل کی خودمختاری کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔

دوسرے مرحلے کی توقع
برازیل الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کا استعمال کرتا ہے، جس کی وجہ سے حتمی نتائج پولنگ کے اختتام کے چند گھنٹوں کے اندر سامنے آ جاتے ہیں۔ انتخابی عدالت کے مطابق گنتی تیزی سے جاری ہے اور حتمی اعلان جلد متوقع ہے۔
اگر پہلے مرحلے میں فیصلہ نہ ہو سکا تو 25 اکتوبر کو لولا اور فلاویو بلسونارو کے درمیان دوسرا مرحلہ ہوگا۔ انتخابی سروے کے مطابق دوسرے مرحلے میں دونوں امیدواروں کے درمیان مقابلہ انتہائی سخت ہوگا، اور چھوٹے امیدواروں کے ووٹروں کا رجحان فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔
نتیجہ
برازیل کے صدارتی انتخابات میں مقابلہ انتہائی دلچسپ اور کانٹے کا ہے، جہاں ابتدائی نتائج میں فلاویو بلسونارو کو برتری حاصل ہے مگر لولا ڈا سلوا سے ان کا فرق کم ہو رہا ہے۔ یہ انتخابات ملک کے سیاسی مستقبل کی سمت طے کریں گے، کیونکہ دونوں امیدواروں کے نظریات اور پالیسیاں ایک دوسرے سے بنیادی طور پر مختلف ہیں۔ ووٹن نیوز برازیل انتخابات کی مسلسل کوریج جاری رکھے گا اور تصدیق شدہ نتائج سامنے آنے پر خبر کو اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔
اکثر پوچھے گئے سوالات
صدارتی دوڑ میں کتنے امیدوار شامل تھے؟
صدارتی دوڑ میں مجموعی طور پر 12 امیدوار شامل تھے، تاہم اصل مقابلہ دو اہم امیدواروں — قوم پرست سینیٹر فلاویو بلسونارو اور موجودہ صدر لوئز اناسیو لولا ڈا سلوا — کے درمیان ہے۔ باقی امیدواروں کے ووٹوں کی شرح انتہائی کم رہی ہے۔
پہلے مرحلے کے ابتدائی نتائج کیا بتا رہے ہیں؟
ابتدائی نتائج کے مطابق فلاویو بلسونارو تقریباً 50 فیصد ووٹوں کے ساتھ آگے ہیں، جبکہ لولا ڈا سلوا کو 42 فیصد سے زائد ووٹ ملے ہیں۔ دونوں کے درمیان فرق بتدریج کم ہو رہا ہے۔
کیا پہلے ہی مرحلے میں فیصلہ ہو سکتا ہے؟
برازیل کے انتخابی قانون کے مطابق پہلے مرحلے میں جیت کے لیے 50 فیصد سے زائد درست ووٹ درکار ہوتے ہیں۔ موجودہ رجحان کے مطابق یہ حد عبور ہونے کا امکان کم ہے، اس لیے 25 اکتوبر کو دوسرے مرحلے کا امکان بڑھ گیا ہے۔
جیر بلسونارو کا اس الیکشن میں کیا کردار ہے؟
سابق صدر جیر بلسونارو 2022 کے انتخابات میں شکست کے بعد بغاوت کی کوشش کے الزام میں 27 سال 3 ماہ قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ ان کے بیٹے فلاویو ان کے سیاسی جانشین کے طور پر الیکشن لڑ رہے ہیں اور صدر بننے کی صورت میں اپنے والد کے لیے معافی کے حصول کا وعدہ کر چکے ہیں۔
یہ انتخابات برازیل کے لیے کیوں اہم ہیں؟
یہ انتخابات برازیل کے سیاسی، اقتصادی اور سماجی مستقبل کے لیے انتہائی اہم ہیں، کیونکہ دونوں امیدواروں کے نظریات اور پالیسیاں بنیادی طور پر مختلف ہیں۔ لولا فلاحی پروگراموں اور خودمختار خارجہ پالیسی کے حامی ہیں، جبکہ بلسونارو سخت گیر سیکیورٹی پالیسیوں اور امریکہ سے قریبی تعلقات کے خواہاں ہیں۔