- 0
- 6 words
پشاور: صوبائی وزیر تعلیم خیبر پختونخوا ارشد ایوب خان کے خصوصی اقدامات کے تحت چھوئی کھینتلہ-گرم تھون روڈ منصوبے کا 70 فیصد کام مکمل ہو گیا ہے، جبکہ باقی ماندہ حصے پر تعمیراتی کام تیزی سے جاری ہے۔ یہ منصوبہ 47 کروڑ 70 لاکھ روپے کی لاگت سے ہری پور کے عوام کے دیرینہ مطالبے کو پورا کرنے کے لیے منظور کیا گیا تھا۔ منصوبے کی تکمیل سے علاقے میں سڑکوں کی رابطت بہتر ہوگی اور مقامی آبادی کی سفری مشکلات میں نمایاں کمی آئے گی۔
اہم نکات
- منصوبہ: چھوئی کھینتلہ-گرم تھون روڈ، ہری پور، خیبر پختونخوا
- مکمل کام: 70 فیصد؛ باقی 30 فیصد حصے پر کام تیزی سے جاری ہے
- کل لاگت: 47 کروڑ 70 لاکھ روپے
- سرپرستی: صوبائی وزیر تعلیم خیبر پختونخوا ارشد ایوب خان کے خصوصی اقدامات
- مقاصد: سڑک کی چوڑائی اور مضبوطی، دیہاتوں کا باہمی رابطہ، زرعی پیداوار کی بازاروں تک رسائی
چھوئی کھینتلہ-گرم تھون روڈ منصوبے کی تفصیلات اور مقاصد
سرکاری ذرائع کے مطابق اس منصوبے میں سڑک کو چوڑا اور مضبوط بنانا شامل ہے، جس کے لیے تعمیراتی معیارات کو برقرار رکھا جائے گا تاکہ رہائشیوں کے لیے ایک پائیدار اور محفوظ سفری سہولت یقینی بنائی جا سکے۔ منصوبے کی تکمیل کے بعد یہ سڑک دیہاتوں اور ملحقہ علاقوں کو آپس میں جوڑے گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ تعمیراتی معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور کام مقررہ معیارات کے مطابق مکمل کیا جائے گا۔

مقامی آبادی کے لیے فوائد
یہ منصوبہ مقامی آبادی کے لیے ایک بڑی نعمت ثابت ہوگا۔ سڑک کی بہتر رابطت سے نہ صرف سفر آسان ہوگا بلکہ زرعی پیداوار اور دیگر سامان کو بازاروں تک پہنچانے میں بھی مدد ملے گی۔ اس سے دیہی برادریوں اور قریبی علاقوں کے درمیان نقل و حرکت میں نمایاں بہتری آئے گی۔

سرمایہ کاری اور لاگت
یہ منصوبہ 47 کروڑ 70 لاکھ روپے کی خطیر رقم سے مکمل کیا جا رہا ہے، جو اس کی اہمیت اور بڑے پیمانے کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ سرمایہ کاری علاقے کی طویل مدتی ترقی اور خوشحالی کے لیے ایک اہم قدم ہے۔
علاقائی ترقی میں کردار
چھوئی کھینتلہ-گرم تھون روڈ منصوبے کی منظوری اور اس پر عملدرآمد کو مقامی لوگوں نے سراہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس منصوبے سے علاقے میں بنیادی ڈھانچے اور ٹرانسپورٹ کی سہولیات میں بہتری آئے گی، جو بالآخر علاقائی معیشت اور سماجی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گا۔ مقامی رہائشیوں نے صوبائی وزیر تعلیم ارشد ایوب خان اور خان برادرز کی جانب سے اس منصوبے کی منظوری اور اس پر عملدرآمد کو سراہا ہے اور اسے علاقے کی ترقی کے لیے ایک سنگ میل قرار دیا ہے۔
تعمیراتی پیشرفت اور مستقبل کا لائحہ عمل
منصوبے کے 70 فیصد کام کی تکمیل اس بات کا ثبوت ہے کہ حکام مقررہ وقت میں منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے کوشاں ہیں۔ باقی ماندہ 30 فیصد کام کو بھی جلد مکمل کرنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔
نتیجہ
چھوئی کھینتلہ-گرم تھون روڈ منصوبے کی 70 فیصد تعمیر مکمل ہونا ہری پور کے عوام کے لیے ایک خوشخبری ہے۔ یہ منصوبہ نہ صرف سفری مشکلات کو کم کرے گا بلکہ علاقے کی معاشی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔ صوبائی حکومت کی جانب سے بروقت اقدامات سے عوام کو بہتر سہولیات میسر آئیں گی اور علاقے میں ترقی کے نئے دروازے کھلیں گے۔ منصوبے کی تکمیل سے دیہی علاقوں کو مرکزی شاہراہوں سے بہتر طور پر جوڑا جا سکے گا، جس سے تجارت اور روزگار کے مواقع میں اضافہ ہوگا۔
وطن نیوز کی پاکستان کی مزید خبریں دیکھیں اور یہی خبر مرکزی ویب سائٹ پر بھی پڑھیں۔
اکثر پوچھے گئے سوالات
منصوبے کا کل تخمینہ کیا ہے؟
منصوبے کی کل لاگت 47 کروڑ 70 لاکھ روپے ہے۔
منصوبے کا کتنا کام مکمل ہو چکا ہے؟
منصوبے کا تقریباً 70 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے اور باقی 30 فیصد حصے پر کام تیزی سے جاری ہے۔
اس منصوبے سے کس علاقے کو فائدہ ہوگا؟
یہ منصوبہ بنیادی طور پر ہری پور کے علاقے اور اس کے گرد و نواح کو فائدہ پہنچائے گا۔
منصوبے کے مقاصد کیا ہیں؟
منصوبے کے اہم مقاصد علاقے میں سڑکوں کی رابطت کو بہتر بنانا، سفری مشکلات کو کم کرنا اور زرعی پیداوار کی مارکیٹ تک رسائی کو آسان بنانا ہیں۔