کینیڈا نے ماہر معاشیات ڈیانا فاکس کارنی کو اپنا نیا بحری ایلچی مقرر کر دیا ہے۔ یہ ایک نیا عہدہ ہے جس کے تحت وہ مئی 2027 میں ہیلی فیکس میں ہونے والی بارہویں آور اوشن کانفرنس کی صدارت کریں گی۔ اس تقرری کا اعلان ستمبر 2026 میں کینیڈا کی ماہی گیری کی وزیر جوان تھامپسن نے کیا۔
سرکاری اعلامیے کے مطابق کینیڈا کی بحری ایلچی سمندروں کے تحفظ، موسمیاتی کارروائی، مقامی قیادت، معاشی لچک اور بحری سلامتی کو آپس میں جوڑ کر کینیڈا کی بحری قیادت کو آگے بڑھائیں گی۔

کینیڈا کی بحری ایلچی کون ہیں؟
ڈیانا فاکس کارنی برطانوی کینیڈین ماہر معاشیات ہیں جنہیں موسمیاتی پالیسی میں مہارت کے لیے جانا جاتا ہے۔ انہوں نے کمپنیوں اور سرمایہ کاروں کو زیادہ موسمیاتی لچک والی معیشت کی طرف منتقلی میں مشورے دیے ہیں اور افریقہ، یورپ اور شمالی امریکہ میں تھنک ٹینکوں میں قائدانہ عہدوں پر خدمات انجام دی ہیں۔
انہوں نے آکسفورڈ سے زرعی معاشیات میں اور پنسلوانیا یونیورسٹی سے بین الاقوامی تعلقات میں ماسٹرز کی ڈگریاں حاصل کی ہیں۔ وہ ماحولیات، ترقی اور فنون پر کام کرنے والی کئی غیر منافع بخش تنظیموں کے بورڈز میں بھی رہ چکی ہیں۔
وہ 1965 میں برطانیہ میں پیدا ہوئیں اور آکسفورڈ میں طالب علمی کے دوران اپنے شوہر مارک کارنی سے ملیں جو اب کینیڈا کے وزیر اعظم ہیں۔ ان کی شادی 1994 میں ہوئی اور ان کے چار بالغ بچے ہیں۔ وہ اس وقت اوٹاوا میں رہتی ہیں۔
رضاکارانہ اور بلا معاوضہ عہدہ
حکومت نے تصدیق کی ہے کہ یہ عہدہ رضاکارانہ اور بلا معاوضہ ہے۔ چونکہ بحری ایلچی وزیر اعظم کی اہلیہ ہیں اس لیے کینیڈا کے بعض مبصرین نے اس تقرری پر سوالات اٹھائے ہیں۔ حکومت اسے بحری پالیسی اور کانفرنس کی قیادت پر مرکوز رضاکارانہ عوامی خدمت کا عہدہ قرار دیتی ہے۔
وزیر تھامپسن نے کہا کہ کینیڈا کے سمندر اس کے ساحلی علاقوں کی ثقافت اور شناخت کی تعریف کرتے ہیں اور عوام کی معاشی خوشحالی کو آگے بڑھاتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بارہویں آور اوشن کانفرنس کی میزبانی کے ذریعے کینیڈا کو سمندروں کے تحفظ، پائیدار ماہی گیری، سمندری سائنس اور مقامی قیادت میں اپنی قیادت دکھانے کا موقع ملے گا۔
ہیلی فیکس 2027: بارہویں آور اوشن کانفرنس
کینیڈا 10 تا 11 مئی 2027 کو نووا اسکوشیا کے شہر ہیلی فیکس میں بارہویں آور اوشن کانفرنس کی میزبانی کرے گا جس کے ساتھ نوجوان سربراہی اجلاس بھی منعقد ہو گا۔ کینیڈا کی بحری ایلچی اس کانفرنس کی صدارت کریں گی جس میں حکومتیں، مقامی قائدین، سائنسدان، صنعت، غیر سرکاری تنظیمیں اور برادریاں سمندروں کے لیے عزائم کو ٹھوس عمل میں بدلیں گی۔
آور اوشن کانفرنس 2014 میں شروع ہوئی تھی اور اس کا مقصد سمندروں کے تحفظ کے لیے رضاکارانہ اور قابل پیمائش وعدے کرنا ہے۔ اب تک دنیا بھر میں 3,200 سے زائد وعدے کیے جا چکے ہیں جن کی مالیت تقریباً 243 ارب کینیڈین ڈالر ہے۔
یہ کانفرنس چھ شعبوں میں کام کرتی ہے: سمندری محفوظ علاقے، سمندری آلودگی، موسمیاتی تبدیلی، پائیدار نیلی معیشت، بحری سلامتی اور پائیدار ماہی گیری۔ اسے 2030 تک 30 فیصد سمندر کے تحفظ کی عالمی کوشش میں ایک اہم قدم قرار دیا گیا ہے۔
82 ملین ڈالر کا بحری پیکج
29 ستمبر 2026 کو وزیر اعظم کے دفتر نے نئے بحری ایلچی کے عہدے کے ساتھ سمندروں کے لیے ایک بڑے سرمایہ کاری پیکج کا اعلان کیا:
- 82 ملین ڈالر پانچ سال میں سمندری مشاہدے کی صلاحیت مضبوط کرنے اور گلوبل اوشن آبزروینگ سسٹم کی حمایت کے لیے؛
- ہائی سیز معاہدے یعنی قومی دائرہ اختیار سے باہر سمندری حیاتیاتی تنوع سے متعلق اقوام متحدہ کے معاہدے کی توثیق، جس کے نفاذ کے لیے 24 ملین ڈالر سے زائد مختص کیے گئے؛
- موسمیاتی پیشگوئی، بحری حفاظت اور پائیدار معاشی ترقی کے لیے عالمی سمندری مشاہدہ مضبوط بنانے کے لیے یورپی یونین کے ساتھ مل کر اوشن آئی بین الاقوامی اتحاد کی مشترکہ صدارت؛
- بحر و آب و ہوا سے متعلق قائدین کے سالانہ مشترکہ اعلامیے کی کینیڈا کی توثیق۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ کینیڈا کا آرکٹک عالمی اوسط سے چار گنا سے زائد تیزی سے گرم ہو رہا ہے جس سے سمندری مشاہدے اور فہم کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ کینیڈا 2030 تک اپنی 30 فیصد زمینوں اور سمندروں کے تحفظ کے لیے کام کر رہا ہے۔
اہم نکات
- ڈیانا فاکس کارنی کینیڈا کی نئی بحری ایلچی ہیں جن کی تقرری کا اعلان ستمبر 2026 میں ماہی گیری کی وزیر جوان تھامپسن نے کیا۔
- یہ عہدہ رضاکارانہ اور بلا معاوضہ ہے۔ وہ 10 تا 11 مئی 2027 کو ہیلی فیکس میں بارہویں آور اوشن کانفرنس کی صدارت کریں گی جس کے ساتھ نوجوان سربراہی اجلاس بھی ہو گا۔
- کینیڈا نے سمندری مشاہدے کے لیے 82 ملین ڈالر کا اعلان کیا اور ہائی سیز معاہدے کی توثیق کی جس کے نفاذ کے لیے 24 ملین ڈالر سے زائد مختص ہیں۔
- 2014 سے اب تک آور اوشن کانفرنس میں دنیا بھر میں 3,200 سے زائد وعدے کیے جا چکے ہیں جن کی مالیت تقریباً 243 ارب کینیڈین ڈالر ہے۔
موسمیاتی سفارت کاری اور سمندری کارروائی کے بارے میں مزید جاننے کے لیے وطن نیوز کا موسمیاتی سیکشن دیکھیں۔