اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر وولکر ترک نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے ضابطوں کے حوالے سے دنیا کا وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔ برطانیہ کے شہر آکسفورڈ میں اے آئی اور انسانی حقوق کے موضوع پر منعقدہ ایک سمٹ سے پیر 5 اکتوبر 2026 کو خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کمپنیوں اور ملکوں کے درمیان جاری بے رحم دوڑ انسانیت کی بقا سمیت انسانی حقوق کے لیے سنگین خطرات پیدا کر رہی ہے۔ ان کے بقول، اب مزید انتظار یا محض خیر سگالی پر انحصار نہیں کیا جا سکتا۔
اہم نکات
- وولکر ترک نے کہا کہ اے آئی کے اوزار چند لوگوں کے ہاتھوں میں مرکوز ہیں، بغیر عوامی نگرانی کے، اور وہ کام کر رہے ہیں جن کا خود ان کے بنانے والوں کو بھی پورا اندازہ نہیں۔
- ان کے مطابق اے آئی برابری، آزادی، پرائیویسی اور عوامی بحث کو خاموشی سے نقصان پہنچا سکتی ہے اور پوری آبادیوں کو ایک بٹن دبانے پر مواصلات، صاف پانی، حرارت اور مالی خدمات سے محروم کیا جا سکتا ہے۔
- انہوں نے مطالبہ کیا کہ مشینوں کو کسی کی زندگی اور موت کا فیصلہ کرنے سے فوری طور پر روکا جائے، کیونکہ اے آئی جنگ کی صورت پہلے ہی بدل رہی ہے۔
- اسی دن نیویارک سٹی کونسل نے اے آئی کے خطرات پر غیر معمولی اجلاس منعقد کیا اور اے آئی کی نگرانی کے 10 بلوں پر غور شروع کیا۔
- انہوں نے لازمی انسانی حقوق کے تحفظات، ذمہ داری کے اصولوں اور عالمی اتفاق رائے کا مطالبہ کیا، اور 29 ستمبر کو وائٹ ہاؤس میں ہونے والے رضاکارانہ معاہدے کو ناکافی قرار دیا۔
طاقت چند ہاتھوں میں
وولکر ترک نے اعتراف کیا کہ مصنوعی ذہانت سائنس، صحت، تعلیم اور یہاں تک کہ انسانی حقوق کے کام میں حیران کن ترقی لا سکتی ہے۔ لیکن ساتھ ہی انہوں نے نشاندہی کی کہ یہ طاقتور اوزار گنے چنے افراد اور اداروں کے کنٹرول میں بنائے جا رہے ہیں، جن پر عوامی نگرانی کا کوئی مؤثر نظام موجود نہیں۔ یہی تشویش کی اصل جڑ ہے: وہ نظام جو اربوں انسانوں کی زندگیوں پر اثر انداز ہوں گے، ان کے بارے میں فیصلے چند بورڈ رومز میں ہو رہے ہیں۔
انہوں نے ایک کھلا خط بھی لکھا جس میں کہا گیا کہ کمپنیوں کی رضاکارانہ خود نگرانی موجودہ نقصانات کو روکنے اور مستقبل کے خود مختار نظاموں کو انسانی حفاظتوں سے بچنے سے روکنے کے لیے کہیں ناکافی ہے۔ ان کے الفاظ میں، زیادہ طاقتور اے آئی کی موجودہ دوڑ زندگی کے ہر پہلو کے لیے وجودی خطرات کی طرف ایک بڑا قدم ہے۔
خاموش ڈسٹوپیا کا خطرہ

سب سے پریشان کن انتباہ یہ تھا کہ اے آئی برابری، آزادی، پرائیویسی اور عوامی بحث کو بظاہر چھوٹے چھوٹے طریقوں سے کمزور کر سکتی ہے، یوں کہ ڈسٹوپیا چپکے سے آ جائے اور کسی کو خبر بھی نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ پوری کی پوری آبادیوں کو ایک بٹن دبانے پر مواصلات، صاف پانی، حرارت اور مالی خدمات سے کاٹا جا سکتا ہے۔
انہوں نے تحقیقات کا حوالہ بھی دیا جن کے مطابق وہ طلبہ جو اے آئی پر انحصار کرتے ہیں، کم یاد رکھتے ہیں اور کم آزادانہ سوچتے ہیں۔ ان کا سوال تھا کہ کیا دنیا اس مستقبل کی طرف بڑھ رہی ہے جہاں کوئی بھی اس ٹیکنالوجی کو سمجھ نہ سکے، اس پر سوال نہ اٹھا سکے اور اس کی رہنمائی بھی نہ کر سکے؟
جنگ میں مشین کے فیصلے
حقوق انسانی کے سربراہ نے فوری اقدام کا مطالبہ کیا کہ مشینوں کو یہ اختیار نہ دیا جائے کہ وہ فیصلہ کریں کہ کون جیتا ہے اور کون مرتا ہے۔ ان کے مطابق اے آئی جنگ کی صورت پہلے ہی بدل رہی ہے، اور اگر اس موڑ پر لکیر نہ کھینچی گئی تو نتائج ناقابل تصور ہو سکتے ہیں۔ ان کے الفاظ میں، اگر ہم تیزی سے آگے نہ بڑھے تو ہم اپنے اور آنے والی نسلوں کے لیے ناقابل پیشگوئی نتائج کا خطرہ مول لیں گے۔
مصنوعی ذہانت کے ضابطے: تجویز کردہ اقدامات

ترک نے لازمی انسانی حقوق کے تحفظات اور ذمہ داری کی جانچ پڑتال کا مطالبہ کیا جو ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ تیار ہوں۔ جو ممالک اے آئی کمپنیوں کی میزبانی کرتے ہیں یا ان کی سپلائی چین پر اثر رکھتے ہیں، انہیں کمپنیوں کو ذمہ دارانہ رویے پر مجبور کرنا چاہیے اور خلاف ورزی پر جوابدہ ٹھہرانا چاہیے۔ ان کے بقول، ہر جواب موجودہ قانون میں نہیں ملے گا اور کچھ شعبوں میں نئے قانونی راستے درکار ہوں گے، لیکن ذمہ داری، سائبر سیکیورٹی اور ڈیٹا کے تحفظ کے اصولوں کو اپ ڈیٹ کرنا عبوری تحفظ دے سکتا ہے۔
انہوں نے اقوام متحدہ کے دو نئے اقدامات — اے آئی گورننس پر عالمی مکالمے اور اے آئی پر آزاد بین الاقوامی سائنسی پینل — کا خیر مقدم کیا، ساتھ ہی 29 ممالک اور یورپی یونین کے اس مشترکہ مطالبے کی حمایت کی جس میں فرنٹیئر اے آئی ماڈلز پر سخت کنٹرول مانگا گیا ہے۔
| ضابطے کی قسم | اطلاق | نفاذ اور جوابدہی | تازہ مثال |
|---|---|---|---|
| رضاکارانہ (خود ساختہ ضابطے) | صرف دستخط کرنے والی کمپنیاں | خلاف ورزی پر کوئی سزا نہیں؛ معاہدے کو اخلاقی طور پر پابند قرار دیا گیا | 29 ستمبر کو وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ اور چھ اے آئی کمپنیوں کے سربراہان کا معاہدہ |
| لازمی (حکومتی ضابطے) | تمام کمپنیاں، خاص طور پر وہ ممالک جو فرنٹیئر کمپنیوں کی میزبانی کرتے ہیں | سنگین واقعات کی رپورٹنگ، صلاحیتوں کی تصدیق اور انسانی حقوق کی جانچ پڑتال لازمی | نیویارک سٹی کونسل کے زیر غور 10 بل؛ 29 ممالک اور یورپی یونین کا مشترکہ مطالبہ |
ترک نے کہا کہ بہت کم لوگ بات پر عمل کر رہے ہیں۔ انہوں نے تین ہفتے قبل ممالک اور فرنٹیئر اے آئی کمپنیوں کو خط لکھ کر فوری اقدام کی اپیل کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی ملک اکیلے اس ٹیکنالوجی کو قابو نہیں کر سکتا، کوئی کمپنی خود یہ فیصلہ نہیں کر سکتی کہ دنیا کو کون سے خطرات قبول کرنے ہیں، اور کسی انسان سے یہ نہیں مانگا جا سکتا کہ وہ تکنیکی ترقی کے دعوؤں کے بدلے اپنے انسانی حقوق چھوڑ دے۔
اسی پس منظر میں اینتھروپک کے ایک سابق محقق نے استعفیٰ دے کر خبردار کیا تھا کہ اے آئی بنانے والے خود سچے دل سے مانتے ہیں کہ یہ دہائی کے آخر تک سب کو مار سکتی ہے، جبکہ اینتھروپک کے سربراہ ڈاریو اموڈی نے اپنے مضمون میں تجویز دی تھی کہ ترقی جاری رہے لیکن تیسرے فریق کی جانچ اور حکومتوں کے تعاون سمیت کافی حفاظتی اقدامات کے ساتھ۔ ترک نے اس تجویز کا خیر مقدم تو کیا، مگر زور دیا کہ حکومتوں کو بھی فوری طور پر ضابطے بنانے ہوں گے۔
نتیجہ
وولکر ترک کا پیغام دو ٹوک ہے: مصنوعی ذہانت کے ضابطوں کی گھڑی ٹک رہی ہے اور رضاکارانہ وعدے کافی نہیں۔ یا تو دنیا ابھی لازمی تحفظات، جوابدہی اور عالمی تعاون کا ڈھانچہ کھڑا کرے، یا پھر آنے والی نسلیں ان فیصلوں کے نتائج بھگتیں گی جو ان کی رائے کے بغیر کیے جا رہے ہیں۔ جیسا کہ انہوں نے کہا، ہم مزید انتظار یا خیر سگالی پر انحصار کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ مزید تجزیاتی مضامین کے لیے وٹن نیوز کی اردو خبروں کا صفحہ ملاحظہ کریں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
وولکر ترک کون ہیں؟
وولکر ترک اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر ہیں۔ انہوں نے 5 اکتوبر 2026 کو آکسفورڈ میں اے آئی اور انسانی حقوق کے سمٹ سے خطاب میں یہ انتباہ جاری کیا۔
ان کا بنیادی مطالبہ کیا ہے؟
ان کا مطالبہ ہے کہ اے آئی کے لیے لازمی انسانی حقوق کے تحفظات اور ذمہ داری کی جانچ پڑتال نافذ کی جائے، مشینوں کو زندگی اور موت کے فیصلے سے روکا جائے، اور عالمی سطح پر اتفاق رائے قائم کیا جائے۔
وائٹ ہاؤس کے رضاکارانہ معاہدے میں کیا کمی ہے؟
29 ستمبر کو چھ کمپنیوں کے ساتھ ہونے والے اس معاہدے میں خلاف ورزی پر کوئی سزا نہیں، اس لیے ترک کے بقول یہ موجودہ نقصانات روکنے کے لیے ناکافی ہے۔
کیا کوئی ملک اکیلے اے آئی کو قابو کر سکتا ہے؟
ترک کے مطابق نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکہ اور چین فرنٹیئر اے آئی میں سب سے آگے ہیں اور ان کے درمیان معیارات کی ہم آہنگی ضروری ہے تاکہ نیچے کی طرف دوڑ نہ لگے۔