کینبرا — کوئنز لینڈ یونیورسٹی کی اس ہفتے جاری ہونے والی نئی تحقیق کے مطابق آسٹریلیا بھر کے مقامی سیاست دان موسمیاتی اقدام کے لیے عوام کی خواہش کو سنجیدگی سے کم سمجھتے ہیں — اور محققین نے خبردار کیا ہے کہ یہ غلط فہمی انطالیہ، ترکیہ میں کاپ31 موسمیاتی مذاکرات کے آغاز سے چند ہفتے قبل موسمیاتی پالیسی کو سست کر سکتی ہے۔
یہ تحقیق جرنل آف انوائرنمنٹل سائیکالوجی میں شائع ہوئی ہے۔ اس میں معلوم ہوا کہ کونسلروں کا اندازہ تھا کہ 61 فیصد آسٹریلوی موسمیاتی تبدیلی پر حکومت کے مضبوط اقدام کے خواہاں ہیں، جبکہ دو بڑے نمائندہ عوامی سروے میں اصل شرح 83 فیصد نکلی۔
تحقیق کیسے کی گئی
یونیورسٹی کے شعبہ نفسیات کے محققین نے آسٹریلیا کی تمام ریاستوں اور ناردرن ٹیریٹری کے 211 مقامی حکومتی کونسلروں کا سروے کیا۔ ہر کونسلر سے چار سوالات پر عوامی رائے کا اندازہ لگانے کو کہا گیا: موسمیاتی اقدام کے لیے حکومت کے مضبوط کردار کی حمایت، فوسل ایندھن پر انحصار کم کرنے کی آمادگی، موسمیاتی اقدام کے لیے مالی تعاون کی رضامندی، اور موسمیاتی اثرات پر تشویش کی سطح۔
اس کے بعد محققین نے ان اندازوں کا موازنہ ایک ہزار سے زائد آسٹریلوی شہریوں پر مشتمل دو بڑے عوامی سروے کے جوابات سے کیا۔

اعداد و شمار میں فرق
فرق حیران کن تھا:
- حکومت کا مضبوط اقدام: کونسلروں کا اندازہ 61 فیصد تھا؛ اصل شرح 83 فیصد ہے۔
- مالی تعاون: کونسلروں کا اندازہ تھا کہ 32 فیصد شہری موسمیاتی اقدام کے لیے ادائیگی پر آمادہ ہوں گے؛ اصل شرح 56 فیصد ہے۔
- فوسل ایندھن میں کمی: 66 فیصد آسٹریلوی مستقبل میں فوسل ایندھن پر کم انحصار چاہتے ہیں۔ بائیں بازو کے کونسلروں نے اسے 78 فیصد سمجھا جبکہ دائیں بازو کے کونسلروں کا اندازہ 56 فیصد تھا۔
- اثرات پر تشویش: کونسلروں نے موسمیاتی اثرات پر عوام کی تشویش کا اندازہ بھی غلط لگایا۔

یہ غلط فہمی کیوں اہم ہے
تحقیق کی مرکزی مصنفہ اینابیل ولکنسن نے کہا کہ مقامی پالیسی سازوں نے “آسٹریلوی شہریوں کے موقف کا غلط اندازہ لگایا، بشمول حکومت کے مضبوط اقدام کے مطالبات اور موسمیاتی اثرات پر ان کی تشویش”۔
سینئر مصنف ڈاکٹر کرسٹوف کلیبل نے کہا: “سیاست دان عوام کی خواہشات پر عمل درآمد کے لیے ہوتے ہیں، لیکن اگر وہ ان آراء کو غلط سمجھیں تو وہ نہ صرف خود کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ اپنے حلقوں کی درست نمائندگی بھی نہیں کرتے۔”
اس کا وقت اہم ہے۔ نومبر میں انطالیہ میں کاپ31 موسمیاتی کانفرنس کے آغاز کے پیش نظر محققین کا کہنا ہے کہ ایسی غلط فہمیوں کی اصلاح فوری ہے۔ ولکنسن کے مطابق “آسٹریلیا کو اپنے موسمیاتی اہداف پورے نہ کرنے کا خطرہ ہے، اور اس جیسے اہم معاملات پر ممکنہ غلط فہمیاں اس لیے اہم ہیں کہ عوامی رائے پالیسی کے نفاذ کی ایک کلیدی محرک ہے”۔
مقامی حکومتیں موسمیاتی پالیسی کے بیشتر عملی پہلوؤں — فضلے، زمین کے استعمال، نقل و حمل اور کمیونٹی توانائی — میں صف اول پر ہیں، اس لیے کونسلروں کا عوام کو سمجھنا خاص طور پر اہم ہے۔ بین الاقوامی موسمیاتی پالیسی کی مزید خبروں کے لیے وطن نیوز کا موسمیاتی آگاہی سیکشن دیکھیں۔
اہم نکات
- آسٹریلیا بھر کے 211 مقامی کونسلروں کا سروے
- 83 فیصد آسٹریلوی حکومت کے مضبوط موسمیاتی اقدام کے خواہاں ہیں (کونسلروں کا اندازہ 61 فیصد تھا)
- 56 فیصد موسمیاتی اقدام کے لیے مالی تعاون پر آمادہ ہیں (کونسلروں کا اندازہ 32 فیصد تھا)
- 66 فیصد فوسل ایندھن پر کم انحصار چاہتے ہیں
- تحقیق جرنل آف انوائرنمنٹل سائیکالوجی میں 8 اکتوبر 2026 کو شائع ہوئی
محققین کی سفارشات
مصنفین کا کہنا ہے کہ پالیسی سازوں کو موسمیاتی معاملات پر ووٹروں کی خواہشات کے بارے میں اپنے مفروضوں پر سوال اٹھانا چاہیے — اور شہری انتخابی مہمات کے دوران امیدواروں سے ان کے موسمیاتی موقف پر سوال کر کے اس فرق کو کم کرنے میں مدد کر سکتے ہیں۔
آگاہی کا یہ فرق غیر متوقع سمت میں ہے: موسمیاتی اقدام کے معاملے میں عوام سیاست دانوں سے آگے ہیں۔