اسٹاک ہوم میں 30 ستمبر 2026 کو 2026 کے رائٹ لائیولی ہڈ ایوارڈ کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ جلیلہ حیدر رائٹ لائیولی ہڈ ایوارڈ کی وصول کنندگان میں پاکستان کی انسانی حقوق کی وکیل جلیلہ حیدر بھی شامل ہیں۔ یہ ایوارڈ اکثر «متبادل نوبل انعام» کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
اس سال کا ایوارڈ دو خواتین اور خواتین کی قیادت میں کام کرنے والی دو تنظیموں کو دیا گیا ہے۔ ایوارڈ دینے والی فاؤنڈیشن کے مطابق یہ چاروں نامزد شخصیات اور تنظیمیں دنیا بھر کے پسے ہوئے طبقوں کے حقوق کے لیے نمایاں کام کر رہی ہیں۔ انہیں 72 ممالک سے آئی 200 نامزدگیوں میں سے منتخب کیا گیا۔
اہم نکات
- 30 ستمبر 2026 کو اسٹاک ہوم میں 2026 کے رائٹ لائیولی ہڈ ایوارڈ کا اعلان ہوا
- پاکستان کی وکیل جلیلہ حیدر اپنی ہزارہ برادری سے اس اعزاز کی پہلی خاتون وکیل ہیں
- جنوبی افریقہ کی رورل ویمنز اسمبلی — 11 ممالک کی 178,000 سے زائد خواتین کسانوں کی تحریک — بھی ایوارڈ یافتگان میں شامل
- جارجیا کی ینگ لائرز ایسوسی ایشن اور محقق ٹمنٹ گیبرو کو بھی اعزاز ملا
- انعام کی تقسیم یکم دسمبر 2026 کو اسٹاک ہوم میں ٹیلی ویژن پر نشر کی جائے گی
جلیلہ حیدر رائٹ لائیولی ہڈ: پاکستان کی پہلی ہزارہ خاتون وکیل
جلیلہ حیدر کو یہ ایوارڈ «اپنی ہزارہ برادری کی پہلی خاتون وکیل ہونے کے ناطے رکاوٹیں توڑنے» کے اعتراف میں دیا گیا ہے۔ فاؤنڈیشن کے مطابق وہ کوئٹہ، بلوچستان میں قانونی امداد اور سماجی سرگرمی کے ذریعے کمزور ترین طبقات کو انصاف دلانے کی کوشش کرتی ہیں۔
ان کی قانونی فرم نے اب تک 7,000 سے زائد ایسے مقدمات لیے ہیں جنہیں دوسرے وکیل خطرناک یا غیر منافع بخش سمجھ کر ٹھکرا دیتے تھے۔ فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ ان کی ٹیم نے 600 سے زائد سیاسی کارکنوں اور انسانی حقوق کے محافظوں کو سفری پابندی کی فہرستوں سے نکلوانے میں مدد کی۔
2018 میں انہوں نے اپنی برادری کے خلاف ٹارگٹ کلنگ کے خلاف سات روزہ بھوک ہڑتال کی قیادت کی تھی۔ وہ 10 دسمبر 1984 کو کوئٹہ میں پیدا ہوئیں اور 2010 میں یونیورسٹی لاء کالج کوئٹہ سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی۔ فاؤنڈیشن کے مطابق انہوں نے اپنی جدوجہد کے دوران حراست، سائبر ہراسانی اور جان سے مارنے کی دھمکیوں کا سامنا کیا، اور 2016 میں ایک بم دھماکے میں بھی بچ گئیں۔

چاروں ایوارڈ یافتگان — ایک نظر میں
| نام | ملک / خطہ | کام کا میدان |
|---|---|---|
| جلیلہ حیدر | پاکستان | اقلیتوں، مہاجرین اور کمزور طبقات کو قانونی امداد |
| رورل ویمنز اسمبلی | جنوبی افریقہ کے 11 ممالک | زمین، بیج اور خوراک کے حقوق کے لیے خواتین کسانوں کی تحریک |
| جارجیا ینگ لائرز ایسوسی ایشن | جارجیا | جمہوریت اور شہری حقوق کا تحفظ |
| ٹمنٹ گیبرو | امریکہ (پیدائش ایتھوپیا) | مصنوعی ذہانت میں انصاف اور اخلاقیات کی تحقیق |
رورل ویمنز اسمبلی: بیج اور زمین کی محافظ خواتین
رورل ویمنز اسمبلی 2009 میں جنوبی افریقہ کے صوبہ لمپوپو میں 250 دیہی خواتین کی بنیاد رکھی گئی تحریک ہے، جو آج 11 ممالک میں 178,000 سے زائد چھوٹے پیمانے کے کسانوں کو منظم کر چکی ہے۔ ان ممالک میں انگولا، ایسواتینی، لیسوتھو، مڈغاسکر، ملاوی، ماریشس، نمیبیا، جنوبی افریقہ، تنزانیہ، زیمبیا اور زمبابوے شامل ہیں۔
فاؤنڈیشن کے مطابق یہ تحریک 24 بیج ضرب کے مراکز چلاتی ہے جہاں کسان روایتی اقسام کے بیجوں کو محفوظ اور دوبارہ پیدا کرتے ہیں۔ یہ مقامی بیجوں کی سینکڑوں اقسام کا ریکارڈ بھی رکھتی ہے اور ماحولیاتی جھٹکوں کے خلاف برادریوں کی لچک بڑھانے کے لیے پائیدار غذائی نظام کی تعلیم دیتی ہے۔ اس کی کوششوں سے 2016 میں زیمبیا میں خواتین کو زمین کی مساوی تقسیم کا قانون بنا اور 2018 میں ایسواتینی میں جنسی جرائم اور گھریلو تشدد کے خلاف قانون پر دستخط ہوئے۔

ٹمنٹ گیبرو اور جارجیا کی تنظیم
ٹمنٹ گیبرو ڈسٹریبیوٹڈ اے آئی ریسرچ انسٹیٹیوٹ کی بانی ہیں اور ایتھوپیا میں پیدا ہوئیں۔ فاؤنڈیشن کے مطابق ان کی تحقیق مصنوعی ذہانت پر چند بڑی کمپنیوں کے ارتکازِ طاقت کو چیلنج کرتی ہے اور اس ٹیکنالوجی کے ماحولیاتی اخراجات سمیت پہلے سے موجود نقصانات کو بے نقاب کرتی ہے۔
جارجیا ینگ لائرز ایسوسی ایشن 1994 میں رضاکار وکیلوں کی بنیاد رکھی گئی تنظیم ہے جس نے ملک کے آزادی کے بعد کے پہلے آئین کی تیاری میں مدد دی۔ فاؤنڈیشن کے مطابق یہ جارجیا سے ایوارڈ پانے والی پہلی تنظیم ہے۔
ایوارڈ کی تاریخ اور تقسیم
رائٹ لائیولی ہڈ ایوارڈ 1980 میں سویڈش جرمن سماجی کاروباری جیکب وان یوکسکل نے قائم کیا تھا۔ اب تک 82 ممالک کے 207 افراد اور تنظیموں کو یہ اعزاز مل چکا ہے۔ فاؤنڈیشن کا ہیڈکوارٹر اسٹاک ہوم میں ہے اور اسے اقوام متحدہ کی مشاورتی حیثیت حاصل ہے۔
2026 کے ایوارڈ یافتگان کو یکم دسمبر 2026 کو اسٹاک ہوم میں ہونے والی ٹیلی ویژن تقریب میں اعزاز سے نوازا جائے گا۔ فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ ایوارڈ کے علاوہ وہ ایوارڈ یافتگان کو طویل مدتی معاونت بھی فراہم کرتی ہے۔
ماحولیاتی میدان میں اس سے پہلے ملنے والے اعزازات کے بارے میں موسمیاتی چیمپئن ایوارڈز 2026 کی خبر بھی ملاحظہ کریں۔
اختتام
2026 کا رائٹ لائیولی ہڈ ایوارڈ ان چار خواتین اور خواتین کی قیادت میں کام کرنے والی تنظیموں کو دیا گیا ہے جو مختلف شعبوں میں نمایاں تبدیلی لا رہی ہیں۔ جلیلہ حیدر کا اعزاز پاکستان کے لیے فخر کا باعث ہے، جبکہ رورل ویمنز اسمبلی کا کام زمین اور بیج کے تحفظ کے حوالے سے ماحولیاتی ہیروز کی ایک روشن مثال ہے۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
رائٹ لائیولی ہڈ ایوارڈ کیا ہے؟
یہ 1980 میں قائم ہونے والا ایک بین الاقوامی ایوارڈ ہے جو انسانی حقوق، امن، انصاف اور پائیداری کے لیے کام کرنے والے افراد اور تنظیموں کو دیا جاتا ہے۔ اسے اکثر متبادل نوبل انعام کہا جاتا ہے۔
2026 کا ایوارڈ کن کو ملا؟
پاکستان کی جلیلہ حیدر، جنوبی افریقہ کی رورل ویمنز اسمبلی، جارجیا کی ینگ لائرز ایسوسی ایشن اور محقق ٹمنٹ گیبرو کو یہ ایوارڈ ملا ہے۔
ایوارڈ کا اعلان کہاں ہوا؟
اعلان 30 ستمبر 2026 کو اسٹاک ہوم میں کیا گیا اور انعام کی تقسیم یکم دسمبر 2026 کو ہوگی۔
جلیلہ حیدر کو یہ اعزاز کیوں ملا؟
فاؤنڈیشن کے مطابق وہ اپنی ہزارہ برادری کی پہلی خاتون وکیل ہیں اور قانونی امداد کے ذریعے اقلیتوں، مہاجرین اور کمزور طبقات کو انصاف دلانے کے لیے کام کرتی ہیں۔
رورل ویمنز اسمبلی کا کام کیا ہے؟
یہ 11 ممالک کی 178,000 سے زائد خواتین کسانوں کی تحریک ہے جو زمین، بیج اور روایتی اقسام کے تحفظ کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی لچک کے لیے کام کرتی ہے۔