برسلز — بیلجیم کے دارالحکومت برسلز میں اتوار 11 اکتوبر 2026 کو ایک بڑا برسلز موسمیاتی مارچ منعقد ہوگا، جس میں موسمیاتی سائنسدان، ماحولیاتی تنظیمیں، ٹریڈ یونینیں اور عام شہری بڑی تعداد میں شرکت کریں گے۔ مارچ کا اہتمام کلائمیٹ کولیشن کر رہی ہے، جبکہ برسلز کی آزاد یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے طلبہ اور عملے سے سڑکوں پر اترنے کی اپیل کی ہے۔
اہم نکات
- 11 اکتوبر 2026 بروز اتوار برسلز میں بڑا موسمیاتی مارچ ہوگا؛ اہتمام کلائمیٹ کولیشن کر رہی ہے
- برسلز کی آزاد یونیورسٹی (وی یو بی) کے تین موسمیاتی سائنسدانوں — آموری لاریڈون، لوریلین فوگیے اور جوآخیم پِرے — نے طلبہ اور عملے سے شرکت کی اپیل کی ہے
- سائنسدانوں، ماہرین اور یونیورسٹیوں کا مشترکہ بلاک دوپہر 1:45 پر بلیوارڈ ڈو روا البرٹ دوم، برسلز میں جمع ہوگا
- کلائمیٹ زاک کی “آل رائز” مہم کا مطالبہ ہے کہ نومبر 2023 کے عدالتی فیصلے پر عمل کرتے ہوئے 2030 تک گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں 55 فیصد کمی کی جائے
برسلز موسمیاتی مارچ میں سائنسدانوں کی قیادت
وی یو بی کے موسمیاتی سائنسدانوں آموری لاریڈون، لوریلین فوگیے اور جوآخیم پِرے نے یونیورسٹی کے تمام طلبہ، عملے اور دوستوں سے 11 اکتوبر کے مارچ میں سڑکوں پر اترنے کی اپیل کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کی سائنس بالکل واضح ہے، اور اب جس چیز کی ضرورت ہے وہ عمل ہے۔
سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ یونیورسٹیوں، تحقیقی اداروں اور عوامی خدمات میں کٹوتیاں موسمیاتی بحران کو سمجھنے، اس کا اندازہ لگانے اور اس کا جواب دینے کی صلاحیت کو دباؤ میں ڈال رہی ہیں۔ بیلجیم کے وفاقی اداروں اور یونیورسٹیوں کے محققین کا کہنا ہے کہ مسلسل کفایت شعاری سائنسی تحقیق کے لیے سنگین خطرہ ہے، جس کے معاشرے پر براہ راست اثرات مرتب ہوں گے۔
کلائمیٹ کولیشن تنظیموں، ٹریڈ یونینوں اور شہریوں کو اس مارچ کے لیے متحد کر رہی ہے۔ بیلجیم بھر سے سائنسدان، ماہرین، محققین اور یونیورسٹیوں کے نمائندے ایک مشترکہ بلاک میں جمع ہوں گے۔ منتظمین کا پیغام واضح ہے: موسمیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے مضبوط سائنس، مضبوط عوامی خدمات اور تحقیق کے مطابق عمل کرنے کی سیاسی خواہش درکار ہے۔

عدالتی فیصلے پر عمل کا مطالبہ: “آل رائز” مہم
22 ستمبر کو برسلز پارلیمنٹ کے نئے اجلاس کے افتتاح کے موقع پر موسمیاتی مہم کاروں نے احتجاج کیا تھا۔ کلائمیٹ زاک کے درجنوں حامی عوامی گیلری میں کھڑے ہو کر بیلجیم کے تاریخی موسمیاتی فیصلے پر عملدرآمد کا مطالبہ کرتے رہے۔ یہ اقدام تنظیم کی “آل رائز” مہم کا آغاز تھا، جس کا مقصد موجودہ عدالتی فیصلے کو حکومتی عمل میں بدلنا ہے۔
یہ مہم نومبر 2023 میں برسلز کورٹ آف اپیل کے فیصلے پر مرکوز ہے، جس میں بیلجیم کی وفاقی حکومت، فلینڈرز اور برسلز کیپیٹل ریجن کو 1990 کی سطح کے مقابلے میں 2030 تک گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کم از کم 55 فیصد کمی کے اقدامات کا پابند قرار دیا گیا تھا۔ کلائمیٹ زاک کا موقف ہے کہ حکام نے ابھی تک اس فیصلے پر مناسب عملدرآمد نہیں کیا۔
تنظیم کی ڈائریکٹر سارہ ٹاک نے کہا کہ شہریوں نے اپنی ذمہ داری نبھائی اور عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا، جج نے فیصلہ سنا دیا، اب سیاست کی باری ہے کہ وہ اپنا کردار ادا کرے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ موسمیاتی فیصلہ کوئی غیر پابند سفارش نہیں بلکہ ایک قانونی ذمہ داری ہے، اور عدالتی فیصلوں کا احترام جمہوری اصولوں کی بنیاد ہے۔
اس سے صرف چند روز قبل، 17 ستمبر کو، گرین پیس بیلجیم نے وفاقی پارلیمنٹ کے دوبارہ افتتاح کو نشانہ بنایا تھا، جہاں کارکنوں نے 22 میٹر کا بینر لہرایا جس پر لکھا تھا “ہمارا گھر آگ میں ہے، اسی کے مطابق عمل کرو”۔ دونوں مظاہروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ماحولیاتی تنظیمیں بیلجیم کے پارلیمانی سال کے آغاز کو منتخب نمائندوں پر دباؤ بڑھانے کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔ کلائمیٹ زاک نے اعلان کیا ہے کہ “آل رائز” مہم 11 اکتوبر کے موسمیاتی مارچ میں اپنے مہم بلاک کے ساتھ شریک ہوگی اور برسلز کے ارکان پارلیمنٹ سے مطالبہ کرے گی کہ وہ وزراء سے موسمیاتی فیصلے پر عملدرآمد کی نگرانی کریں۔
کاپ31 سے قبل دباؤ بڑھ رہا ہے
یہ مارچ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب چند ہفتوں بعد کاپ31 انطالیہ، ترکی میں 9 سے 20 نومبر 2026 کو منعقد ہوگی۔ بیلجیم میں عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کی مہم اور سائنسدانوں کی سڑکوں پر آمد اس بات کی علامت ہے کہ موسمیاتی ایکشن کا دباؤ اب عدالتوں، یونیورسٹیوں اور سڑکوں — تینوں محاذوں پر بیک وقت بڑھ رہا ہے۔
موسمیاتی ایکشن کی مزید خبروں کے لیے پڑھیں: کلیئر میں موسمیاتی ایکشن ہفتہ — 12 سے 18 اکتوبر تک آگاہی مہم
نتیجہ
11 اکتوبر کا برسلز موسمیاتی مارچ صرف ایک احتجاج نہیں، بلکہ سائنس، قانون اور عوامی دباؤ کے اتحاد کی علامت ہے۔ ایک طرف سائنسدان تحقیق میں کٹوتیوں کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں، تو دوسری طرف کارکن عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس دباؤ کا بیلجیم کی موسمیاتی پالیسی پر کیا اثر پڑتا ہے۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
برسلز میں موسمیاتی مارچ کب ہوگا؟
اتوار 11 اکتوبر 2026 کو۔ سائنسدانوں کا بلاک دوپہر 1:45 پر بلیوارڈ ڈو روا البرٹ دوم، برسلز میں جمع ہوگا۔
مارچ کا اہتمام کون کر رہا ہے؟
کلائمیٹ کولیشن تنظیموں، ٹریڈ یونینوں اور شہریوں کو متحد کر رہی ہے، جبکہ کلائمیٹ زاک اپنی “آل رائز” مہم کے ساتھ اپنا مہم بلاک منظم کرے گی۔
“آل رائز” مہم کا مطالبہ کیا ہے؟
نومبر 2023 کے برسلز کورٹ آف اپیل کے فیصلے پر عملدرآمد — 1990 کی سطح کے مقابلے میں 2030 تک گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کم از کم 55 فیصد کمی۔
سائنسدان مارچ میں کیوں شریک ہو رہے ہیں؟
وی یو بی کے سائنسدانوں کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کی سائنس واضح ہے اور اب عمل کی ضرورت ہے؛ وہ یونیورسٹیوں اور تحقیق میں کٹوتیوں کو موسمیاتی بحران سے نمٹنے کی صلاحیت کے لیے خطرہ قرار دیتے ہیں۔