وفاقی وزیرِ خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے بنکاک میں عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر نائجل کلارک سے ملاقات کی ہے۔ یہ ملاقات ورلڈ بینک گروپ اور آئی ایم ایف کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر ہوئی، جس میں پاکستان کی معاشی پیش رفت اور اصلاحاتی ترجیحات پر تفصیل سے تبادلۂ خیال کیا گیا۔
وفاقی وزارتِ خزانہ کے اعلامیے کے مطابق وزیرِ خزانہ نے آئی ایم ایف کے ساتھ پاکستان کی شراکت داری کو سراہا اور اصلاحات کے لیے مضبوط سیاسی عزم کے ساتھ ساتھ ان پر مسلسل عمل درآمد کی اہمیت پر زور دیا۔ ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے معاشی استحکام کو مستقل بنیادوں پر قائم رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
اہم نکات
- وفاقی وزیرِ خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب اور آئی ایم ایف کے ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر نائجل کلارک کی ملاقات بنکاک میں ہوئی۔
- یہ ملاقات ورلڈ بینک گروپ اور آئی ایم ایف کے سالانہ اجلاسوں (12 تا 18 اکتوبر) کے موقع پر ہوئی۔
- پاکستان کی معاشی پیش رفت، اصلاحاتی ترجیحات اور آئی ایم ایف کے ساتھ شراکت داری پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
- مسلسل تین برس بنیادی مالیاتی سرپلس کے حصول اور زرمبادلہ ذخائر میں اضافے سے آگاہی دی گئی۔
- ہدفی فیول سبسڈی کے ذریعے کمزور طبقات کے تحفظ کے اقدامات سے بھی آگاہ کیا گیا۔
ملاقات کی تفصیلات
وزارتِ خزانہ کے اعلامیے کے مطابق سینیٹر محمد اورنگزیب نے ملاقات میں پاکستان کی بین الاقوامی کیپٹل مارکیٹس میں واپسی اور سرمایہ کاروں کی بھرپور شرکت کو اجاگر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان معاشی استحکام سے پائیدار اور سرمایہ کاری پر مبنی نمو کی جانب بڑھ رہا ہے۔
وزیرِ خزانہ نے اصلاحاتی عمل کو جاری رکھنے کے عزم کو دہرایا اور کہا کہ حکومت پالیسیوں میں تسلسل، مالیاتی نظم و ضبط اور شفاف معاشی نظم کو یقینی بنا رہی ہے۔ آئی ایم ایف کے ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر نے پاکستان کی معاشی پیش رفت کا نوٹس لیا۔
معاشی اشاریے اور اصلاحاتی ترجیحات
ملاقات میں زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے اور مسلسل تین سال بنیادی مالیاتی سرپلس کے حصول پر بھی گفتگو ہوئی۔ وزیرِ خزانہ کے مطابق حکومت محصولات میں اضافے، اخراجات میں نظم اور معاشی نمو کی پائیدار رفتار کو اپنی اولین ترجیح سمجھتی ہے۔

اس موقع پر پائیدار معاشی نمو، پالیسیوں میں تسلسل، صحت و تعلیم کے اخراجات کے تحفظ اور زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم رکھنے کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا۔ وزیرِ خزانہ نے کہا کہ اصلاحات کا اصل مقصد عام شہری کی زندگی میں بہتری لانا ہے۔
کمزور طبقات کا تحفظ
وزیرِ خزانہ نے آئی ایم ایف کے ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر کو کمزور طبقات کے تحفظ کے لیے ہدفی فیول سبسڈی کے اقدامات سے آگاہ کیا۔ اعلامیے کے مطابق حکومت کا موقف ہے کہ معاشی اصلاحات اور سماجی تحفظ ساتھ ساتھ چلیں گے، تاکہ کسی طبقے کو پیچھے نہ رہنے دیا جائے۔
یاد رہے کہ سینیٹر محمد اورنگزیب ورلڈ بینک گروپ اور آئی ایم ایف کے سالانہ اجلاسوں میں پاکستان کے وفد کی قیادت کر رہے ہیں، جہاں ان کے ساٹھ سے زائد اعلیٰ سطحی مصروفیات طے ہیں، جن میں بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی قیادت، ترقیاتی شراکت داروں، عالمی سرمایہ کاروں اور کریڈٹ ریٹنگ اداروں سے ملاقاتیں شامل ہیں۔ پاکستان کی مزید تازہ ترین قومی خبریں وطن نیوز اردو پر ملاحظہ کریں۔