عالمی رہائشی انڈیکس اکانومسٹ انٹیلیجنس یونٹ (EIU) نے سال 2026ء کے لیے دنیا کے سب سے زیادہ رہنے کے قابل (Most Liveable) شہروں کی سالانہ رپورٹ جاری کر دی ہے، جس میں دنیا کے 173 اہم شہروں کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن نے مسلسل اپنی برتری برقرار رکھتے ہوئے ایک مرتبہ پھر دنیا کے سب سے موزوں اور بہترین شہر کا اعزاز حاصل کر لیا ہے۔ کوپن ہیگن کی کامیابی کی بڑی وجوہات میں مضبوط انفراسٹرکچر، بہترین تعلیمی نظام، اعلیٰ معیار کی صحت کی سہولیات، امن و امان کی صورتحال اور شہریوں کے لیے بہتر طرزِ زندگی شامل ہیں۔
دوسری جانب، پاکستان کا معاشی مرکز کراچی اور بنگلہ دیش کا دارالحکومت ڈھاکہ ایک بار پھر دنیا کے ان شہروں میں شامل قرار دیے گئے ہیں جہاں شہریوں کو روزمرہ زندگی میں متعدد مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
EIU کی یہ رپورٹ دنیا بھر کے شہروں میں رہنے کے معیار، سہولیات اور شہری ماحول کا ایک اہم عالمی پیمانہ سمجھی جاتی ہے۔ رپورٹ اس بات کا جائزہ لیتی ہے کہ مختلف شہر اپنے شہریوں کو محفوظ، صحت مند اور آرام دہ زندگی فراہم کرنے میں کس حد تک کامیاب ہیں۔
درجہ بندی کا معیار کیا ہے؟
اکانومسٹ انٹیلیجنس یونٹ (EIU) کا Liveability Index دنیا بھر کے 173 شہروں کا جامع تجزیہ کرتا ہے۔ ہر شہر کو مختلف شعبوں میں کارکردگی کی بنیاد پر سکور دیا جاتا ہے۔
کسی بھی شہر کی مجموعی درجہ بندی پانچ بنیادی زمروں کی بنیاد پر کی جاتی ہے:
1. استحکام اور امن و امان (Stability)
اس شعبے میں شہر کی سیاسی صورتحال، جرائم کی شرح، سماجی امن اور شہریوں کے تحفظ کا جائزہ لیا جاتا ہے۔
وہ شہر جہاں امن و امان بہتر ہو اور شہری خود کو محفوظ محسوس کریں، انہیں زیادہ سکور حاصل ہوتا ہے۔
2. صحتِ عامہ کی سہولیات (Healthcare)
صحت کا شعبہ کسی بھی شہر کی کامیابی میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ اس معیار میں ہسپتالوں کی سہولیات، طبی خدمات کا معیار اور عام شہریوں کو دستیاب صحت کی سہولتوں کا جائزہ لیا جاتا ہے۔
بہتر صحت کا نظام رکھنے والے شہر عالمی درجہ بندی میں نمایاں پوزیشن حاصل کرتے ہیں۔
3. ثقافت و ماحول (Culture & Environment)
اس زمرے میں شہر کی ثقافتی سرگرمیوں، ماحول، آلودگی کی صورتحال، سبز علاقوں اور تفریحی سہولیات کو دیکھا جاتا ہے۔
ایک صاف ستھرا اور ثقافتی طور پر فعال شہر شہریوں کے معیارِ زندگی کو بہتر بناتا ہے۔
4. تعلیمی نظام (Education)
تعلیم کسی بھی معاشرے کی ترقی کی بنیاد ہے۔ اس شعبے میں اسکولوں، یونیورسٹیوں اور تعلیمی مواقع کا جائزہ لیا جاتا ہے۔
بہترین تعلیمی نظام رکھنے والے شہر مستقبل کی ترقی کے لیے زیادہ مضبوط تصور کیے جاتے ہیں۔
5. بنیادی انفراسٹرکچر (Infrastructure)
انفراسٹرکچر میں ٹرانسپورٹ، سڑکوں، رہائشی سہولیات، عوامی خدمات اور جدید شہری نظام کو شامل کیا جاتا ہے۔
موثر انفراسٹرکچر شہری زندگی کو آسان بناتا ہے اور شہر کی مجموعی کارکردگی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
ٹاپ 10 شہر: یورپ اور آسٹریلیا کا دبدبہ
EIU کی رپورٹ کے مطابق کوپن ہیگن نے ایک مرتبہ پھر دنیا کے بہترین شہر کا اعزاز حاصل کیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ کوپن ہیگن نے انفراسٹرکچر، تعلیم اور استحکام کے شعبوں میں 100 میں سے 100 کامل سکور حاصل کیا۔
ڈنمارک کا دارالحکومت اپنی صاف ستھری فضا، جدید ٹرانسپورٹ نظام، محفوظ ماحول اور مضبوط فلاحی نظام کی وجہ سے دنیا بھر میں ایک مثال سمجھا جاتا ہے۔
ٹاپ 10 شہروں کی فہرست میں یورپ، آسٹریلیا، کینیڈا اور جاپان کے شہروں کا غلبہ رہا۔
درجہ بندی کے مطابق:
- کوپن ہیگن، ڈنمارک – پہلی پوزیشن
- ویانا، آسٹریا – دوسری پوزیشن
- میلبورن، آسٹریلیا – تیسری پوزیشن
- سڈنی، آسٹریلیا – چوتھی پوزیشن
- زیورخ، سوئٹزرلینڈ – پانچویں پوزیشن
- جنیوا، سوئٹزرلینڈ – چھٹی پوزیشن
- اوساکا، جاپان – ساتویں پوزیشن
- ایڈیلیڈ، آسٹریلیا – آٹھویں پوزیشن
- وینکوور، کینیڈا – نویں پوزیشن
- ٹوکیو، جاپان – دسویں پوزیشن
یہ نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ وہ شہر جو طویل مدتی منصوبہ بندی، عوامی سہولیات، ماحول دوست پالیسیوں اور مضبوط حکمرانی پر توجہ دیتے ہیں، عالمی سطح پر بہتر کارکردگی دکھاتے ہیں۔
مجموعی عالمی رجحان
سال 2026ء میں دنیا بھر کے شہروں کا اوسط لایویبلٹی سکور 76.1 رہا۔
رپورٹ کے مطابق عالمی سطح پر مختلف تنازعات نے شہری زندگی کو متاثر کیا۔ مشرقِ وسطیٰ اور یوکرین کے تنازعات کے باعث دنیا بھر میں استحکام (Stability) کے سکور میں معمولی کمی دیکھی گئی۔
تاہم ایشیائی ممالک بالخصوص چین میں صحتِ عامہ کے شعبے میں ہونے والی بہتری نے اس کمی کو کسی حد تک پورا کیا۔
رپورٹ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ عالمی حالات کے باوجود وہ شہر بہتر کارکردگی دکھا رہے ہیں جو صحت، تعلیم، بنیادی سہولیات اور شہری منصوبہ بندی میں مسلسل سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔
بدترین شہر: دمشق اور کراچی فہرست میں نیچے
رپورٹ کا دوسرا پہلو ان شہروں کی صورتحال کو ظاہر کرتا ہے جہاں شہریوں کو زندگی گزارنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے عالمی رہائشی انڈیکس۔
شام کا جنگ زدہ دارالحکومت دمشق دنیا کا سب سے کم رہنے کے قابل شہر قرار دیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ پاکستان کا سب سے بڑا شہر کراچی، لیبیا کا طرابلس، بنگلہ دیش کا ڈھاکہ اور الجزائر کا الجزائر بھی آخری پانچ درجوں میں شامل رہے۔
کراچی کی کم درجہ بندی کی بنیادی وجوہات میں:
- امن و امان کے مسائل
- بڑھتے ہوئے سٹریٹ کرائمز
- شدید ٹریفک مسائل
- پبلک ٹرانسپورٹ کی کمی
- صحت و صفائی کے ناقص انتظامات
- شہری انفراسٹرکچر پر بڑھتا ہوا دباؤ
شامل ہیں۔
کراچی پاکستان کا معاشی حب ہے اور ملکی معیشت میں اس کا کردار انتہائی اہم ہے، تاہم تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی اور بنیادی سہولیات کی کمی نے شہر کو متعدد چیلنجز سے دوچار کر رکھا ہے۔
تجزیہ اور وقت کی ضرورت
وطن نیوز انٹرنیشنل کے تجزیہ کاروں کے مطابق، EIU کی یہ رپورٹ ترقی پذیر ممالک کے پالیسی سازوں کے لیے ایک اہم انتباہ ہے۔
کوپن ہیگن اور ویانا جیسے شہروں کی کامیابی صرف بلند عمارتوں یا جدید تعمیرات کی وجہ سے نہیں بلکہ بہترین حکمرانی، شہری منصوبہ بندی، صاف ماحول، موثر پبلک ٹرانسپورٹ، معیاری تعلیم اور سستی صحت کی سہولیات کی وجہ سے ہے۔
ماہرین کے مطابق کراچی اور ڈھاکہ جیسے بڑے شہروں کو بہتر بنانے کے لیے طویل مدتی منصوبہ بندی، مضبوط گورننس اور بنیادی انفراسٹرکچر میں بہتری ضروری ہے۔
جب تک ان میگا سٹیز میں شہری سہولیات، ٹرانسپورٹ، صفائی، صحت اور انتظامی نظام کو بہتر نہیں بنایا جاتا، یہ شہر عالمی معیار کے مقابلے میں پیچھے رہیں گے۔
EIU کی 2026ء رپورٹ ایک بار پھر یہ ثابت کرتی ہے کہ ایک کامیاب شہر صرف عمارتوں اور سڑکوں سے نہیں بنتا بلکہ مضبوط نظام، بہتر منصوبہ بندی اور شہریوں کے معیارِ زندگی کو ترجیح دینے سے بنتا ہے۔









