- 0
- 2 words
بھوٹان کے شمالی ضلع گاسا میں گلیشیئر کی ایک جھیل پھٹنے سے اچانک سیلاب آ گیا، جس نے دریا کے کنارے واقع مشہور گرم پانی کے چشموں کا پورا کمپلیکس بہا دیا اور پہاڑی شاہراہ کا ایک حصہ بھی تباہ کر دیا۔ سیلابی ریلا نشیبی علاقوں کی طرف بڑھتا ہوا بھارت کی سرحد کے قریب پہنچا تو مغربی بنگال اور آسام میں الرٹ جاری کر دیا گیا اور ہزاروں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا۔ خوش قسمتی سے 30 اکتوبر کی صبح تک کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، کیونکہ متاثرہ علاقے سے لوگوں کو بروقت نکال لیا گیا تھا۔
اہم نکات
- بھوٹان کے ضلع گاسا میں شنتافو گلیشیئر جھیل جمعرات 29 اکتوبر کی شام پھٹ گئی۔
- سیلاب نے دریائے مو چھو کے کنارے واقع گاسا تشو کے گرم چشموں کی تنصیبات بہا دیں۔
- پوناکھا-گاسا شاہراہ کا ایک حصہ بہہ گیا اور سڑک ہر قسم کی آمد و رفت کے لیے بند کر دی گئی۔
- 30 اکتوبر کی صبح تک کوئی ہلاکت یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔
- بھارت میں دریائے سنکوش کے کنارے مغربی بنگال اور آسام میں الرٹ جاری کیا گیا اور ہزاروں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔
- شنتافو جھیل بھوٹان کی ان 17 گلیشیئر جھیلوں میں شامل ہے جنہیں ممکنہ طور پر خطرناک قرار دیا گیا ہے۔
کیا ہوا
ابتدائی اطلاعات کے مطابق شنتافو جھیل سے پانی کا اچانک اخراج جمعرات کی شام ہوا۔ یہ جھیل گاسا ضلع کے علاقے لایا کے قریب واقع ہے اور دریائے مو چھو کے منبع پر موجود ہے۔ پانی کا ریلا تیزی سے نیچے کی طرف بڑھا اور گاسا تشو کے مقام پر پہنچا، جہاں گرم پانی کے چشمے سیاحوں میں خاصے مقبول ہیں۔ سیلاب نے وہاں کی عمارتیں اور سہولتیں بہا دیں۔
سیلابی پانی نے پوناکھا-گاسا شاہراہ کے ایک حصے کو بھی بہا دیا، جس کے بعد سڑک کو تاحکم ثانی بند کر دیا گیا۔ پوناکھا کے قریب سری گانگ تک پانی پہنچنے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں، جو پوناکھا زونگ سے تقریباً 8 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ پوناکھا میں رواں سال نصب کیے گئے شمسی توانائی سے چلنے والے آبپاشی کے نظام کو بھی جزوی نقصان پہنچا۔ حکام کے مطابق پانی کے اخراج کی حتمی وجہ، پانی کی مقدار اور نقصان کا مکمل اندازہ ابھی لگایا جا رہا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ گاسا تشو سیلاب کی زد میں آیا ہو۔ 2021 میں بھی دریائے مو چھو کا رخ بدلنے سے وہاں شدید نقصان ہوا تھا، جس سے اس علاقے کی کمزوری پہلے سے معلوم تھی۔

بھارت میں الرٹ اور انخلا
دریائے مو چھو آگے چل کر سنکوش دریا کا حصہ بنتا ہے، جو بھارت میں داخل ہوتا ہے۔ اسی لیے بھوٹان کی جانب سے انتباہ ملنے کے بعد بھارت کے مرکزی آبی کمیشن نے مغربی بنگال اور آسام کے لیے خصوصی سیلابی مشورہ جاری کیا، جس میں خبردار کیا گیا کہ پانی چھ سے آٹھ گھنٹوں میں سرحد تک پہنچ سکتا ہے اور سنکوش کے کنارے پانی کی سطح اچانک بلند ہو سکتی ہے۔
مغربی بنگال کے ضلع علی پور دوار میں دریائے سنکوش کے کنارے آباد ہزاروں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔ مقامی پولیس کے مطابق تقریباً 4 ہزار سے 5 ہزار افراد کو پناہ گاہوں میں منتقل کیا گیا جبکہ 6 ہزار سے زیادہ افراد کو محفوظ علاقوں میں پہنچایا گیا۔ دارجلنگ، جلپائی گوڑی اور کوچ بہار میں بھی الرٹ جاری کیا گیا۔ آسام کے ضلع دھوبری میں انتظامیہ کو چوکس کر دیا گیا، تاہم جمعہ کی صبح تک وہاں کسی نقصان یا نقل مکانی کی اطلاع نہیں ملی۔
حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ دریاؤں کے کنارے جانے سے گریز کریں، سرکاری ہدایات پر عمل کریں اور افواہوں پر کان نہ دھریں۔
گلیشیئر جھیلیں کیوں خطرناک ہو رہی ہیں
گلیشیئر جھیل پھٹنے کا سیلاب اس وقت آتا ہے جب گلیشیئر کے پگھلنے سے بننے والی جھیل میں جمع پانی قدرتی بند ٹوٹنے پر اچانک باہر نکل آتا ہے۔ ماہرین کے مطابق درجہ حرارت میں اضافہ، شدید بارش، لینڈ سلائیڈنگ اور برفانی تودے گرنے جیسے عوامل ایسے واقعات کا خطرہ بڑھا دیتے ہیں۔
شنتافو جھیل بھوٹان کی ان 17 جھیلوں میں شامل ہے جنہیں ممکنہ طور پر خطرناک قرار دیا گیا ہے۔ اس درجہ بندی کا مطلب یہ ہے کہ ایسی جھیلوں کی مسلسل نگرانی ضروری ہے، نہ کہ ان کا پھٹنا یقینی ہے۔ ہمالیائی خطے میں اس طرح کے واقعات پڑوسی ممالک تک اثر ڈال سکتے ہیں، اس لیے سرحد پار بروقت انتباہ اور رابطہ جانوں کے تحفظ میں فیصلہ کن کردار ادا کرتا ہے۔
بھوٹان اور بھارت کے حکام صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور نقصان کے مکمل جائزے کے بعد بحالی کے اقدامات کیے جائیں گے۔ وطن نیوز کی مزید عالمی خبریں یہاں پڑھیں۔