- 0
- 7 words
غریب اور مستحق خاندانوں کی مدد کے لیے قائم کیے گئے ملک کے سب سے بڑے فلاحی پروگرام میں اربوں روپے کی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ قومی اسمبلی میں پیش کی گئی سرکاری دستاویزات کے مطابق ایک لاکھ چالیس ہزار سے زائد سرکاری ملازمین اور ان کے اہل خانہ وہ رقم وصول کرتے رہے جو دراصل نادار گھرانوں کا حق تھی۔ یہ انکشاف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حکومت غریبوں تک امداد کی شفاف ترسیل کے دعوے کر رہی ہے، اور اب اس معاملے نے سرکاری نگرانی کے پورے نظام پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
اہم نکات
- بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں مجموعی طور پر 24 ارب روپے کی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔
- ایک لاکھ 40 ہزار 488 سرکاری ملازمین اور ان کے اہل خانہ نے مستحقین کی رقم وصول کی۔
- مالی سال 2019-20 میں سرکاری ملازمین اور پنشنرز نے 23 ارب 13 کروڑ روپے حاصل کیے۔
- اربوں روپے کی بے ضابطگیوں کے مقابلے میں اب تک صرف 71 کروڑ روپے کی واپسی ہو سکی ہے۔
- مزید چھان بین کے لیے چھ لاکھ سے زائد سرکاری ملازمین اور پنشنرز کے ریکارڈ کی جانچ کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

بی آئی ایس پی بے ضابطگیاں: قومی اسمبلی میں پیش کردہ دستاویزات میں کیا سامنے آیا
وزارت تخفیف غربت کی جانب سے قومی اسمبلی میں پیش کی گئی دستاویزات کے مطابق مالی سال 2019-20 کے دوران سرکاری ملازمین اور پنشنرز نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے 23 ارب 13 کروڑ روپے وصول کیے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ 2019 میں ان بے ضابطگیوں کی نشاندہی ہو جانے کے باوجود چھ برس تک ادائیگیوں کا سلسلہ جاری رہا، اور نشاندہی کے بعد بھی مزید 90 کروڑ روپے کی ادائیگیاں کر دی گئیں۔
دستاویزات میں سال بہ سال اعداد بھی درج ہیں۔ مالی سال 2020-21 میں بارہ ہزار سے زائد سرکاری ملازمین نے 14 کروڑ 67 لاکھ روپے وصول کیے۔ اس کے بعد مالی سال 2021-22 میں دو ہزار چار سو سینتالیس، مالی سال 2022-23 میں دو ہزار دو سو پینتیس، مالی سال 2023-24 میں دو سو ستائیس اور مالی سال 2024-25 میں بارہ ہزار اٹھہتر سرکاری ملازمین کے پروگرام سے رقم لینے کا انکشاف ہوا۔ دستاویزات کے مطابق اس معاملے میں سرکاری ملازمین کے ساتھ ان کے شریک حیات بھی ملوث رہے، اور رقم لینے والوں میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے اپنے دو سو چھتیس ملازمین بھی شامل ہیں۔
ریکوری اور کارروائی: واپس آنے والی رقم نہ ہونے کے برابر
کارروائی کے دوران آٹھ ڈیوائس ہولڈرز کو گرفتار کر کے بایو میٹرک آلات، اہم ریکارڈ اور تیرہ لاکھ چھیاسی ہزار روپے سے زائد کی رقم برآمد کی گئی۔ ملوث سرکاری ملازمین سے وفاقی تحقیقاتی ادارے نے چون کروڑ روپے وصول کیے، جب کہ دیگر سرکاری محکموں نے چودہ کروڑ پچاس لاکھ روپے کی واپسی کی۔ پروگرام نے اپنے ملازمین سے دو کروڑ پندرہ لاکھ روپے وصول کیے۔ یوں مجموعی طور پر تقریباً ستر کروڑ پینسٹھ لاکھ روپے، یعنی لگ بھگ اکہتر کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی، جو چوبیس ارب روپے کی مبینہ بے ضابطگیوں کے مقابلے میں نہایت کم ہے۔
پروگرام کی انتظامیہ نے بے ضابطگیوں میں ملوث سرکاری ملازمین کا ریکارڈ متعلقہ اداروں کو بھیج دیا ہے، جب کہ مزید چھان بین کے لیے چھ لاکھ سے زائد سرکاری ملازمین اور پنشنرز کے ریکارڈ کی جانچ پڑتال کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ قومی اسمبلی میں پیش کردہ دستاویزات کے مطابق معاملے میں ریکوری اور تحقیقات کا عمل جاری ہے، تاہم واپس آنے والی رقم اور بے ضابطگیوں کے حجم کے درمیان بڑے فرق نے سرکاری نگرانی اور احتساب کے نظام پر سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک مستحقین کی فہرستوں کی سخت جانچ اور رقم کی واپسی کا مؤثر نظام نہیں بنے گا، غریبوں کا حق اسی طرح ضائع ہوتا رہے گا۔
مزید قومی خبریں وطن نیوز اردو پر ملاحظہ کریں۔