پاکستان کے معروف فیشن ڈیزائنر دیپک پروانی نے لاہور منتقل ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں لاہور کی جدید سڑکوں، سرسبز ماحول اور شہری ترقی کی تعریف کی اور کہا کہ وہ اب لاہور میں رہ کر کام کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے اس اعلان کے بعد پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے انہیں خوش آمدید کہا اور لاہور آنے کی دعوت دی۔
دیپک پروانی کا یہ اعلان فیشن کی دنیا میں ایک اہم خبر ہے، کیونکہ وہ تین دہائیوں سے پاکستانی فیشن کی پہچان ہیں۔ ان کا کراچی سے لاہور منتقل ہونے کا فیصلہ نہ صرف ان کے ذاتی کام کو متاثر کرے گا، بلکہ لاہور کے فیشن منظرنامے میں بھی نئی جان ڈال سکتا ہے۔ فیشن حلقوں میں اس خبر پر گرمجوشی سے تبصرے ہو رہے ہیں۔
اہم نکات
- دیپک پروانی نے سوشل میڈیا پر لاہور منتقل ہونے کا اعلان کیا۔
- انہوں نے لاہور کے سی بی ڈی، ایم ایم عالم روڈ، مین بلیوارڈ اور ہوائی اڈے کے داخلی راستے کی تعریف کی۔
- انہوں نے شہر کے خوبصورت زیرگزر راستوں اور سرسبز ماحول کو بھی سراہا۔
- وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے سوشل میڈیا پر جواب دے کر انہیں خوش آمدید کہا۔
- پروانی نے یکم نومبر کو لاہور میں لام فیشن ویک میں اپنی مردانہ ملبوسات کی کلیکشن لیگیسی پیش کی تھی۔
- وہ سنہ ۱۹۹۴ سے فیشن کی دنیا میں سرگرم ہیں اور تین دہائیوں کا تجربہ رکھتے ہیں۔
لاہور کی تعریف میں کیا کہا
دیپک پروانی نے اپنے پیغام میں لکھا کہ لاہور کی خوبصورتی اور جدید شہری سہولتوں نے انہیں بہت متاثر کیا ہے۔ انہوں نے خاص طور پر شہر کے مرکزی کاروباری علاقے، ایم ایم عالم روڈ، مین بلیوارڈ اور ہوائی اڈے کے داخلی راستے کا ذکر کیا۔ ان کے مطابق لاہور کے زیرگزر راستے، سرسبز درخت اور صاف ستھرے ماحول نے شہر کو ایک نئی پہچان دی ہے۔
انہوں نے اپنے پیغام کے آخر میں لکھا کہ چلو لاہور چلتے ہیں، جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اب لاہور کو اپنا نیا گھر بنانا چاہتے ہیں۔ ان کے اس جملے نے سوشل میڈیا پر بہت توجہ حاصل کی اور مداحوں نے اس پر خوشی کا اظہار کیا۔

کراچی کے بارے میں مایوسی کا اظہار
اپنے پیغام میں دیپک پروانی نے کراچی کی صورتحال پر مایوسی کا بھی اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کی سڑکوں اور بنیادی سہولتوں کی حالت ان کے لیے پریشانی کا باعث بنی ہوئی ہے۔ ان کے مطابق شہر کی موجودہ حالت نے انہیں یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ وہ اپنا کام کسی بہتر ماحول میں جاری رکھیں۔
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ دیپک پروانی کا کراچی سے گہرا تعلق ہے۔ انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز کراچی سے کیا تھا اور رواں برس ستمبر میں انہوں نے کراچی میں اپنا نیا اسٹوڈیو بھی کھولا تھا۔ اس لیے ان کا یہ اعلان کراچی کے فیشن حلقوں کے لیے بھی ایک اہم خبر ہے۔
وزیر اعلیٰ کا خیرمقدم
دیپک پروانی کے اعلان کے بعد پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے سوشل میڈیا کی ویب سائٹ ایکس پر ان کے پیغام کا جواب دیا اور انہیں خوش آمدید کہا۔ انہوں نے مختصر مگر گرمجوش الفاظ میں لکھا کہ لاہور میں ان کا خیرمقدم ہے۔ وزیر اعلیٰ کے اس جواب کو فیشن حلقوں نے بہت سراہا۔
اس خیرمقدم کے بعد سوشل میڈیا پر بہت سے لوگوں نے لکھا کہ لاہور میں فیشن ڈیزائنرز کے لیے بہتر مواقع موجود ہیں اور پروانی جیسے سینئر ڈیزائنر کی آمد سے شہر کی فیشن صنعت کو فائدہ ہوگا۔ کچھ لوگوں نے یہ بھی کہا کہ کراچی اور لاہور دونوں ہی پاکستان کے فیشن کے اہم مرکز ہیں اور ایک ڈیزائنر کا شہر بدلنا کوئی غیر معمولی بات نہیں۔

پروانی کا فیشن سفر
دیپک پروانی نے سنہ ۱۹۹۴ میں صرف بیس برس کی عمر میں مردانہ ملبوسات سے اپنے فیشن کیریئر کا آغاز کیا تھا۔ دو برس بعد انہوں نے خواتین کے ملبوسات بھی پیش کرنا شروع کیے اور کراچی کی زمزمہ سڑک پر اپنا پہلا فلیگ شپ اسٹور کھولا۔ آج ان کا شمار پاکستان کے سب سے معروف فیشن ڈیزائنرز میں ہوتا ہے۔
رواں برس ان کے فیشن سفر کی تین دہائیاں مکمل ہوئیں اور انہوں نے کراچی میں اپنا نیا اسٹوڈیو کھولا۔ یکم نومبر کو لاہور میں ہونے والے لام فیشن ویک کے دوسرے سیزن میں انہوں نے اپنی مردانہ ملبوسات کی کلیکشن لیگیسی پیش کی، جس میں شاہی انداز اور روایتی نقش و نگار کو جدید تراش خراش کے ساتھ پیش کیا گیا تھا۔
لاہور کے فیشن کے لیے اس فیصلے کے معنی
لاہور پہلے سے ہی پاکستان کے فیشن کا ایک اہم مرکز ہے۔ یہاں فیشن ویک اور دلہن کے ملبوسات کے بڑے شو منعقد ہوتے ہیں اور کئی معروف ڈیزائنرز یہاں کام کر رہے ہیں۔ دیپک پروانی جیسے تجربہ کار ڈیزائنر کی آمد سے لاہور کے فیشن منظرنامے کو مزید مضبوطی مل سکتی ہے۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ دیپک پروانی کا لاہور میں پہلے سے ایک اسٹوڈیو ایم ایم عالم روڈ پر موجود ہے، اس لیے ان کی منتقلی ان کے لیے کوئی نیا شہر نہیں ہوگی۔ فیشن حلقوں کا ماننا ہے کہ آنے والے دنوں میں وہ لاہور سے اپنے نئے منصوبوں کا اعلان بھی کر سکتے ہیں، جن کا مداحوں کو بے صبری سے انتظار رہے گا۔
مزید اردو خبریں اور ثقافتی معلومات کے لیے وطن نیوز اردو ملاحظہ کریں۔