انگلینڈ میں کینسر کی جلد تشخیص کے لیے ایک تاریخی تجربہ شروع ہو گیا ہے۔ 4 نومبر 2026 کو اعلان کیا گیا کہ فیملی ڈاکٹر اب سادہ خون کے ٹیسٹ کے ذریعے کئی عام کینسروں کی ابتدائی علامتیں ڈھونڈ سکیں گے۔ یہ دنیا کا پہلا ایسا تجربہ ہے جو عام ڈاکٹروں کے کلینک میں اس طریقے کو پرکھے گا، اور اس میں 20 ہزار سے زیادہ مریض شریک ہوں گے۔
اہم نکات
- انگلینڈ میں کینسر خون ٹیسٹ کا دنیا کا پہلا بڑا تجربہ 4 نومبر 2026 کو شروع ہوا۔
- انگلینڈ بھر میں کم از کم 200 فیملی ڈاکٹروں کے کلینک اس تجربے میں شریک ہیں۔
- 20 ہزار سے زیادہ مریض اس تجربے میں حصہ لیں گے۔
- خون کے ٹیسٹ ایک ہی نمونے سے کئی کینسروں کی علامتیں ڈھونڈ کر یہ بھی بتائیں گے کہ علامت جسم کے کس حصے سے آ رہی ہے۔
- اس تجربے کے لیے حکومت نے 8.49 ملین پاؤنڈ تک کی مالی مدد فراہم کی ہے۔
کینسر خون ٹیسٹ کیسے کام کرے گا
یہ تجربہ برمنگھم یونیورسٹی کی قیادت میں چلایا جا رہا ہے اور اس کا نام اسٹرائیڈ تحقیق ہے۔ اس میں 45 سال یا اس سے زیادہ عمر کے وہ مریض شریک ہو سکیں گے جو پیٹ کی علامتوں، جیسے مسلسل پھولنے یا تکلیف کے ساتھ اپنے فیملی ڈاکٹر کے پاس آئیں گے۔ زیادہ تر ٹیسٹوں میں معمول کے خون کے ٹیسٹ کے ساتھ خون کی ایک یا دو نلیاں لی جائیں گی۔
یہ ٹیسٹ مصنوعی ذہانت، خون میں پروٹین کی پیمائش اور رسولی سے خارج ہونے والے ڈی این اے کی شناخت جیسی جدید ٹیکنالوجی استعمال کریں گے۔ شروع میں تین مختلف ٹیسٹوں کا جائزہ لیا جائے گا، اور بعد میں مزید ٹیسٹ بھی شامل کیے جا سکتے ہیں۔ ماہرین نے واضح کیا ہے کہ مثبت نتیجہ بذات خود کینسر کی تشخیص نہیں ہوگا، بلکہ وہ ڈاکٹر کو یہ فیصلہ کرنے میں مدد دے گا کہ مریض کو فوری مزید جانچ کے لیے بھیجنا چاہیے یا نہیں۔

لیبارٹری میں خون کے نمونوں کی جانچ سے کینسر کی ابتدائی علامتیں سامنے آ سکتی ہیں۔
کن کینسروں کا احاطہ کیا جائے گا
یہ تجربہ پیٹ اور اس سے منسلک اعضا کے 13 اقسام کے کینسر کا احاطہ کرے گا۔ ان میں آنت، معدہ، لبلبہ، جگر، مثانہ، گردہ، بیضہ دانی، پروسٹیٹ اور خوراک کی نالی کے کینسر شامل ہیں۔ ان میں سے کئی کینسر اکثر دیر سے تشخیص ہوتے ہیں، کیونکہ ان کی ابتدائی علامتیں عام تکلیفوں جیسی ہوتی ہیں۔ اسی لیے جلد تشخیص مریض کے علاج کے امکانات کو نمایاں طور پر بہتر بنا سکتی ہے۔
برطانیہ میں کینسر سے اموات کی شرح ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں زیادہ بتائی جاتی ہے، اور ماہرین کا کہنا ہے کہ دیر سے تشخیص اس کی ایک بڑی وجہ ہے۔ اگر یہ ٹیسٹ کامیاب ثابت ہوئے تو فیملی ڈاکٹر مریضوں کو بہت پہلے فوری جانچ کے لیے بھیج سکیں گے۔
کینسر خون ٹیسٹ کہاں اور کس کے لیے
یہ تجربہ شہری، دیہی، ساحلی اور پسماندہ علاقوں کے کلینکوں میں چلایا جائے گا، تاکہ مختلف آبادیوں میں اس کی کارکردگی پرکھی جا سکے۔ یہ تجربہ عام مریضوں کے لیے معمول کی سہولت کے طور پر شروع نہیں کیا جا رہا، بلکہ اس میں صرف وہ مریض شریک ہوں گے جو شریک کلینکوں میں اہلیت پر پورا اترتے ہوں۔ حتمی فیصلہ اس بات پر ہوگا کہ ٹیسٹ ڈاکٹر کے فیصلے کے ساتھ مل کر کتنے مؤثر ثابت ہوتے ہیں، اور اس کے بعد ہی قومی سطح پر ان کے استعمال پر غور کیا جائے گا۔
نتیجہ
کینسر خون ٹیسٹ کا یہ تجربہ طب کی دنیا میں ایک اہم قدم ہے۔ اگر خون کے ایک سادہ نمونے سے کئی کینسروں کی ابتدائی علامتیں پکڑی جا سکیں تو ہزاروں مریضوں کو بروقت علاج مل سکے گا۔ اب سب کی نظریں اس تجربے کے نتائج پر ہیں، جو آنے والے برسوں میں کینسر کی تشخیص کا طریقہ بدل سکتے ہیں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
کیا یہ ٹیسٹ اب ہر مریض کے لیے دستیاب ہے؟
نہیں، یہ ابھی ایک تجربہ ہے جو صرف شریک کلینکوں کے اہل مریضوں کے لیے ہے۔
مثبت نتیجے کا کیا مطلب ہوگا؟
مثبت نتیجہ کینسر کی حتمی تشخیص نہیں ہوگا، بلکہ وہ ڈاکٹر کو فوری مزید جانچ کا فیصلہ کرنے میں مدد دے گا۔
کون اس تجربے میں شریک ہو سکتا ہے؟
45 سال یا اس سے زیادہ عمر کے وہ مریض جو پیٹ کی علامتوں کے ساتھ شریک کلینکوں میں آئیں گے، انہیں شرکت کی پیشکش کی جائے گی۔