گوادر میں سیکیورٹی فورسز نے کلیئرنس آپریشن مکمل کر لیا ہے، جس کے بعد شہر اور اس کے گرد و نواح میں امن و امان بحال ہو گیا ہے۔ گوادر کلیئرنس آپریشن کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں 10 دہشت گرد ہلاک ہوئے، جن میں ایک خاتون بھی شامل تھی۔ کارروائی کے دوران ایک شہری شہید ہوا اور چند گاڑیوں کو نقصان پہنچا، جب کہ سیکیورٹی فورسز کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
اہم نکات
- گوادر شہر اور گبد بارڈر کراسنگ کے قریب دہشت گردی کی کوشش ناکام بنا دی گئی۔
- کلیئرنس آپریشن کے دوران 10 دہشت گرد ہلاک ہوئے، جن میں ایک خاتون بھی شامل تھی۔
- دہشت گردوں کے حملے میں ایک شہری شہید ہوا اور چند گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔
- آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
- آپریشن مکمل ہونے کے بعد گوادر میں امن و امان اور ریاستی عملداری بحال کر دی گئی۔
- آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق انسداد دہشت گردی کی مہم عزم استحکام کے تحت پوری رفتار سے جاری رہے گی۔
گوادر کلیئرنس آپریشن کی تفصیل
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق دہشت گردوں نے گبد بارڈر کراسنگ کے قریب اور گوادر شہر میں کارروائیاں کرنے کی کوشش کی۔ سیکیورٹی فورسز نے فوری جواب دیا اور شہر و گرد و نواح میں کلیئرنس آپریشن شروع کیا، تاکہ رہائشیوں کو محفوظ رکھا جا سکے اور متاثرہ علاقوں کو کلیئر کیا جا سکے۔ فائرنگ کے تبادلے میں 10 دہشت گرد مارے گئے۔
بیان کے مطابق اس کارروائی کا مقصد بلوچستان میں امن و امان کو خراب کرنا اور صوبے کی ترقی و خوشحالی کی راہ میں رکاوٹ ڈالنا تھا۔ سیکیورٹی فورسز نے آپریشن کے دوران علاقے کو محفوظ بنایا اور کارروائی مکمل ہونے پر امن و امان اور ریاستی عملداری کی بحالی کا اعلان کیا۔

خاتون کے استعمال پر بیان
آئی ایس پی آر کے بیان میں کہا گیا کہ حملے میں ایک خاتون کو زبردستی استعمال کرنا بلوچ خواتین کی حرمت کے منافی ہے۔ بیان کے مطابق دہشت گرد بلوچ خواتین کو پروپیگنڈے اور عوامی جذبات بھڑکانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں، جب کہ بلوچ عوام اپنے نام پر ہونے والے تشدد کو مسترد کرتے ہیں۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہیں، اور دہشت گرد جہاں بھی ہوں گے انہیں بھرپور ضرب لگائی جائے گی۔
انسداد دہشت گردی کی مہم جاری رہے گی
آئی ایس پی آر کے مطابق عزم استحکام کے تحت انسداد دہشت گردی کی مہم پوری رفتار سے جاری رہے گی۔ سیکیورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ ملک سے بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رہیں گی، تاکہ بلوچستان سمیت ملک بھر میں امن قائم رہے اور ترقیاتی کام بلا رکاوٹ آگے بڑھ سکیں۔
پاکستان کی مزید خبریں وطن نیوز اردو پر پڑھیں۔