ہانگ کانگ کی ہائی کورٹ نے جمہوریت نواز تحریک کے معروف رہنما جوشوا وونگ کو قومی سلامتی کے قانون کے تحت مزید 10 سال قید کی سزا سنا دی ہے۔ عدالت نے کہا کہ وونگ کا جرم سنگین نوعیت کا تھا۔ اس فیصلے کے بعد وونگ کی رہائی جو جنوری 2027 میں متوقع تھی، اب 2036 کے آخر تک مؤخر ہو گئی ہے۔
تیس سالہ جوشوا وونگ نے رواں سال ستمبر میں غیر ملکی طاقتوں سے ملی بھگت کے الزام میں جرم کا اعتراف کر لیا تھا۔ جج ولیم ٹیم نے کہا کہ وونگ نے دوسروں کے ساتھ مل کر چین اور ہانگ کانگ کے خلاف غیر ملکی پابندیاں لگوانے کی سازش کی۔ عدالت نے سزا کی ابتدائی حد 13 سال مقرر کی تھی، تاہم اعترافِ جرم کی وجہ سے اسے کم کر کے 10 سال کر دیا گیا۔
اہم نکات
- ہانگ کانگ ہائی کورٹ نے 5 نومبر 2026 کو جوشوا وونگ کو غیر ملکی طاقتوں سے ملی بھگت کے الزام میں 10 سال قید کی سزا سنائی۔
- وونگ نے 2 ستمبر 2026 کو جرم کا اعتراف کیا تھا۔ جج نے سزا کی ابتدائی حد 13 سال مقرر کی، پھر اعترافِ جرم پر کم کر کے 10 سال کر دی۔
- وونگ پہلے سے 4 سال 8 ماہ کی سزا کاٹ رہے تھے اور جنوری 2027 میں رہا ہونا تھے۔ اب ان کی رہائی 2036 کے آخر تک مؤخر ہو گئی ہے۔
- وونگ نومبر 2020 سے حراست میں ہیں اور تقریباً چھ سال قید میں گزار چکے ہیں۔
- عدالت نے وونگ اور خود ساختہ جلاوطنی میں مقیم نیتھن لا کو اس سازش کے سرغنہ قرار دیا۔
فیصلہ کیسے سنایا گیا
جج ولیم ٹیم نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ وونگ کا کردار محدود نہیں تھا اور ان کا جرم سنگین نوعیت کا ہے۔ عدالت کے مطابق وونگ نے 2020 میں دوسروں کے ساتھ مل کر غیر ملکی ممالک، اداروں اور افراد سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ چین اور ہانگ کانگ کے خلاف پابندیاں یا ناکہ بندی عائد کریں یا دیگر دشمنانہ سرگرمیوں میں حصہ لیں۔
وونگ نے ستمبر میں جرم کا اعتراف کر لیا تھا، جس کے بعد سزا میں کمی کی گئی۔ عدالت نے یہ بھی حکم دیا کہ نئی سزا کا دو ماہ کا حصہ پچھلی سزا کے ساتھ ساتھ چلے گا۔ فیصلے کے وقت عدالت کے باہر درجنوں افراد جمع تھے، جن میں سے کچھ نے وونگ کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے دو راتیں خیمہ زن گزار دی تھیں۔
وونگ نے عدالت میں پیش کیے گئے اپنے خط میں لکھا تھا کہ ان کی سرگرمی کبھی نفرت سے نہیں چلائی گئی۔ عدالت سے نکلتے وقت انہوں نے اپنے حامیوں کی طرف ہاتھ ہلایا اور ان کا شکریہ ادا کیا، جبکہ حامیوں نے نعرے لگا کر کہا کہ وہ ان کی رہائی کا انتظار کریں گے۔
وونگ کون ہیں اور یہ مقدمہ کیوں اہم ہے
جوشوا وونگ نوعمری میں ہی ہانگ کانگ کی جمہوریت نواز تحریک کے نمایاں چہرے بن گئے تھے۔ 2014 کی چھتری تحریک کے دوران انہیں بین الاقوامی شہرت ملی۔ وہ 23 سال کی عمر میں پہلی بار قید ہوئے اور نومبر 2020 سے مسلسل حراست میں ہیں۔
وونگ اس وقت ہانگ کانگ 47 مقدمے میں بغاوت کی سازش کے الزام میں 4 سال 8 ماہ کی سزا کاٹ رہے تھے۔ ان کی رہائی جنوری 2027 میں متوقع تھی، لیکن جون 2025 میں ان پر قومی سلامتی کے اسی قانون کے تحت نیا مقدمہ درج کر لیا گیا تھا۔ اب نئی سزا کے بعد وہ 40 سال کی عمر تک قید میں رہ سکتے ہیں۔
یہ قانون بیجنگ نے 2020 میں ہانگ کانگ میں بڑے پیمانے پر جمہوریت نواز مظاہروں کے بعد نافذ کیا تھا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس قانون نے شہر میں اختلافِ رائے کو خاموش کر دیا ہے، جبکہ حکام کا کہنا ہے کہ قانون نے استحکام بحال کیا ہے۔ ہانگ کانگ کے چیف ایگزیکٹو جان لی نے فیصلے کے بعد کہا کہ وونگ اور لا نے انتہائی سنگین جرائم کا ارتکاب کیا۔
انسانی حقوق کی تنظیموں نے فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ سزا ہانگ کانگ میں جمہوریت نواز آوازوں کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کی عکاسی کرتی ہے۔

ہانگ کانگ کی اسکائی لائن کی علامتی تصویر۔
مزید عالمی خبریں وطن نیوز اردو پر پڑھیں۔