اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں وضاحت پیش کی ہے کہ تہران میں ہونے والا اجلاس کسی دفاعی معاہدے سے متعلق نہیں تھا اور وہاں پاکستان کے دفاع سے متعلق کوئی بات بھی زیر بحث نہیں آئی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہی وجہ ہے کہ تہران اجلاس میں ان کی موجودگی ضروری نہیں تھی، کیونکہ اجلاس کی نوعیت وزارت دفاع کے دائرہ کار سے باہر تھی۔
اہم نکات
- وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ تہران میں کوئی دفاعی معاہدہ زیر بحث نہیں تھا۔
- ان کے مطابق تہران اجلاس وزارت دفاع کے دائرہ کار میں نہیں تھا، اس لیے ان کی وہاں موجودگی ضروری نہیں تھی۔
- فیلڈ مارشل سید عاصم منیر صلح کے پیامبر کے طور پر تہران گئے اور علاقائی کشیدگی کم کرنے میں کردار ادا کیا۔
- وزیر دفاع نے کہا کہ وہ حالیہ دو دفاعی معاہدوں میں بطور وزیر دفاع شریک تھے، مگر تہران کی سرگرمیاں ان معاہدوں سے الگ تھیں۔
- اجلاس میں پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور ایران نے علاقائی امن و سلامتی پر بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
قومی اسمبلی میں وزیر دفاع کا موقف
قومی اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ فیلڈ مارشل تہران میں صلح کے پیامبر بن کر گئے تھے اور انہوں نے ایک جنگ رکوانے میں کردار ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یمن کا تنازع مزید بگڑ سکتا تھا، اس لیے خطے میں امن کی کوششوں کو آگے بڑھانا ضروری تھا۔
خواجہ آصف نے کہا کہ یہ بات اب واضح ہو چکی ہے کہ خطے میں امن کے لیے پاکستان کے اقدامات کے ثمرات مل رہے ہیں اور فیلڈ مارشل اور وزیراعظم کی قیادت میں پاکستان نے عالمی امن کے لیے کام کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آنے والے دنوں میں مشرق وسطیٰ میں مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔
وزیر دفاع نے یہ بھی کہا کہ وہ حالیہ دو دفاعی معاہدوں میں بطور وزیر دفاع شریک تھے، جن میں مکہ معاہدہ اور قطر سے معاہدہ شامل ہیں، تاہم تہران میں ہونے والی سرگرمیوں کا ان معاہدوں سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
تہران اجلاس کا پس منظر
تہران اجلاس میں پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے ساتھ سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان اور ترکیہ کے انٹیلی جنس سربراہ ابراہیم کالن شریک ہوئے، جبکہ ایران کی جانب سے وزیر خارجہ عباس عراقچی اور قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے شرکت کی۔

اجلاس کے شرکا نے علاقائی امن و سلامتی پر بات چیت جاری رکھنے اور چاروں ملکوں کے درمیان تعاون مضبوط بنانے پر اتفاق کیا تھا۔ وزیر دفاع کے مطابق فیلڈ مارشل کی سفارتی کوششوں نے اس بات چیت کی بنیاد رکھی اور خطے میں کشیدگی کم کرنے میں مدد دی۔
ایوان میں بحث اور مکالمے کی تجویز
اس سے قبل جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے ایوان میں خطاب کرتے ہوئے سوال اٹھایا تھا کہ جب ایران میں دفاع سے متعلق امور زیر بحث تھے تو وزیر دفاع اور وزیر خارجہ پاکستان میں کیوں موجود تھے۔ انہوں نے وزیر داخلہ کی اجلاس میں موجودگی پر بھی سوال کیا تھا۔
جواب میں وزیر دفاع نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن کو اپنے ماضی پر بھی نظر ڈالنی چاہیے اور بتانا چاہیے کہ کشمیر کمیٹی کے چیئرمین کے طور پر دس سال کے دوران انہوں نے کیا خدمات انجام دیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے دفاع پر سب کو متحد ہونا چاہیے۔
مولانا فضل الرحمٰن نے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مکالمے اور ملک کے سیاسی مسائل کے حل کے لیے جمہوریت کا نیا میثاق تیار کرنے کی تجویز بھی دی۔
مزید قومی خبریں پڑھنے کے لیے وطن نیوز اردو ملاحظہ کریں۔