وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی مجبوری میں لگانی پڑی، کیونکہ آئے روز دھمکیاں اور لانگ مارچ کیے جا رہے تھے اور دھرنوں سے پورے ملک کا نظام مفلوج ہو رہا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ خاموش تماشائی بن کر تباہی نہیں دیکھی جا سکتی تھی، ورنہ یہ مجرمانہ غفلت ہوتی اور آنے والی نسلیں معاف نہ کرتیں۔
اہم نکات
- وزیر اعظم شہباز شریف گوجرانوالہ میں راشد بشیر ورک کی رہائش گاہ پہنچے اور مرحوم محمود بشیر ورک کے انتقال پر اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا۔
- ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی مجبوری میں لگانی پڑی؛ دھمکیوں اور لانگ مارچ کے ماحول میں خاموش تماشائی بننا مجرمانہ غفلت ہوتا۔
- سابق وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی سے ایک سے زیادہ ملاقاتیں ہوئیں؛ وفاق نے صوبے کو درکار تمام وسائل فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
- مذاکراتی کمیٹی نے دن رات کوششیں کیں اور طے پایا تھا کہ تحریک انصاف لانگ مارچ کی کال واپس لے گی، مگر ایسا نہ ہوا۔
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کی وجوہات
گوجرانوالہ میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ آئے روز دھمکیاں اور لانگ مارچ کیے جا رہے تھے اور دھرنوں سے پورے ملک کا نظام مفلوج ہوتا ہے۔ ان کے بقول ایسی صورت حال میں حکومت خاموش تماشائی بن کر تباہی نہیں دیکھ سکتی تھی، کیونکہ ایسا کرنا مجرمانہ غفلت ہوتا اور آنے والی نسلیں اسے معاف نہ کرتیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ سابق وزیر اعلیٰ سے کہا گیا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف مل کر چلیں، مگر جواب میں لانگ مارچ کی دھمکیاں مل رہی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بار خون ریزی کا منصوبہ بنایا گیا تھا اور تحریک انصاف کی ماضی کی تاریخ بھیانک ہے۔

مذاکراتی کمیٹی کی کوششیں اور وسائل کی پیشکش
شہباز شریف نے بتایا کہ مذاکراتی کمیٹی نے دن رات بیٹھ کر کوششیں کیں اور بات چیت کے دوران یہ طے پایا تھا کہ تحریک انصاف لانگ مارچ کی کال واپس لے گی، مگر ایسا نہیں ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کے سابق وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی سے ایک سے زیادہ ملاقاتیں ہوئیں جن میں صوبے کی ترقی اور دیگر معاملات پر بات چیت کی گئی۔
وزیر اعظم نے واضح کیا کہ سابق وزیر اعلیٰ کو بتایا گیا تھا کہ صوبے کی ترقی کے لیے جتنے وسائل درکار ہوں گے، وفاقی حکومت فراہم کرے گی، اور خیبر پختونخوا کی ترقی و خوش حالی کے لیے حکومت حاضر ہے۔
دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کوشش پر زور
وزیر اعظم نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام نے دہشت گردی کے خلاف بہت قربانیاں دی ہیں، اور 2018 کے بعد سے افغانستان سے دہشت گردی کا سلسلہ شروع ہوا جو اب تک جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ خلیجی جنگ کے اثرات پورے خطے پر ہیں، جبکہ ملک میں معاشی استحکام آ چکا ہے اور حکومت عوام کی بہتری اور امن و امان کے قیام کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی نامزدگی کے معاملے پر کبھی ایک لمحے کے لیے بھی کوئی دوسرا نام زیر غور نہیں آیا۔
اسی تناظر میں یہ بھی دیکھیں: وزیر اعظم کی اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت — خیبر پختونخوا میں تیسرے مرحلے کا آغاز
وطن نیوز کی اردو خبروں کے لیے دیکھیں: وطن نیوز اردو