متحدہ عرب امارات کی سینئر سفارت کار لانا نسیبہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے عہدے کی دوڑ میں شامل ہو گئی ہیں۔ ان کی نامزدگی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سلامتی کونسل میں نئے سیکریٹری جنرل کے انتخاب پر اتفاق رائے نہیں بن سکا ہے اور موجودہ سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کی دوسری مدت رواں سال کے آخر میں ختم ہو رہی ہے۔ لانا نسیبہ کی کامیابی کی صورت میں اقوام متحدہ کو اپنی تاریخ میں پہلی خاتون سیکریٹری جنرل ملے گی۔
لانا نسیبہ متحدہ عرب امارات کی وزیر مملکت اور اقوام متحدہ و یورپی یونین میں ملک کی ایلچی رہ چکی ہیں۔ انہوں نے اپنی امیدواری کے اعلان کے ساتھ حکومتی ذمہ داریوں سے رخصت لے لی ہے تاکہ وہ انتخابی مہم پر پوری توجہ دے سکیں۔ ان کی نامزدگی کا باضابطہ اعلان بدھ 21 اکتوبر کو کیا گیا۔
اہم نکات
- متحدہ عرب امارات نے لانا نسیبہ کو اقوام متحدہ کے اگلے سیکریٹری جنرل کے لیے نامزد کر دیا ہے۔
- لانا نسیبہ ایک دہائی سے زیادہ عرصہ اقوام متحدہ میں اماراتی سفیر رہ چکی ہیں۔
- موجودہ سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کی دوسری مدت 31 دسمبر 2026 کو ختم ہو رہی ہے۔
- سلامتی کونسل میں اب تک کسی امیدوار پر اتفاق رائے نہیں بن سکا ہے، اسی لیے نئی امیدوار میدان میں آئی ہیں۔
- منتخب ہونے کی صورت میں لانا نسیبہ اقوام متحدہ کی پہلی خاتون سیکریٹری جنرل ہوں گی۔
- مصر کے بطرس بطرس غالی کے بعد وہ عرب دنیا سے اس عہدے پر پہنچنے والی دوسری شخصیت ہوں گی۔
لانا نسیبہ کی نامزدگی کیوں اہم ہے؟
لانا نسیبہ اقوام متحدہ کے نظام سے گہری واقفیت رکھتی ہیں۔ وہ ایک دہائی سے زیادہ عرصہ نیویارک میں اقوام متحدہ میں اپنے ملک کی مستقل مندوب رہیں اور سلامتی کونسل سمیت عالمی ادارے کے اہم فورموں میں سفارت کاری کی ہے۔ ان کی نامزدگی کو اس لیے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ سے تعلق رکھتی ہیں اور خطے کے تنازعات کو قریب سے دیکھ چکی ہیں۔
اپنی امیدواری کے اعلان میں انہوں نے کہا کہ وہ اس لیے سیکریٹری جنرل بننا چاہتی ہیں کہ اب زیادہ تیزی سے عمل کا وقت ہے، تنازعات کو بڑھنے سے پہلے روکا جائے، اختلافات کے باوجود ممالک کو ایک میز پر لایا جائے اور کام کو ٹھوس نتائج تک پہنچایا جائے۔ ان کے وژن میں امن و سلامتی کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے، جس میں مقامی جنگ بندی، قیدیوں کے تبادلے اور انسانی راہداریوں جیسے عملی اقدامات پر زور دیا گیا ہے۔
انتخاب کا طریقہ کار اور تعطل
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کا انتخاب سلامتی کونسل کی سفارش پر جنرل اسمبلی کرتی ہے۔ سلامتی کونسل کے 15 ارکان میں سے کم از کم 9 کی حمایت ضروری ہوتی ہے، جبکہ پانچ مستقل ارکان میں سے کسی ایک کی مخالفت بھی نامزدگی کو روک سکتی ہے۔ اسی لیے امیدواروں کے بارے میں غیر رسمی رائے شماریاں کی جاتی ہیں تاکہ اتفاق رائے کا اندازہ لگایا جا سکے۔
16 اکتوبر کو ہونے والی تازہ ترین غیر رسمی رائے شماری میں بھی کوئی امیدوار اتفاق رائے حاصل نہ کر سکا، جس کے بعد انتخابی عمل تعطل کا شکار رہا۔ اطلاعات کے مطابق اگلی غیر رسمی ووٹنگ آئندہ ہفتے تک ملتوی کر دی گئی ہے تاکہ مستقل ارکان کو نئی امیدواری پر غور اور کسی ایک نام پر اتفاق کا موقع مل سکے۔ لانا نسیبہ اس دوڑ کی آٹھویں امیدوار ہیں۔

دوسرے امیدوار اور آگے کا راستہ
اس دوڑ میں کوسٹاریکا کی ریبیکا گرینسپین، گیانا کی کیرولین روڈریگس برکٹ اور ارجنٹائن کے رافیل گروسی سمیت کئی نمایاں امیدوار شامل ہیں۔ ان میں سے بعض ابتدائی رائے شماریوں میں آگے رہے، لیکن سلامتی کونسل میں اتفاق رائے نہ بننے کے باعث کوئی بھی حتمی امیدوار کے طور پر سامنے نہیں آ سکا۔
آئندہ ہفتوں میں سلامتی کونسل کے ارکان امیدواروں سے ملاقاتیں اور مشاورت جاری رکھیں گے۔ اگر کسی ایک نام پر اتفاق ہو گیا تو سلامتی کونسل اس کی سفارش جنرل اسمبلی کو بھیجے گی، جو نئے سیکریٹری جنرل کی تقرری کی حتمی منظوری دے گی۔ نئے سیکریٹری جنرل جنوری 2027 سے ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔ وطن نیوز اردو پر مزید عالمی خبریں پڑھیں۔