ابوظہبی کی قابل تجدید توانائی کی کمپنی مصدر نے نیوزی لینڈ میں شمسی توانائی، ہوا سے بجلی اور بیٹری ذخیرہ کرنے کے منصوبوں میں ایک ارب نیوزی لینڈ ڈالر تک کی سرمایہ کاری کے امکانات تلاش کرنے کے لیے انویسٹ نیوزی لینڈ کے ساتھ ایک معاہدہ کیا ہے۔ یہ خبر 28 سے 30 اکتوبر 2026 کے دوران شائع ہونے والی رپورٹوں میں سامنے آئی ہے۔

اس مفاہمتی یادداشت کے تحت ملک میں قابل تجدید توانائی کے مواقع کی نشاندہی، ترقی اور آگے بڑھانے کے لیے ایک خاکہ طے کیا گیا ہے۔ رپورٹوں کے مطابق اس میں نیوزی لینڈ کی کمپنیوں اور ماوری ملکیتی کاروباروں کے ساتھ مشترکہ سرمایہ کاری کا دروازہ بھی کھولا گیا ہے۔
معاہدے میں کیا شامل ہے
معاہدے کے تحت مصدر اور انویسٹ نیوزی لینڈ، جو حکومت کا غیر ملکی سرمایہ کاری کا ادارہ ہے، ایک نگران کمیٹی اور ایک مخصوص منصوبہ ٹیم قائم کریں گے جو کام کے پروگرام اور مواقع کی فہرست پر اتفاق کرے گی۔
انویسٹ نیوزی لینڈ کے سربراہ رابرٹ وال نے کہا کہ فوری ترجیح قابل تجدید توانائی کے مواقع کی نشاندہی کرنا اور منتخب منصوبوں کو تجارتی جائزے کی جانب بڑھانا ہوگی۔
مصدر کے سربراہ محمد جمیل الرماحی نے کہا کہ نیوزی لینڈ اپنے قابل تجدید توانائی کے وسائل کو توانائی کی سلامتی مضبوط کرنے کے لیے استعمال کر سکتا ہے اور اس صلاحیت کو بروئے کار لانے کے لیے طویل مدتی شراکت داری بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔
رپورٹوں میں یہ بات بھی واضح کی گئی ہے کہ معاہدے میں کیا شامل نہیں ہے: اس میں کسی مخصوص منصوبے، مقام یا پیداواری صلاحیت کا نام نہیں دیا گیا، یہ نہیں بتایا گیا کہ ایک ارب ڈالر شمسی توانائی، ہوا سے بجلی اور ذخیرہ کرنے کے درمیان کیسے تقسیم ہوگا، اور نہ ہی کوئی ترقیاتی وقت مقرر کیا گیا ہے یا یہ تصدیق کی گئی ہے کہ آیا یہ معاہدہ قانونی طور پر پابند ہے۔
نیوزی لینڈ کیوں، اور اب کیوں
یہ معاہدہ نیوزی لینڈ اور متحدہ عرب امارات کے درمیان جامع اقتصادی شراکت داری کے معاہدے پر مبنی ہے جو اگست 2025 میں نافذ ہوا تھا اور اس کے ساتھ ایک دو طرفہ سرمایہ کاری کا معاہدہ بھی طے پایا تھا۔
نیوزی لینڈ میں شمسی توانائی کا شعبہ تیزی سے پھیل رہا ہے۔ کاروبار، جدت اور روزگار کی وزارت کے اعداد و شمار، جن کا حوالہ رپورٹوں میں دیا گیا ہے، کے مطابق 2026 کی دوسری سہ ماہی میں شمسی بجلی کی پیداوار سال بہ سال 56 فیصد بڑھ کر 242 گیگاواٹ گھنٹے کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی۔ بارہ ماہ کے عرصے میں پہلی بار شمسی بجلی کی پیداوار کوئلے سے بجلی کی پیداوار سے آگے نکل گئی اور اس سہ ماہی کے دوران ملک کی بجلی کی پیداوار میں قابل تجدید ذرائع کا حصہ 92 فیصد رہا۔
نیوزی لینڈ کے تجارت اور سرمایہ کاری کے وزیر ٹوڈ میک کلے نے اس معاہدے کو حکومت کے اس ہدف سے جوڑا ہے جس کے تحت 2040 تک قابل تجدید توانائی کی پیداوار دوگنی کی جائے گی۔
حالیہ پیش رفت اس رفتار کی عکاسی کرتی ہے: جولائی 2026 میں وایکاٹو میں 202 میگاواٹ کی ٹوہی شمسی منصوبہ شروع ہوا جو اس وقت ملک کا سب سے بڑا شمسی منصوبہ تھا، اور اکتوبر کے آغاز میں وزیر اعظم کرسٹوفر لکسن نے کرائسٹ چرچ ہوائی اڈے پر 168 میگاواٹ کے کووہائی پارک شمسی پلانٹ کا افتتاح کیا۔
اہم نکات
- شراکت دار: مصدر اور انویسٹ نیوزی لینڈ۔
- زیر غور رقم: ایک ارب نیوزی لینڈ ڈالر تک۔
- ٹیکنالوجیز: شمسی توانائی، ہوا سے بجلی اور بیٹری ذخیرہ کرنا۔
- مشترکہ سرمایہ کاری: نیوزی لینڈ کی کمپنیوں اور ماوری ملکیتی کاروباروں کے لیے کھلی ہے۔
- ابھی ظاہر نہیں کیا گیا: مخصوص منصوبے، مقامات، صلاحیتیں یا وقت۔
- پس منظر: 2026 کی دوسری سہ ماہی میں نیوزی لینڈ کی بجلی کا 92 فیصد قابل تجدید ذرائع سے حاصل ہوا۔
توانائی کی عالمی منتقلی پر نظر رکھنے والے قارئین کے لیے یہ معاہدہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ قابل تجدید توانائی کی جانب تبدیلی میں ملکی پالیسی کے ساتھ ساتھ سرحد پار شراکت داری بھی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ وطن نیوز پر ماحولیاتی خبریں یہاں پڑھیں: کاپ31 اور صفر فضلہ میتھین ایجنڈا۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
کیا ایک ارب نیوزی لینڈ ڈالر مخصوص منصوبوں کے لیے پہلے سے مختص کر دیا گیا ہے؟
نہیں۔ رپورٹوں میں اسے اتنی رقم تک کی سرمایہ کاری کے امکانات تلاش کرنے کا معاہدہ قرار دیا گیا ہے۔ ابھی کسی مخصوص منصوبے، مقام یا صلاحیت کا نام نہیں دیا گیا ہے۔
کن ٹیکنالوجیز کا احاطہ کیا گیا ہے؟
شمسی توانائی، ہوا سے بجلی اور بیٹری ذخیرہ کرنا۔
مصدر کے ساتھ اور کون سرمایہ کاری کر سکتا ہے؟
رپورٹوں کے مطابق نیوزی لینڈ کی کمپنیاں اور ماوری ملکیتی کاروبار مشترکہ سرمایہ کاری میں حصہ لے سکتے ہیں۔
نیوزی لینڈ کی بجلی پہلے سے کتنی قابل تجدید ہے؟
2026 کی دوسری سہ ماہی میں بجلی کی پیداوار کا 92 فیصد قابل تجدید ذرائع سے حاصل ہوا تھا، جیسا کہ کاروبار، جدت اور روزگار کی وزارت کے اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے۔
اب آگے کیا ہوگا؟
ایک نگران کمیٹی اور منصوبہ ٹیم مواقع کی نشاندہی کرے گی اور منتخب منصوبوں کو تجارتی جائزے کی جانب بڑھائے گی۔ ابھی کوئی وقت شائع نہیں کیا گیا ہے۔