اسلام آباد: چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کے نجی دورۂ انگلینڈ کے باعث سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس منیب اختر نے قائم مقام چیف جسٹس آف پاکستان کے عہدے کا حلف اٹھا لیا۔ حلف برداری کی تقریب سپریم کورٹ میں منعقد ہوئی، جس میں ججز اور عدالتی عملے نے شرکت کی۔
اہم نکات
- جسٹس منیب اختر نے قائم مقام چیف جسٹس آف پاکستان کے عہدے کا حلف اٹھا لیا
- جسٹس جمال مندوخیل نے حلف لیا؛ تقریب سپریم کورٹ میں ہوئی
- چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نجی دورے پر انگلینڈ روانہ؛ 21 اکتوبر کو واپسی متوقع
- صدرِ مملکت نے برطانیہ، جنوبی کوریا اور جاپان کے دوروں کے لیے این او سی اور بیرونِ پاکستان رخصت کی منظوری دی
- چیف جسٹس 14 سے 21 اکتوبر اور 27 اکتوبر سے 4 نومبر تک غیر ملکی دوروں پر ہوں گے
منیب اختر قائم مقام چیف جسٹس: حلف برداری کی تقریب
حلف برداری کی تقریب سپریم کورٹ میں سادگی مگر وقار کے ساتھ منعقد ہوئی۔ جسٹس جمال مندوخیل نے جسٹس منیب اختر سے قائم مقام چیف جسٹس کے عہدے کا حلف لیا۔ تقریب میں سپریم کورٹ کے ججز اور عدالتی عملہ موجود تھا۔
جسٹس منیب اختر سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج ہیں۔ چیف جسٹس کی غیر موجودگی کے دوران قائم مقام چیف جسٹس کے منصب کی روایت کے مطابق انہیں یہ عارضی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ اس عرصے میں عدلیہ کی انتظامی اور عدالتی امور کی نگرانی انہی کے سپرد ہوگی۔

چیف جسٹس کے غیر ملکی دورے اور واپسی کا شیڈول
جنگ کی رپورٹ کے مطابق چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نجی دورے پر انگلینڈ روانہ ہوئے ہیں اور ان کی واپسی 21 اکتوبر کو متوقع ہے۔ آزاد ذرائع سے حاصل اطلاعات کے مطابق بھی اسی شیڈول کی تصدیق ہوئی ہے۔
دوسری جانب صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے وزیرِ اعظم کے مشورے پر چیف جسٹس کے برطانیہ، جنوبی کوریا اور جاپان کے دوروں کے لیے این او سی اور بیرونِ پاکستان رخصت کی منظوری دی تھی۔ شیڈول کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان 14 سے 21 اکتوبر اور 27 اکتوبر سے 4 نومبر 2026ء تک ان ممالک کے دورے کریں گے۔
عدلیہ کی تسلسل اور اہمیت
قائم مقام چیف جسٹس کی تقرری عدلیہ کے تسلسل کو یقینی بنانے کا ایک آئینی طریقہ کار ہے، تاکہ چیف جسٹس کی بیرونِ ملک موجودگی کے دوران سپریم کورٹ کے انتظامی اور عدالتی امور میں کوئی خلل نہ آئے۔
مزید قومی اور عدالتی خبریں وطن نیوز اردو پر ملاحظہ کریں۔