- 0
- 7 words
سرکاری تقاریر میں معیشت کی بحالی کے قصے سنائیے جا رہے ہیں، شرح نمو بڑھنے کے دعوے کیے جا رہے ہیں اور عالمی ادارے استحکام کی خوشخبری سنا رہے ہیں۔ مگر بازار میں کھڑا عام پاکستانی پوچھتا ہے کہ یہ بحالی میرے گھر کے باورچی خانے تک کب پہنچے گی۔ اعداد و شمار کی یہ کہانی دلچسپ ہے، کیونکہ یہیں سے بحث شروع ہوتی ہے کہ اصل پیمانہ کیا ہے: شرح نمو کا ہندسہ، یا غریب کی جیب میں بڑھتی ہوئی قوت خرید؟
اہم نکات
- پاکستان میں اوسط ماہانہ اجرت چار سال میں 24,028 روپے سے بڑھ کر 39,042 روپے ہوئی، یعنی برائے نام 62 فیصد اضافہ
- اسی عرصے میں خوراک، بجلی، گیس اور ایندھن کی قیمتوں نے تنخواہ میں ہونے والے اضافے کا بڑا حصہ نگل لیا
- اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق 63 فیصد پاکستانی صحت بخش خوراک خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے
- عالمی بینک کے مطابق غربت کی شرح 25.3 فیصد تک پہنچ گئی اور تقریباً 13 ملین افراد غربت کی لکیر سے نیچے چلے گئے
- ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف شرح نمو کا بڑھنا خوشحالی کی ضمانت نہیں، اصل امتحان عام آدمی کی حقیقی آمدنی ہے
اعداد و شمار کی زبان میں معاشی بحالی
پاکستان اکنامک سروے 2025-26 کے مطابق ملکی معیشت کی شرح نمو 3.70 فیصد رہی اور فی کس آمدنی 2025 کے 1,751 ڈالر سے بڑھ کر 2026 میں 1,901 ڈالر بتائی گئی ہے۔ عالمی بینک بھی پاکستانی معیشت میں استحکام، مہنگائی میں کمی اور مالیاتی صورتحال میں بہتری کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ اعداد و شمار بظاہر خوش آئند ہیں، اور حکومت کی جانب سے انہیں معاشی بحالی کی دلیل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی تازہ رپورٹ بھی ایک طرف ہے، جس نے مالی سال 2026-27 کے لیے شرح نمو کی پیشگوئی 4.1 فیصد سے کم کر کے 3.5 فیصد کر دی ہے، جبکہ مہنگائی کا تخمینہ 7 فیصد سے بڑھا کر 8.4 فیصد کر دیا گیا ہے۔ یہ خود اس بات کا اعتراف ہے کہ معیشت کا راستہ ابھی بھی دشوار گزار ہے۔
عام آدمی کی جیب کا سچ
اس کے برعکس زمینی حقیقت کچھ اور بیان کرتی ہے۔ پاکستان بیورو آف شماریات کے مطابق 2021 میں اوسط ماہانہ اجرت تقریباً 24,028 روپے تھی جو 2024-25 میں بڑھ کر 39,042 روپے ہوگئی۔ بظاہر یہ 62 فیصد کا اضافہ لگتا ہے، مگر اسی عرصے میں خوراک، بجلی، گیس، پٹرول اور روزمرہ کی اشیا کی قیمتوں نے اس اضافے کا بڑا حصہ نگل لیا۔
مزید تشویشناک بات یہ ہے کہ 2024-25 میں اوسط ماہانہ گھریلو آمدنی 82,179 روپے تھی، جبکہ اسی گھرانے کا اوسط ماہانہ خرچ 79,150 روپے تک پہنچ چکا تھا۔ یعنی اوسط آمدنی اور اوسط اخراجات کے درمیان فرق محض تقریباً 3,000 روپے رہ گیا۔ ایسے گھر میں بچت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں قرض کا سہارا لینا مجبوری بن جاتا ہے۔

خوراک کی سلامتی: سب سے بڑا سوالیہ نشان
اقوام متحدہ کی ’اسٹیٹ آف فوڈ سیکیورٹی اینڈ نیوٹریشن اِن دی ورلڈ 2026‘ رپورٹ نے صورتحال کا ایک تشویشناک پہلو بے نقاب کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس پاکستان کی 63 فیصد آبادی، یعنی تقریباً 16 کروڑ 10 لاکھ افراد، ایک وقت کی مناسب اور صحت بخش خوراک خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتی تھی۔ جنوبی ایشیا میں صحت بخش خوراک نسبتاً کم قیمت پر دستیاب ہونے کے باوجود اسے خرید پانے والے پاکستانیوں کا تناسب خطے میں کم ترین سطح پر ہے۔
معاشی ماہر عابد قیوم سلہری نے ان اعداد و شمار کو قابل اعتماد قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ تخمینے پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے ہاؤس ہولڈ انکم اینڈ ایکسپینڈیچر سروے پر مبنی ہیں۔ ان کے مطابق غربت میں اضافے کے ساتھ امیر اور غریب کے درمیان فرق بھی بڑھ رہا ہے۔ جب گھر کا زیادہ تر بجٹ خوراک، کرایے، بجلی اور گیس جیسے اخراجات میں چلا جائے تو تعلیم اور صحت کے لیے بہت کم رقم باقی رہ جاتی ہے، جس کے اثرات بچوں کے مستقبل پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
بچوں کی غذائیت کا پہلو تو اور بھی افسوسناک ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق پانچ سال سے کم عمر تقریباً ہر تین میں سے ایک پاکستانی بچہ عمر کے لحاظ سے مطلوبہ جسمانی نشوونما حاصل نہیں کر پاتا، جبکہ غذائی قلت اور خون کی کمی بھی بڑے مسائل میں شامل ہیں۔

غربت کے بڑھتے اعداد و شمار
2018-19 سے 2024-25 کے دوران پاکستانی گھرانوں کی اوسط ماہانہ آمدنی 41,545 روپے سے بڑھ کر 82,179 روپے ہوئی، لیکن اسی عرصے میں فی کس غربت کی لکیر بھی 3,758 روپے سے بڑھ کر 8,484 روپے ہوگئی۔ مہنگائی کو مدنظر رکھنے کے بعد حقیقی آمدنی میں تقریباً 13 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ غربت کی شرح 21.9 فیصد سے بڑھ کر 28.9 فیصد ہوگئی۔
عالمی بینک کے مطابق 2023-24 تک غربت کی شرح بڑھ کر 25.3 فیصد تک پہنچنے کا تخمینہ لگایا گیا، جبکہ تقریباً 13 ملین مزید پاکستانی غربت کی لکیر سے نیچے چلے گئے۔ عالمی بینک نے خبردار کیا ہے کہ شرح نمو اب بھی کمزور ہے اور غربت میں کمی ایک بڑا چیلنج برقرار ہے۔
گیلپ پاکستان کے اعداد و شمار بھی ایک مختلف تصویر پیش کرتے ہیں: 2019 سے 2025 کے دوران اوسط گھریلو آمدنی شہری پاکستان میں 11 فیصد کم ہوئی، جبکہ دیہی علاقوں میں معمولی اضافہ ہوا اور مجموعی طور پر گھریلو آمدنی میں 3 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
برائے نام اور حقیقی: موازنہ
| اشاریہ | برائے نام صورتحال | حقیقی صورتحال |
|---|---|---|
| اوسط ماہانہ اجرت | 24,028 سے 39,042 روپے (62 فیصد اضافہ) | مہنگائی نے اضافے کا بڑا حصہ نگل لیا |
| ماہانہ گھریلو آمدنی | 41,545 سے 82,179 روپے | حقیقی آمدنی میں تقریباً 13 فیصد کمی |
| غربت کی شرح | شرح نمو 3.70 فیصد | 21.9 فیصد سے بڑھ کر 28.9 فیصد |
| خوراک کی استطاعت | فی کس آمدنی 1,901 ڈالر | 63 فیصد آبادی صحت بخش خوراک سے محروم |
کالم نگار کی رائے
یہاں اصل سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر مجموعی معیشت بہتر ہورہی ہے تو اس بہتری کا اثر عام آدمی کی جیب میں کیوں محسوس نہیں ہورہا؟ اگر ایک مزدور، ملازم، چھوٹے دکاندار یا متوسط گھرانے کو مہینے کے آخر میں یہ سوچنا پڑے کہ بجلی کا بل دیں، بچوں کی فیس دیں، راشن خریدیں یا دوا لیں، تو اس معاشی بحالی کا عام آدمی کے لیے عملی مطلب کیا ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں برائے نام آمدنی بڑھی ہے، مگر حقیقی قوت خرید اس رفتار سے نہیں بڑھی۔ حکومت کے لیے معاشی استحکام ایک کامیابی ہوسکتا ہے، لیکن گھر کے بجٹ میں مسلسل کمی عام شہری کے لیے اسے کامیابی محسوس نہیں ہونے دیتی۔
عام پاکستانی کو شرح نمو کے خوبصورت ہندسے نہیں، اپنی جیب میں بڑھتی ہوئی قوت خرید چاہیے۔ اسے یہ جاننے سے زیادہ دلچسپی ہے کہ اس کی تنخواہ سے مہینے کا راشن پورا ہوتا ہے یا نہیں، بچوں کی فیس ادا ہوسکتی ہے یا نہیں اور بجلی کا بل دینے کے بعد گھر چلانے کے لیے کچھ باقی بچتا ہے یا نہیں۔ اسی لیے وطن نیوز کی اردو ویب سائٹ پر معاشی موضوعات پر ہونے والی ہر بحث اسی نکتے پر آکر ٹھہرتی ہے۔
چنانچہ معاشی کامیابی کا اصل پیمانہ یہ نہیں کہ حکومت کتنے فیصد شرح نمو کا اعلان کرتی ہے یا عالمی ادارے کتنے اچھے تبصرے کرتے ہیں۔ اصل امتحان یہ ہے کہ عام آدمی کی حقیقی آمدنی، روزگار، بچت اور معیار زندگی میں کیا بہتری آئی۔ اگر یہ بہتری نظر نہیں آتی تو صرف معاشی بحالی کے دعوے عوام کے غصے اور بے چینی کو کم نہیں کریں گے بلکہ سرکاری دعووں اور عوامی تجربے کے درمیان بڑھتا ہوا فاصلہ مزید بداعتمادی پیدا کرسکتا ہے۔
خلاصہ
اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ پاکستان کی معیشت استحکام کی طرف بڑھ رہی ہے، مگر اسی اعداد و شمار سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ عام آدمی کی حقیقی آمدنی کم ہوئی، غربت بڑھی اور صحت بخش خوراک کروڑوں کی پہنچ سے دور ہوگئی۔ جب تک معاشی پالیسی کا مرکز شرح نمو کے ہندسے نہیں بلکہ عوام کی قوت خرید اور معیار زندگی ہوگا، تب تک یہ بحالی عام آدمی کے لیے محض ایک دعویٰ رہے گی۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
کیا پاکستان کی معیشت واقعی بہتر ہو رہی ہے؟
شرح نمو 3.70 فیصد رہی اور فی کس آمدنی بڑھنے کے دعوے کیے گئے ہیں، مگر عالمی بینک اور آئی ایم ایف کے مطابق شرح نمو کمزور ہے، مہنگائی کا دباؤ بڑھ رہا ہے اور غربت میں کمی ایک بڑا چیلنج ہے۔
عام آدمی کو معاشی بحالی کا فائدہ کیوں نہیں پہنچ رہا؟
برائے نام اجرت بڑھی مگر مہنگائی نے اس کا بڑا حصہ نگل لیا۔ ماہانہ آمدنی اور اخراجات کا فرق محض 3,000 روپے رہ گیا ہے، اس لیے حقیقی قوت خرید نہیں بڑھی۔
خوراک کی سلامتی کی صورتحال کیا ہے؟
اقوام متحدہ کی 2026 کی رپورٹ کے مطابق 63 فیصد پاکستانی صحت بخش خوراک خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے، اور پانچ سال سے کم عمر ہر تین میں سے ایک بچہ مطلوبہ جسمانی نشوونما حاصل نہیں کر پاتا۔